اس نے پوچھا، کہ کیا ماجرا دل کا ہے
پھر کہا میں نے جو مدعا دل کا ہے
ہجر ہو وصل ہو چین ہی چین ہے
دسترس میں اگر سلسلہ دل کا ہے
کر لے قائل یہ دل ذہن کو ہاں مگر
کب ضمیر اب کہا مانتا دل کا ہے
جس نے توڑا اِسے جس نے روندا اِسے
اُس ستمگر سے کیوں رابطہ دل کا ہے
قہر ٹوٹے جو دل پر وہ کیسے کہوں
ہے دھڑکتا ابھی، حوصلہ دل کا ہے
دل کہے ور غلایا مجھے آنکھ نے
آنکھ کہتی ہے سارا گنہ دل کا ہے

0
2