دکھوں سے چور دل کو کیا سفر کا حوصلہ ملے
قدم بڑھاؤں میں مگر کوئی تو ہم نوا ملے
محال سانس ہے مجھے کہیں سے تو ہوا ملے
میں درد کی دوا کروں جو درد کا پتہ ملے
تجھے میں آسمان پر چمکتا دیکھتا رہوں
اداس ہوتا ہوں جو تو اداس سا ہوا ملے
تجھے جو دیکھ لوں میں درد میں یوں بے قرار تو
نہ کوئی پھول پھر جہان میں کھلا ہوا ملے
تری مہک کو یہ فضا ترس گئی ہے یار اب
مری دعا ہے ایک دن تو ایک دم سے آ ملے

0
3