روح عریاں، بدن برہنہ ہے
لاکھ پردوں میں من برہنہ ہے
چن لیے پھول سارے گلچیں نے
بے ثمر ہے چمن، برہنہ ہے
چادریں چڑھ گئیں مزاروں پر
اور مفلس کا تن برہنہ ہے
مر چکی ہے حیا تو اس کی لاش
آج تک بے کفن برہنہ ہے
ہیں سیاست کے کام بے پردہ
اور میرا وطن برہنہ ہے

0
2