| ہاتھ چھو کر بھی وہ دوری کے زمانے مانگے |
| بے رخی دیکھ کہ ملنے کے بہانے مانگے |
| ہم تو مٹ کر بھی رہے مائلِ تسلیم و رضا |
| دل وہ ناداں کہ اب اُجڑے ہوئے دانے مانگے |
| اب جو آئے ہیں تو کیوں خوفِ زیاں ہے اتنا |
| کل یہی تھا کہ محبت کے خزانے مانگے |
| ایک ہم ہیں کہ لٹا بیٹھے ہیں ہستی اپنی |
| ایک وہ ہے کہ وہی عہدِ پرانے مانگے |
| تیرگی راس ہے اب روح کو ایسی اپنی |
| روشنی آئے تو چھپنے کے ٹھکانے مانگے |
| عمر بھر جس نے دیئے زخم ہمیں تحفے میں |
| آج بیٹھا ہے تو مرہم کے فسانے مانگے |
| ہم تو ساحل کی لکیروں کی طرح مٹ بھی گئے |
| موجِ دریا ہے کہ اب تک وہ نشانے مانگے |
معلومات