ہم بری آنکھ کو بیکار دکھائی دیں گے
خوش نظر ہی کو ہنر یار دکھائی دیں گے
ہم سے محنت میں کوئی جیت نہیں پائے گا
ہم مشقت کے طلب گار دکھائی دیں گے
جن کو پردیس میں پھینکا تھا سمجھ کر کمتر
اپنے پاؤں پہ وہ خود دار دکھائی دیں گے
ہم تو غدار نہیں غور سے دیکھو تو سہی
اپنے گلشن کے وفادار دکھائی دیں گے
گر محبت کبھی بازار میں بکنے آئی
ہم سے کچھ لوگ خریدار دکھائی دیں گے
تم کو نفرت ہی سہی، ہم کو پرکھ کر دیکھو
خود سے اونچے تمھیں کردار دکھائی دیں گے

0
3