| جو عاشق ہیں کب مرنے سے ڈرتے ہیں |
| دیپ کی لو پر پروانے ہی مرتے ہیں |
| وہ بوڑھا ہی بس اک کام کا بندہ تھا |
| یہ نالائق بس باتیں ہی کرتے ہیں |
| ٹوٹے پھوٹے کچھ اسباب کے ساتھ فقط |
| اس نے بتایا کیسے کام سنورتے ہیں |
| اس کے سامنے پانی بھرنے والے لوگ |
| آج وطن کے مال سے جیبیں بھرتے ہیں |
| اب تو وسائل والی حکومت بے بس ہے |
| عہدے والے وعدے کر کے مکرتے ہیں |
| بغض حسد سے وہ تو دور رہا اکثر |
| نام کے عالم خود ہی لڑتے مرتے ہیں |
معلومات