شہر سے دور پیارا ہے گاؤں وہاں
میری ماں ہے مری دھوپ چھاؤں وہاں
گرچہ آئے وہاں سے ہے مدت ہوئی
جاگزیں اس کے دل میں ہے چاہت ہوئی
اس کی خوشبو بسی میرے پِندار میں
جو جھلکتی ہے اب میرے اشعار میں
اس تعلق کو بتلاؤ کیا نام دوں
اس محبت کو کیسے میں انجام دوں
سوچتا ہوں کہ اک بار ہو آؤں میں
دیکھ لوں جا کے اپنا کبھی گاؤں میں
اس کی مٹی کو آنکھوں سے میں چوم لوں
اس کی گلیوں میں اک بار پھر گھوم لوں
مال و دولت کوئی کم بنایا نہیں
بس اسی کو کہیں اور پایا نہیں

0
2