گڑیا پٹولے کھیلتے بچے کتنی جلدی جوان ہوئے
دیکھتے دیکھتے امی ابو اس گھر کے مہمان ہوئے
کون رہا ہے دنیا میں بس یادیں ہی رہ جاتی ہیں
ہنستے بستے کتنے گھر تھے جو پل میں ویران ہوئے
بیتنے والا ہر اک لمحہ ماضی میں کھو جاتا ہے
شہر یہاں آباد تھے کتنے، اور کتنے سنسان ہوئے
لوگ وہی جو دھڑکن بن کر دل میں دھک دھک کرتے تھے
اتر گئے وہ یاد سے کیسے ہم خود بھی حیران ہوئے
اللہ حافظ سب کو اک دن ہونا ہے اس دنیا سے
نام امر ہے ان کا امن کی خاطر جو قربان ہوئے

0
1