| روح عریاں، بدن برہنہ ہے |
| لاکھ پردوں میں من برہنہ ہے |
| چن لیے پھول سارے گلچیں نے |
| بے ثمر ہے چمن، برہنہ ہے |
| چادریں چڑھ گئیں مزاروں پر |
| اور مفلس کا تن برہنہ ہے |
| مر چکی ہے حیا تو اس کی لاش |
| آج تک بے کفن برہنہ ہے |
| ہیں سیاست کے کام بے پردہ |
| اور میرا وطن برہنہ ہے |
| روح عریاں، بدن برہنہ ہے |
| لاکھ پردوں میں من برہنہ ہے |
| چن لیے پھول سارے گلچیں نے |
| بے ثمر ہے چمن، برہنہ ہے |
| چادریں چڑھ گئیں مزاروں پر |
| اور مفلس کا تن برہنہ ہے |
| مر چکی ہے حیا تو اس کی لاش |
| آج تک بے کفن برہنہ ہے |
| ہیں سیاست کے کام بے پردہ |
| اور میرا وطن برہنہ ہے |
معلومات