| جو مدتوں تیرے شہرِ الفت سے میں جدا تھا |
| تجھے پتہ ہے کہ تیری یادوں سے رابطہ تھا |
| میں سوچتا ہوں جو ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو |
| تو خود سے کہتا ہوں کتنا دل کش وہ سلسلہ تھا |
| اداس تجھ کو جو دیکھتا دل اداس ہوتا |
| تو خوش دکھے تو یہ دل ترے ساتھ ناچتا تھا |
| سنوارتا تھا میں وقتِ رخصت جو زلف تیری |
| تو میرے جانے کے بعد گھر کو سنوارتا تھا |
| مگن تھے ایسے ہم ایک دوجے کی چاہتوں میں |
| کوئی جو دیکھے تو ایک جاں ہم کو جانتا تھا |
| ہماری آپس میں جس طرح سے بنی ہوئی تھی |
| تو کیا برا تھا جو ساتھ رہنے کا فیصلہ تھا |
| کمال ہے جو بچھڑ کے بھی اپنی کٹ گئی ہے |
| مجھے نہیں تھا، بتا تجھے اتنا حوصلہ تھا |
معلومات