جس دن سے تو میرے دل کا پیر بنا
تیری نظر کا میں اس دن سے اسیر بنا
کایا پلٹ کے رکھ دی تو نے میری تو
اہلِ وفا کی تو ہی تو تقدیر بنا
کافی سکوں ملتا ہے تیری صحبت میں
تیرا قافلہ بڑھ کر جمِ غفیر بنا
تجھ سے پہلے بھی اک شخص کو چاہا تھا
اب تو عشق محبت کی تصویر بنا
خوش بختی کی بات ہے کتنی میرے لیے
میں ادنی بھی تیرے در کا فقیر بنا
دنیا کی چاہت کو دل سے نکال دیا
پیار ترا ہے اس دل کی جاگیر بنا
مجھ کو نہیں اب چاہیے دولت اور عہدہ
اب دنیا میں تو میری توقیر بنا

0
5