| صدا فقیر کی سب حکمراں ذرا سن لو |
| مگر ضمیر تمہارا ہے مر چکا سن لو |
| ہمارا ووٹ تمھیں کرسیاں دلاتا ہے |
| کبھی تو آ کے ہمارا بھی مدعا سن لو |
| عیا شیاں بھی بہت ہو چکیں مگر اب تو |
| عوام کا بھی کوئی کر ہی دو بھلا، سن لو |
| تمہارے کان پہ جوں بھی کبھی نہیں رینگی؟ |
| یہی تو ڈھیٹ پ ۔نے کی ہے انتہا، سن لو |
| حقوق ہم کو ہیں قانون نے دیے سارے |
| نہیں ہے کوئی بھی قانون سے بڑا سن لو |
| قریبِ مرگ ہے مفلس، ہے آخری فریاد |
| تمھیں خدا کا میں دیتا ہوں واسطہ سن لو |
| تمہارے فیصلے انصاف ہی پہ مبنی ہوں |
| تمھیں ہے منصفو! مسند ہوئی عطا سن لو |
| ہماری جان فصیلوں میں بھی نہیں محفوظ |
| جو ہو سکے تو محافظ بھی یہ گلہ سن لو |
| چلو تمام ادارے سنبھالو اپنا کام |
| نیا ہے ولولہ اور دور ہے نیا سن لو |
معلومات