عدل کی جیت ہار اپنی جگہ
اور وکیلی پکار اپنی جگہ
لاکھ تفصیل سامنے لائیں
باتیں ہیں بے شمار اپنی جگہ
جرم ثابت بِنا ثبوت کے ہے
عدل کا اعتبار اپنی جگہ
چور آزاد پھر رہے ہیں یہاں
خوش ہے کیوں پہرے دار اپنی جگہ
پھر سے اب انتخاب آئے گا
ووٹ کا کاروبار اپنی جگہ
لڑکھڑاتا ہے اب نظام مگر
حکمراں کا خمار اپنی جگہ
یہ تو رہتی نہیں کسی کی سدا
تیرا کرسی سے پیار اپنی جگہ
یہ زمانے کی تابناکی دیکھ
پر ہے قدرت کا وار اپنی جگہ
کوئی کتنا بھی خاص سورما ہو
وقت کی سخت مار اپنی جگہ

0
5