| جس دن سے تو میرے دل کا پیر بنا |
| تیری نظر کا میں اس دن سے اسیر بنا |
| کایا پلٹ کے رکھ دی تو نے میری تو |
| اہلِ وفا کی تو ہی تو تقدیر بنا |
| کافی سکوں ملتا ہے تیری صحبت میں |
| تیرا قافلہ بڑھ کر جمِ غفیر بنا |
| تجھ سے پہلے بھی اک شخص کو چاہا تھا |
| اب تو عشق محبت کی تصویر بنا |
| خوش بختی کی بات ہے کتنی میرے لیے |
| میں ادنی بھی تیرے در کا فقیر بنا |
| دنیا کی چاہت کو دل سے نکال دیا |
| پیار ترا ہے اس دل کی جاگیر بنا |
| مجھ کو نہیں اب چاہیے دولت اور عہدہ |
| اب دنیا میں تو میری توقیر بنا |
معلومات