دل سے اب ہر ایک خواہش، ہر پکارے مسترد
تُو نہیں تو زندگی کے یہ خسارے مسترد
ہم نے اِک تیرے سوا دیکھا نہیں کوئی جمال
اب نظر کی حد میں جتنے ہیں نظارے، مسترد
جس میں شامل ہو نہ تیرے پاؤں کی آہٹ کا لمس
ہم کو اپنے گھر کے وہ روشن دِوارے مسترد
جس طرف سے تُو نہ آئے، جس طرف تیرا نہ ہو
راہ کے وہ موڑ سارے، وہ اشارے مسترد
چاہتوں میں جب وفا کا کوئی امکاں ہی نہیں
پھر یہ جھوٹے دِلا سے، اور یہ دِلاسے مسترد
ہم سفر جب تُو نہیں تو کیا سفر، کیسی ڈگر؟
اب سمندر کے ہمیں تو یہ کنارے مسترد
عشق کی بازی میں عادلؔ جب وہ ہی جیتا نہیں
جیت کے دعوے ہیں جتنے، ہم نے ہارے مسترد

0
4