بات بے بات یہ دھرنا ہے
آخر کچھ تو کرنا ہے
روز بیان بدلتے ہیں
لیڈر خود کو سمجھتے ہیں
اک دوجے کے نام دھریں
خود نہ گریباں میں جھانکیں
غنڈے ہیں حاکم سارے
بد کردار بھی ہیں پیارے
اک دوجے کو کہیں غدار
پر ہیں مال کے سب حقدار
تبدیلی اک سپنا تھا
منصوبہ تو اپنا تھا
گرچہ خاصا گندا ہے
پر نیتا کا دھندہ ہے
کیا کرنا ہے ووٹوں کا
کھیل ہے سارا نوٹوں کا
تنگ غریب ہے غربت سے
اس کو کیا ہے سیاست سے
مہنگائی نے مارا ہے
مشکل ان کا گزارا ہے
لیڈروں پر یہ مرتے ہیں
حال برا خود کرتے ہیں

0
3