| بدلا ہے نہ بدلے گا، یہ رشتہ بھی نہیں بدلا |
| ہم لاکھ جدا تھے، وہ جذبہ بھی نہیں بدلا |
| اک عمر ہوئی لیکن اس دل کی اداسی کا |
| مفہوم نہیں بدلا، چہرہ بھی نہیں بدلا |
| برباد تو ہونا تھا، برباد ہوئے لیکن |
| دیوانوں کی بستی کا، نقشہ بھی نہیں بدلا |
| صحرا کی طرف نکلے، پیروں میں وہی چھالے |
| برسوں سے مسافر کا، رستہ بھی نہیں بدلا |
| جس خواب کی خاطر ہم، دنیا سے الجھتے تھے |
| تعبیر نہیں پائی، تو سپنا بھی نہیں بدلا |
| شکوہ ہے زمانے سے، نہ شکوہ ہے مقدر سے |
| حالات بدلنے پر، اپنا بھی نہیں بدلا |
معلومات