| شام ڈھلے جو سائے چلنے لگتے ہیں |
| آدم زاد بھی رنگ بدلنے لگتے ہیں |
| رات کے پچھلے پہر جو تیرگی بڑھتی ہے |
| ہر اک بام سے چاند نکلنے لگتے ہیں |
| لہجوں میں تو زہر ہے ان سانپوں کا، جو |
| دوست کے روپ میں گھر میں پلنے لگتے ہیں |
| خاص دھواں چہروں پر دکھتا ہے، جب بھی |
| دل نفرت کی آگ میں جلنے لگتے ہیں |
| جب میعاد دماغ کی پوری ہوتی ہے |
| پاؤں قبر کی جانب چلنے لگتے ہیں |
| جب تقدیر نے کھیل رچانا ہوتا ہے |
| خشک جگہ پر پیر پھسلنے لگتے ہیں |
معلومات