عشق چاہت وفا دوستی ہے حسین
دل نشیں داستاں عزم کی ہے حسین
سارا کنبہ سپردِ خدا کر دیا
اک عجب طرز کی بندگی ہے حسین
وہ جو تاریکیوں میں اجالے کرے
علم کے باب کی روشنی ہے حسین
چھوڑ کر اپنا لشکر خدا کا ہوا
حر پہ جب یہ کھلا، راستی ہے حسین
ان کو راہِ وفا میں شہادت ملی
اور ملی تا ابد زندگی ہے حسین
آؤ آلِ محمد پہ بھیجیں سلام
اس گلستان کی اک کلی ہے حسین

0
3