| مسجد مینار گراتے ہو |
| پھر مسلم بھی کہلاتے ہو |
| بوگس دستور چلاتے ہو |
| قبروں کے کتبے ڈھاتے ہو |
| وہ رحمتِ عالم ہیں جن پر |
| تم حق اپنا جتلاتے ہو |
| وہ تو دنیا کے محسن تھے |
| اخلاق نہ تم اپناتے ہو |
| کیوں چرچ کلیسا مندر کو |
| نفرت کی نظر چڑھاتے ہو |
| محفوظ نہیں کوئی تم سے |
| کیوں دل معصوم دکھاتے ہو |
| حق قریہ قریہ پھیل گیا |
| تم حق سے آنکھ چراتے ہو |
| الفاظ کا کھیل نہ کھیلو تم |
| بڑھ چڑھ کر بات بناتے ہو |
| تقدیر الہی طیش میں ہے |
| دل باتوں سے بہلاتے ہو |
| آئین پہ تم کو ناز بھی ہے |
| پرزے بھی اس کے اڑاتے ہو |
| تم لوٹ گھسوٹ کے عادی ہو |
| پر گیت انصاف کے گاتے ہو |
معلومات