دل کے احوال صاف کرتا ہوں
رو کے خود کو معاف کرتا ہوں
تیرے رستے کی خاک چنتا ہوں
شوق کا اعتکاف کرتا ہوں
مجھ کو دنیا غریب کہتی ہے
میں خدا سے طواف کرتا ہوں
میری آنکھیں نماز پڑھتی ہیں
اشک سے غسلِ ناف کرتا ہوں
درد جتنا شدید ہوتا ہے
اس سخی سے ملاپ کرتا ہوں

0
4