| کوئی افلاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے |
| مٹی، پوشاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے |
| بند ہے اپنی ضرورت کے قفس میں ہر شخص |
| قیدی اس باک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے |
| ایک ہی دھن ہے کہ بھر جائے تہی دست کا پیٹ |
| بھوکا اب ساک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے |
| جس کے دامن پہ لگے ہوں کئی پیوندِ گناہ |
| وہ مگر خاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے |
| جن کو عادت ہے فقط دوسروں کو ڈسنے کی |
| زہر یا ناگ سے آگے کی کہاں سوچتا ہے |
| ساری دنیا ہی غرض کی ہے اسیر اے بادل! |
| کوئی لولاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے |
معلومات