Circle Image

Zeshan khan khaki

@danish

تضمین کلام اعلیحضرت
حضور سیدی سندی آقائی مرشدی
غوث الاعظم رضی اللہ عنہ
از قلم سگ راہ مدینہ
خواجہ محمد ذیشان خان اختر القادری چشتی نظامی قلندری
شان اونچی ہے تری سلسلہ اعلی تیرا

46
دوا ہی دوا ہے مدینے کا پانی
شفا ہی شفا ہے مدینے کا پانی
مدینے میں رہتے جو خوش بخت ان کا
مقدر بنا ہے مدینے کا پانی
مدینے کی آب و ہوا عشق والی
وفا ہی وفا ہے مدینے کا پانی

21
ان کی الفت کے قدر داں تھے ہم
خوب ہی ان پہ مہرباں تھے ہم
وقت کی گردشوں نے جکڑا تھا
وہ یہ سمجھے کہ بد گماں تھے ہم
کہہ لیا ۔سن لیا ۔خموش رہے
تم نے سمجھا کہ بے زباں تھے ہم

49
دل میں میرے سجے محمد ہیں
فکر میں بھی بسے محمد ہیں
شبِ اسری خدا سے ملنے کو
لامکاں کو چلے محمد ہیں
کیوں نہ نازاں ہوں اپنی قسمت پر
فضلِ رب ہے ملے محمد ہیں

11
مرحبا آمد ہوئی ہے احمدِ مختار کی
نعمتِ کبری ولادت ہے شہِ ابرار کی
اے مرے مولا ثنائے مصطفی کے باب میں
نعت مجھ کو بھی عطا ہو مخزنِ اسرار کی
شادمانی کا سما ہے وجد میں ہے کائنات
دہر میں آمد ہوئی ہے نبیوں کے سالار کی

25
مرحبا آمد ہوئی ہے احمدِ مختار کی
نعمتِ کبری ولادت ہے شہِ ابرار کی
اے مرے مولا ثنائے مصطفی کے باب میں
نعت مجھ کو بھی عطا ہو مخزنِ اسرار کی
شادمانی کا سما ہے وجد میں ہے کائنات
دہر میں آمد ہوئی ہے نبیوں کے سالار کی

49
مدتوں بعد میں نے دیکھا قمر شام کے بعد
دیکھ کے اس کو رہی تکتی نظر شام کے بعد
ایسے ناکام تمنا کبھی پہلے تو نہ تھے
اس کی یادوں نے کیا ہے یہ اثر شام کے بعد
کہا اس نے تھا مجھے صبح کو مل بیٹھے گے
ہوسکی پھر نہ کبھی اسکی سحر شام کے بعد

15
اک کہانی زندگی
تھی سہانی زندگی
وقت کی رفتار تھی
اور نمانی زندگی
پہلے کا وہ دور تھا
تھی دوانی زندگی

32
عشق میں در در پھرائے زندگی
بندے کو جوگی بنائے زندگی
وقت کا احساس اس کو کب رہا
جس کو دیوانہ بنائے زندگی
دیکھا ہم نے بار ہا یہ ماجرا
آدمی کو ہے رلائے زندگی

40
تیرے احسان و عطائیں اے خدا یاد نہیں
حبِ دنیا میں ہوئے گم کہ رضا یاد نہیں
کھو چکے شرم وحیا غیروں کی تقلید میں ہم
ہوئےہیں نفس کے قیدی کہ بھلا یاد نہیں
ہمیں معلوم ہے کے تیری عبادت لازم
ہائے غفلت کہ کوئی سجدہ ترا یاد نہیں

14
آپ کی یادوں سے دل میں پیدا ہے خود رفتگی
کانوں میں رس گھولتی ہے یادوں کی یہ نغمگی
نام پاکِ مصطفی کی عظمت و تاثیر ہے
قلب بھی روشن ہوا ہے فکر میں پاکیزگی
کیوں نہ جگمگ ہو مرا گھر بار میرے گھر میں ہیں
موئے اطہر جان رحمت جو ہیں میری زندگی

12
بے فیض ہی رہ جاتے سرکار کدھر جاتے
ٹھوکر جہاں میں کھاتے سرکا ر کدھر جاتے
احسان ہے یہ رب کا کلمہ تیرا پڑھا ہے
حاشا یوں ہی رہ جاتے سرکار کدھر جاتے
رحمت ہو کل جہاں کی نعمت ہو کبریا کی
گر آپ کو نا پاتے سرکار کدھر جاتے

56
کس کی عظمت ہے شہا آپ کی عظمت کی طرح
کس کی رفعت ہے شہا آپ کی رفعت کی طرح
چاند تارے ہو یا سورج تری ضو سے روشن
ان کی طلعت ہو کیوں پھر آپ کی طلعت کی طرح
انبیاء جتنے بھی آئے ہیں سبھی کے لب پر
تیرے آنے کا ہی تھا چرچا بشارت کی طرح

20
کلام بحضور ولی کامل صوفی باصفا فنا فی اللہ آفتاب ولایت حضور سیدی سندی آقائی مرشدی حضرت حافظ سید وارث علی شاہ علیہ الرحمۃ الرضوان
رنگ دو اپنے ہی رنگ میں وارث
رنگ ہے تیرے سنگ میں وارث
رنگ کے تیرے میں متوالا
بھردو انگ میں انگ میں وارث
میلا ہوا ہو ں مورے پیا میں

1
40
تو ہے رب کا ولی حاجی وارث علی
شان تیری بڑی حاجی وارث علی
دیوہ تیری زمیں تیرے زیرِ نگیں
تیری دھو میں مچی حاجی وارث على
آل مولی علی جان سبطین ہو
سیدی مرشدی حاجی وارث على

59
مرے آقا ہو محبوبِ خدا آخر نبی تم ہو
مرے آقا نویدِ انبیاء آخر نبی تم ہو
ہے فرمانِ خدا نبیوں کے مولا تم ہی خاتم ہو
نہ کوئی بعد تیرے آئیگا آخر نبی تم ہو
جہاں بھر میں عقیدہ ہے مسلم تو یہی بس ہے
نبوت ختم ہے تم پر شہا آخر نبی تم ہو

77
آج بھی ان کے پرستار ہیں ہم
ان کی الفت میں گرفتار ہیں ہم
وہ بھلے مجھ سے جفا کرتے رہیں
عشق میں صاحبِ کردار ہیں ہم
نکلے ہو بیچنے پندار حسن
بیچ دو ہم کو خریدار ہیں ہم

24
مری فکر یوں ان کے در پر چلی ہے
تصور میں روضے کی جالی ڈھلی ہے
رہوں مست بس یاد میں تیری آقا
ہر اک فکر سے فکر بس یہ بھلی ہے
ہے نامِ محمد میں تاثیر ایسی
لیا نام ہر ایک مشکل ٹلی ہے

77
انسان ہوں میں شمع کا پروانہ نہیں ہوں
چھیڑو نہ مجھے میں کوئی دیوانہ نہیں ہوں
بیٹھا ہوں پیا یاد میں تم سمجھے بھلا کیا
ہیں ان سے مراسم کوئی انجانا نہیں ہوں
ظاہر پہ نہ تو حکم دے اس حال پہ میرے
میں عشق سے آباد ہوں ویرانہ نہیں ہوں

72
میلا کہا تھا اس کونہانے کے بعد بھی
رونے لگا وہ باتیں سنانے کے بعد بھی
چائے پکوڑے رول اڑانے کے بعد بھی
وہ روٹھتا رہا ہے منانے کے بعد بھی
چہرہ ہے ہونق سا لگے بے وقوف سا
دھوکا ہے کھایا اس کے بدلنے کے بعد بھی

34
ان کی رحمت سحاب کی سی ہے
اور سیرت نا یاب کی سی ہے
یا رسولِ خدا مدد ہو مری
حالت اب اضطراب کی سی ہے
دل کو کر دیجئے شہا بلبل
اس کی حالت غراب کی سی ہے

63
درِ مصطفے پر جو آ یا گیا ہے
وہ خوش بخت کیا ہی نبھایا گیا ہے
گئے ہیں وہی ان کے دربار عالی
جنہیں خود وہاں سے بلایا گیا ہے
خدا نے کہا جن کو محبوب ان کو
سرِ عرش مہماں بنایا گیا ہے

36
نگاہِ لطف کردیں میری ہستی گلستاں کرکے
مرے دل کو بدل دیں اس کو اپنا آستاں کرکے
جہاں جاؤں جدھر دیکھوں وہا ں جلوے تمھارے ہوں
مرے سرور کرم کر دیں مجھے یوں شادماں کرکے
حضوری ہو مرے آقا مری قسمت چمک اٹھے
منور کر دیں خلوت بھی زرا جلوہ عیاں کر کے

37
کرنا اب کیا ہے بتا عشق میں خواہش کرکے
اپنے جذبات کی اس درجہ نمائش کرکے
تہمتیں خود ہی لگا کر ہے ستایا مجھ کو
اور اب رعب جماتا ہے یہ سازش کرکے
جب کبھی بات ہے کی تو نے وفا کی ساجن
تو سراہا ہے تجھے تیری ستائش کر کے

89
وہ سمجھتے ہیں کیا جفا کرکے
ٹوٹ جائیں گے ہم وفا کرکے
بھو ل ہے ان کی بھول پائیں گے
مجھ کو یوں غم سے آشنا کرکے
خوش رہوں گے وہاں پہ تم کیسے
یاں پہ طوفان غم بپا کرکے

82
تھکا میں نہیں ہو ں تھکایا گیا ہے
یوں ہی بے وجہ آز مایا گیا ہے
محبت ہی کی تھی غلط کیا ہے اس میں
کوں دل کو ہمارے جلایا گیا ہے
اے منصف بتا دے تو اب یہ حقیقت
میں ہارا نہیں ہوں ہرایا گیا ہے

44
مرے نصیب میں ایسا قیام ہو جائے
درِ رسول پہ ہستی کی شام ہو جائے
سجائے بیٹھا ہوں دل کو اس لئے مولا
نگاہِ ناز کا دل پر خرام ہو جائے
جدھر نظر ہو ادھر جلوے آپ کے دیکھوں
دل و نگاہ میں یہ اہتمام ہو جائے

52
ان کی یادوں سے دل نگینہ ہے سن
بخت روشن ہے خوب جینا ہے سن
یادِ مرشد سے یاد ملتی ہے
یاد مرشد کی ان کا زینہ ہے سن
بے خبر وہ نہیں خبر ہے انہیں
دل تو حسرت کا اک دفینہ ہے سن

38
کاش میں بھی دیکھ لوں وہ جلوۂ روۓ حسین
اور سما لوں جسم و جاں میں خوشبوۓ روۓ حسین
خوب سیرت خوب صورت خلق میں تھے بے مثال
اور عدو کے واسطے بھی نرم تھی خوئے حسین
بابا تیرے مولا حیدر مصطفے نانا ترے
سیدہ ہیں والدہ شببر ہیں ماں جاۓ حسین

4
53
نہیں تھا کام ان سے کچھ وفا کا
کیا ہے کام جب بھی تو جفا کا
مصیبت میں ہمیشہ چھوڑ جانا
رہا ہے کام ان کا تو دغا کا
نگاہیں پھیر کے او جانے والے
ہے تم کو پاس کچھ شرم و حیا کا

37
کیا گلستاں آل احمد نے لگایا ریت پر
پھول جیسے جسموں کو خود ہی سجایا ریت پر
کارواں پہنچا جو کربل سامنے لشکر کھڑا
حکم پر سید کے پھر خیمہ لگایا ریت پر
جبر کا اک سلسلہ تھا آلِ احمد پر روا
ظالموں نے بے خطاؤں کو ستایا ریت پر

39
ہر بات سے عیاں ہے صداقت حسین کی
گر دیکھنا ہے دیکھو لیاقت حسین کی
کہتے ہیں جو یزید کی غلطی نہیں کوئی
مہنگی پڑے گی تم کو عداوت حسین کی
گستاخ نا ہجار وہ بیکار شخص تھا
اعلی تھی حق پرست تھی بیعت حسین کی

43
دونوں جہاں میں خوب ہے عزت حسین کی
دنیا بھی ہے حسین کی جنت حسین کی
پیارے نبی کے لاڈلے پسرے علی ہیں یہ
اور والدہ ہیں خاتونِ جنت حسین کی
تاجِ صحابیت سے مزین بھی آپ ہیں
آلِ نبی ہیں یوں بھی ہے نسبت حسین کی

29
دونوں جہاں میں خوب ہے عزت حسین کی
دنیا بھی ہے حسین کی جنت حسین کی
پیارے نبی کے لاڈلے پسرے علی ہیں یہ
اور والدہ ہیں خاتونِ جنت حسین کی
تاجِ صحابییت سے مزین بھی آپ ہیں
آلِ نبی ہیں یوں بھی ہے نسبت حسین کی

24
حسین ابن حیدر ولا چاہتا ہوں
ولا ئے خدا اور رضا چاہتا ہوں
ملے کربلا میں بتانے کو کچھ جا
شہا تیرے در کی فضا چاہتا ہوں
وفا دین کی اور پیارے نبی کی
میں تم سے شہا یہ عطا چاہتا ہوں

26
نہیں پوچھ مجھ سے کہ کیا چاہتا ہوں
میں چپ ہوں کہ پردہ ترا چاہتا ہوں
فسانے سنانے کو یوں تو بہت ہے
مگر اس سے میں کچھ سوا چاہتا ہوں
چلو آؤ کھیلیں محبت محبت
محبت ہے کیا دیکھنا چاہتا ہوں

26
کیسا وہ سخت دل رہا آنے کے بعد بھی
ہے دور دور وہ رہا پانے کے بعد بھی
کیسے کہیں یہ اس سے بھلانے کے بعد بھی
دل میں رہا وہ چھوڑ کے جانے کے بعد بھی
رسمِ وفا نبھاتے رہے گاہے گاہے ہم
اسکے ہزار حیلے بہانے کے بعد بھی

30
غمِ حسین میں رونا بڑی عبادت ہے
دلوں میں یاد کا رہنا بڑی سعادت ہے
ہمارے قلب میں دنیا میں اور جنت میں
حسین ابن علی آپ کی سیادت ہے
چلے ہیں کربلا نوری گھرانے والے سب
امام وقت کے ہاتھو ں میں ہی قیادت ہے

43
تمہیں دل سے میں باخدا چاہتا ہوں
یہ اقرا ر تم سے پیا چاہتا ہوں
ملے مستقر مجھ کو بھی تیرے دل میں
تجھی سے تجھی کو سدا چاہتا ہوں
وفاؤں کا اپنی صلہ چاہتا ہوں
سوا اس کے میں اور کیا چاہتا ہوں

42
ہے کس قدر عظیم قرابت حسین کی
ہے سیدہ کے گھر میں ولادت حسین کی
جبریل لے کے آئیں ہیں مولا تمھارا نام
"شبیر"یوں بھی اعلی ہے عظمت حسین کی
دلکش نقوش چہرہ ملاحت ہے نور نور
کیوں کے ہے مصطفی سے شباہت حسین کی

41
آج بھی ڈوبی فضا ہے تیرے غم میں یا حسین
اشک کا سیلِ رواں ہے تیرے غم میں یا حسین
بیتی جو تم پر اے پیارے کون ہے جو سہہ سکے
کہر سا ہر جا بپا ہے تیرے غم میں یا حسین
لاشے اپنوں کے اٹھا کر بھی نہ لب سے آہ کی
آسماں بھی رو پڑا ہے تیرے غم میں یا حسین

73
نیک سیرت زرا بنا خود کو
عادت بد سے بھی بچا خود کو
آدمی خصلتوں سے بنتا ہے
اپنے اوصاف خود سنا خود کو
چاہئے ذات کا اگر عرفاں
عشق میں رب کے تو جلا خود کو

23
آئینہ یار کا بنا خود کو
عشق میں ان کے تو مٹا خود کو
بے کلی پل میں ختم ہو تیری
ان کی یادوں میں تو گما خود کو
بے بسی عشق میں نہیں ہوتی
یہ سبق عشق کا پڑھا خود کو

26
غفلتوں سے زرا جگا خود کو
نیک اب راہ تو چلا خود کو
مشکلیں پل میں ہوگیں آساں سب
راستے رب کے اب تو لا خود کو
شکوہ کرنا نہ اب شکایت تو
مرضئ رب پہ ڈھالے جا خود کو

21
قید سے اپنی تو چھڑا خود کو
کیا ہے تو کچھ نہیں بتا خود کو
جان و دل ہوش سب روانہ کر
ان کا دیوانہ تو بنا خود کو
بے خودی ہی وہاں کا رستہ ہے
بحر الفت میں تو ترا خود کو

18
مضطرب دل مرا ہو اٹھا ہے یادِ مولا حسین آگئی ہے
غم سے سے سینہ میرا جل اٹھا ہے یادِ مولا حسین آگئی ہے
ہے تصور میں میرے وہ منظر قافلہ ہے چلا سوئے کربل
فکر میں ایک طوفاں بپا ہے یادِ مولا حسین آگئی ہے
پہنچے کر بل جو آلِ پیمبر راہ میں تھا لعینوں کا لشکر
گھیر کر صف با صف ہو گیا ہے یادِ مولا حسین آگئی ہے

1
38
نیک سیرت زرا بنا خود کو
عادتِ بد سے بھی بچا خود کو
آدمی خصلتوں سے بنتا ہے
اپنے اوصاف خود سنا خود کو
چاہئے ذات کا اگر عرفاں
عشق میں رب کے تو جلا خود کو

35
آئیے نغمے میں مل کے گاتے ہیں
جشن کی سب خوشی مناتے ہیں
نفرتوں میں ہے کیا رکھا صاحب
دیپ الفت کے اب جلاتے ہیں
اپنے اسلاف کی نشانی کو
ارض امن و اماں بناتے ہیں

40
ڈوبی کشتی کو یہ تراتے ہیں
اور مردوں کو بھی جلاتے ہیں
دل پہ کرتے ہیں راج لوگوں کے
خوب یہ قلب جگمگاتے ہیں
غوث اعظم مدد کریں میری
رنج و غم اب بہت ستاتے ہیں

36
خاص مہمان بن کے جاتے ہیں
جن کو پیارے نبی بلاتے ہیں
دل کو وہ گلستان بناتے ہیں
یاد سرور سے جو سجاتے ہیں
کتنی تاثیر ہے مدینے میں
دل وہیں سب کے کھینچے جاتے ہیں

27
بے سبب خود کو کیوں تھکاتے ہیں
ہم تو کہتے ہیں ٹہر جاتے ہیں
جو بنے عشق کے ہیں دعویدار
دشت میں زندگی گنواتے ہیں
عشق کرنا سزا ہو جاتا ہے
روکنا اس لئے تو چاہتے ہیں

33
جو سخا جود کی لطافت ہے
علی وہ پیکرِ سخاوت ہے
علی تسکین ہے مرے دل کی
علی کا نام ہی حلاوت ہے
علی ہی دفترِ ولایت ہے
علی ہی صاحبِ عنایت ہے

2
45
ہے یہ دل الجھا الجھا سا
ہے فکریں بکھری بکھری سی
رکھا ہےبوجھ بھاری سا
مرے ناقص سے کاندھوں پر
بہت کمزور ہوں مرشد
کہاں ایسی سکت مجھ میں

1
40
وہی بس دوست دل کو بھاتے ہیں
بے غرض یاری جو نبھاتے ہیں
نفسا نفسی میں باوفا جورہے
دل میں تو بس وہی رہ جاتے ہیں
لوگ کیا کیا فریب دیتے ہیں
لوگ کیا کیا فریب کھاتے ہیں

87
ارضِ طیبہ کی شان و عظمت ہے
اس میں پیارے نبی کی تربت ہے
رحمتیں خاص رب کی رہتی ہیں
زرہ زرہ میں یاں کے برکت ہے
نوری ستر ہزار صبح وشام
آتے ہیں کام ان کا مدحت ہے

80
کیا ہی پیاری تری خطابت ہے
ساریہ کی بھی کیا سماعت ہے
اپنے منبر سے رند میں دیکھا
خوب حاصل انہیں فراست ہے
دین کو تم سے ملی ہے نصرت
ایسی اعلی تری شجاعت ہے

110
خصلتیں نیک ہوں سعادت ہے
اس میں ایمان کی حفاظت ہے
پیارے آقا کی پیاری سنت ہے
مسکرانا بھی اک عبادت ہے
جس کو حاصل ہے آپ کی الفت
قلب اس کا ہی باغ جنت ہے

39
نگا میں آپ سا کوئی نہیں ہے
تمھارا دوسرا کوئی نہیں ہے
ہمارے گرد سب اہلِ جفا ہیں
بجز اہلِ وفا کوئی نہیں ہے
ملا ہے گر دغا قسمت ہے میری
نہیں تیری خطا کوئی نہیں ہے

31
چراغ گل بھی ہوا روشنی رہی پھر بھی
نقا ب رخ پہ رہا چاندنی رہی پھر بھی
نگاہ شوخ تھی پر سادگی رہی پھر بھی
ملے ہیں اس سے مگر اک کمی رہی پھر بھی
فراق ختم ہوا تشنگی رہی پھر بھی
جمال یار کی تعریف میں کا بولوں میں

40
تمھاری یاد میں اے کاش میری بیتے زندگی
کرم ہو جائے مجھ پہ بھی کے اب یہ نکھرے ذندگی
بکھرنے اور جڑنے میں پیا ڈھے سا گیا ہوں میں
دعا دے دیجئے کے یوں نہ اب ڈرائے زندگی
بھرو دا من مرادوں سے کہ دل بھی شاد ہو مرا
بہارِ جاں فزا ہو کے مری یہ گزرے زندگی

51
عشق نے بدلی ہماری زندگی
گزرے اب تو یوں ہی ساری زندگی
پیار جب سے آپ کا ہم کو ملا
لگتی ہے اب ہم کو پیاری زندگی
جب ملے تم سے تو یہ جانا پیا
پہلے تھی کتنی نمانی زندگی

33
قصیدہ لکھنے بیٹھا ہوں میں اصحابِ محبت کا
علا مہ رضوی کا اور شاہ تراب الحق کی عظمت کا
نبی کے عشق میں چمکے ہوئے پر نور تھے دونوں
ہمیشہ پڑھتے تھے دونوں قصیدہ شا کی الفت کا
وہ تھے کردار کے غازی جواں افکار ان کے تھے
بھرا تھا دونوں میں اخلاص واللہ علم و حکمت کا

56
نازاں ہو میں اپنی قسمت پر ایمان سے روشن فر مایا
اے خالق كل اے ربِ کریم تو ہی تو ہے مالک ارض و سماں
ہو سنگ و ہجر یا خشک و تر تو نے تو ہی پیدا فر مایا
معبود توی مسجود تو ہی ہے سب کا پالن ہار تو ہی
دے اپنی ولا میرے مولا دامن ہے میں نے پھیلایا
میں گندا نکما اور کمیں ہے اعلی ارفع ذات تری

61
مژدہِ جاںَ فزاں سنا دیتے
جان غم سے مری چھڑا دیتے
ازنِ بطحہ سے آتی جان میں جاں
کہ وہاں جام اک پلا دیتے
کتنی پیاری ہے جاں فزاں کیاری
کاش سجدے وہیں ادا ہوتے

27
ان کی الفت میں مبتلا ہوتے
قیس ہوتے نا جانے کیا ہوتے
کھو کے اپنا سکون ہم بھی پھر
کار بے کار میں سدا ہوتے
ہوتا جو پاس اپنے سرمایہ
ہم بھی پھر صاحبِ عبا ہوتے

26
تیری رحمت نے بلایا میں چلا آیا ہوں
جرمِ عصیاں پہ لجایا میں چلا آیا ہوں
ہوں گنا گار گناہوں پہ ہوں شرمندہ میں
مجھ کو تو بخش خدایا میں چلا آیا ہوں
میرے مسجود یہ سجدہ ہے تیرے در کی عطا
تو نے در پر ہے بلایا میں چلا آیا ہوں

53
انگلی دانت تلے داب کر چیں با چیں
بولے ایسے حقیقت میں ہوں مہ جبیں
بول دو بول کے وہ ہوئے شرمگیں
آنکھیں جیسے کہ ہوں سر مگیں سر مگیں
ان کی ہمت کو کہتے ہیں ہم آفریں
بولے ہم کو سمجھ لیجئے نازنیں

44
خطاوار ہوں میں سیا کار ہوں میں
گناہوں کا مولا سزاوار ہوں میں
گناہوں میں برتر ہوں نیکی میں کمتر
نہیں کوئی مجھ سا وہ بدکار ہوں میں
مجھے بخش دے تو ہے تیری عنایت
وگرنہ عذابوں کا حقدار ہوں میں

63
على مشکل کشا حاجت روا مولا علی حیدر
علی شیرِ خدا شاہِ زماں مولا علی حیدر
بسی ہو ان کی الفت دل میں ہر مومن پہ ہے لازم
علی ایمانِ جاں تسکینِ جاں مولا علی حیدر
عدو کے واسطے کافی ہے واللہ نعرہِ حیدر
علی وہ ہیں قوی فاتح زماں مولا علی حیدر

106
حیا کے پیکر وفا کے خوگر ہیں شاہ عثمان شان والے
سخی و سرور ہیں بندہ پرور ہیں شاہ عثمان شان والے
وہ مصطفی کےہیں ایسے پیارے کہ ہر مسلمان کو ہیں پیارے
بسے ہیں سب کے دلوں کے اندر ہیں شاہ عثمان شان والے
سخاوتوں کا شمار کیا ہو کہ ہر ادا میں سخا ہے ان کے
تبھی تو سائل کھڑے ہیں در پر ہیں شاہ عثمان شان والے

94
عشق میں گر جو تم روا ہوتے
درد دل کی مرے دوا ہوتے
ساتھ ہوتے جو بن کے میرے تم
میری باتوں کا مدعا ہوتے
بات کرتے جو ان کے مطلب کی
پھر نہ وہ ہم سے یوں خفا ہوتے

22
لکھ رہا ہو ں کلام رحمت کا
جان رحمت تمھاری مدحت کا
دونوں عالم میں چار سو آقا
ذکر جاری ہے تیری رفعت کا
دین و دینا میں جو ضروری ہے
کام ہے بس تری اطاعت کا

36
ان کی الفت میں مبتلا ہوتے
قیس ہوتے نا جانے کیا ہوتے
کھو کے اپنا سکون ہم بھی پھر
کار بے کار میں سدا ہوتے
ہوتا جو پاس اپنے سرمایہ
ہم بھی پھر صاحبِ عبا ہوتے

34
اڑتے پنچھی کو بس دیکھتا رہ گیا
کیا میں آزاد ہوں سوچتا رہ گیا
زلف و رخسار کا یوں ہوا میں اسیر
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیاۓ
اب رہائی ملی تو کہاں جا ؤں گا
سوچ کر اپنے پر نوچتا رہ گیا

2
188
مری تم سے شناسائی بہت ہے
شناسائی میں گہرائی بہت ہے
نگاہوں سے ہیں پیتے اور پلاتے
ہاں ان میں بادہ پیمائی بہت ہے
اگر جو خود سے مانگا جام ان سے
تو بولے جھٹ سے مہنگائی بہت ہے

59
مرے لب پہ اس کی ہی بات ہے
جو کمال عاشقِ ساز ہے
وہی حسن ہے وہ جمال ہے
وہ کمال ہے با کمال ہے
وہی با وفا وہی دلربا
وہی عشق ہے وہی عاشقی

38
اک تصور مرا یوں جما رہ گیا
درِ غوثِ پیا دیکھتا رہ گیا
نور سے تیرے مخمور ایسا ہوا
دم بخود بس وہیں میں کھڑا رہ گیا
جب سے دیکھا تمہیں شاہ غوث الوری
نقشہ بس تیرا دل میں بسا رہ گیا

173
دل جلا اس طرح کے جلا رہ گیا
بوجھ ایسا کہ دل پر پڑا رہ گیا
وہ گیا روٹھ کر مڑ کے دیکھا نہیں
دیتا اس کو فقط میں صدا رہ گیا
دوست سے بن کے دشمن جو آئے ہو اب
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

30
دل میں نفرت کا بھالا گڑا رہ گیا
بعد اس کے بھلا کیا روا رہ گیا
آپ کہتے تھے ہم سے بہت پیار ہے
آپ کا سارا دعوی دھرا رہ گیا
مجھ کو رسوا نہ کر پاس آ کر زرا
زخم دل دیکھ لے تو ہرا رہ گیا

70
دل مرا پھر شہا غمزدہ رہ گیا
دور در سے ترے میں شہا رہ گیا
قافلے چل دیئے اس برس بھی شہا
میں یوں ہی بس انہیں دیکھتا رہ گیا
تیرے در سے پھرا جو وہ رسوا ہوا
در بدر ٹھوکروں میں پڑا رہ گیا

27
فکر میں میری اک تو رسا رہ گیا
میری ہستی میں بس تو رچا رہ گیا
تیرے کوچے میں اک بار رکھا قدم
دل ہے پہلو میں بس یہ گماں رہ گیا
خوب رو دلنشیں یوں تو دیکھے بہت
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

56
بنا اب اس کے جینے کا ارادہ کر لیا ہے
کنارہ ہی تو کرنا تھا کنارہ کر لیا ہے
تری بستی میں بسنے کو بنائی ایک کٹیا
بسیرا ہی تو کرنا تھا بسیرا کر لیا ہے
تجھے دیکھا جو شب کو یوں لگا ہے مہر نکلا
سویرا ہی تو کرنا تھا سویرا کر لیا ہے

79
عشق میں بے خودی ضروری ہے
خرد سے دوری بھی ضروری ہے
دل میں غم کروٹیں بدلتا ہو
پر لبوں پر ہنسی ضروری ہے
تیری چاہت کے بعد کہتا ہوں
اب تو یہ زندگی ضروری ہے

45
خواجہ معین و فرید کے پیارے بابا قطب الدین ہمارے
دونوں کے ہی آنکھ کے تارے بابا قطب الدین ہمارے
خواجہ معین الدین کی الفت آپ سے ہے انمول اے پیارے
کہتے ہیں خواجہ جی بھی ہمارے بابا قطب الدین ہمارے
خواجہ پیا کے خلف اکبر چشتی لڑی کے یہ ہیں رہبر
بابا فرید خلیفہ تمھارے بابا قطب الدین ہمارے

45
اے میرے ہم نشیں سن لو
محبت ایک دریا ہے
ہمیں اس پار جانا ہے
اگر یہ فیصلہ کرلو
نہ میرا ساتھ چھوڑو گے
کٹھن ہو راہ گر تو پھر

27
للہ اب خبر لو سرکار غوث اعظم
گھر دل میں میرے کرلو سرکارغوث اعظم
تیرا گدائے در ہوں میں مانتا برا ہوں
دامن کو میرے بھر دو سرکار غوث اعظم
اختر رضا ہیں مرشد ان سے ہوا ہوں تیرا
اب مجھ کو اپنا کرلو سرکار غوث اعظم

58
یہ ترا روٹھنا محبت ہے
پھر ترا ماننا محبت ہے
چبے ہے خار میرے پاؤ ں میں
بھلا ہو آپ کا محبت ہے
تیرے کوچے میں آگۓ دیکھو
کہو آنا ترا محبت ہے

31
جب میں نے تمھارا نام لیا دل تھام لیا دل تھام لیا
تو مجھ میں چھپا یہ جان لیا دل تھام لیا دل تھام لیا
صورت ہے بسی من میں ہے مرے اک یاد بسی دل میں ہے مرے
ہے عشق ترا یہ جان لیا دل تھام لیا دل تھا م لیا
اک خواب دکھا جلوہ ہو تیرا جلوہ ہو تیرا میں ہوں پیا
دیکھوں میں کہوں پہچان لیا دل تھام لیا دل تھام لیا

26
مایوس ہو کے بیٹھے ہیں تاریک رات میں
اور اشک چھلکے پڑتے ہیں اب بات بات میں
کردیں نہ ہم پہ ٹھنڈی ہوائیں بھی کوئی وار
ٹائر جلا کے بیٹھے ہیں برفیلی رات میں
اے دل تو کیوں پریشاں ہے جب رب ہے ساتھ میں
وہ دیکھ لے گا سب کو جو دشمن ہیں گھات میں

52
منتظر ہو ں میں شہا مجھ پہ نظر ہو جائے
خاص رحمت سے تری ابر کرم ہو جائے
غم مرا دور ہو اے شاہ مدینہ میرے
باڑ خوشیوں کی لگے شاہ امم ہو جائے
جام عرفاں پیوں اک روز تو آقا میرے
اور نظروں میں مرے شاہ حرم ہو جائے

45
مرے حضور کے دم سے ہی یہ بہار چلے
وہ نبض زندگی ہیں ان سے ہی مدار چلے
تمہاری یاد نے دل کو ہے بے قرار کیا
چلے جو قافلہِ عشق سوئے یار چلے
رہے گا اس کو خسارہ یقیں ہے عقبی میں
جو راہ ہٹ کے چلے شترِ بے مہار چلے

28
یہ آنکھ نہیں آپ کے دیدار کے قابل
اور جسم نہیں آپ کے دربار کے قابل
یہ کیسے کہوں آپ سے اک دست تسلی
رکھ دیجئے کے دل نہیں اس داد کے قابل
اتنے ہو کریم آپ کہ ڈھارس ہےبندھائی
ورنہ تو کہاں عرض ہے فریاد کے قابل

66
قرار جان ہو تم وجہ بے قراری ہو
چلے بھی آؤ کہ تم وجہ آہ و زاری ہو
وجود عشق کو تم سے دوام ملتا ہے
مرے بھی قلب کی اب ایسی آب یاری ہو
تمھاری یاد میں مچلوں میں گھوموں بےکل سا
نقاب رخ جو أٹھاؤ سکون طاری ہو

26
ان کو ہمارے حال کی یارو خبر کہاں
نظریں کہیں ہیں اور ہے ہم پر نظر کہاں
بے ساختہ ہو بات مری بات اور ہے
ورنہ زبان یار پہ میرا گزر کہاں
جو کر ہی چکا ترک تعلق تو پھر اسے
کیوں فکر ہو کہ ساتھ تھا جو ہمسفر کہاں

48
کھو دیا چین و سکون آپ کی چاہت کے لئے
ہم نے کیا کیا نہ کیا آپ کی راحت کے لئے
لب و لہجہ ہی نہیں آپ نے سب کچھ اپنا
ہم سے بدلا ہے فقط ہم سے بغاوت کے لئے
تم پہ لازم تھا کہ ہر بات کو سہ جاتے تم
یہ کہا آپ نے کے ہم سے محبت کے لئے

26
ان کے عشاق کی کیوں شان نا ہوسب سے جدا
جب کہ نبیوں میں ہوئے ہیں وہ نبی سب سے جدا

46
آیت تطہیر سے رتبہ سمجھ آیا ہمیں
ہے مقام اعلی کتنا اہل بیت پاک کا
۔۔۔۔۔۔۔۔

34
عشق احمد نے یوں معتبر کر دیا
قلب و لب پے درودوں نے گھر کر دیا
جو درِ مصطفی کا گدا ہو گیا
آپ نے اس کو میرِ شہر کر دیا
دامنِ مصطفی میں جب آئے عمر
پیارے آقا نے فاروق عمر کر دیا

27
مرے آقا گناہوں سے مجھے اب تو بری کردیں
کریں نظرِ کرم مجھ پر شہا اب تو بری کردیں
گناہوں کی نحوست نے سکون و چین لوٹا ہے
ہوئی برباد کھیتی ہے شہا اب تو ہری کر دیں
مری سینے میں اپنے عشق کو آقا بڑھائیں یوں
رکھیں دستِ تسلی اور مری قسمت کھری کر دیں

51
دیکھتے دیکھتے دیکھتے رہ گئے
نقش ذیبا ترے دیکھتے رہ گئے
جب سے دیکھا تجھے اے حسیں مہ جبیں
بس تجھے ہی تجھے دیکھتے رہ گئے
نقش تیرے حسیں نین ہے آب گیں
ڈوبتے ڈوبتے دیکھتے رہ گئے

76
یانبی کرم تیرا میرے غم کا درماں ہے
یاد تیری ہر لمحہ میری کرم فرماں ہے
حسرتیں ہوئی پوری آپ کی عنایت سے
آؤں میں مدینے میں بس یہی تو ارماں ہے
فکر کی رسائی میں جب سے شہر تیرا ہے
یاد سے تری آقا دل بھی اب گلستاں ہے

46
عشق کے یہ امتحاں بھی خوب ہے
فاصلے یہ درمیاں بھی خوب ہے
آپ کی الفت ملے کیا چاہئے
آپ کی تو اک نظر ہی خوب ہے
عشق پیارے آپ کا آبِ حیات
جاودانی اس سے ملتی خوب ہے

59
تجھ کو پانے کے لئے خود کو بھلا دیتے ہیں
بات کہنے کی ہے سن خود کو مٹا دیتے ہیں
کشتیِ عشق کی منزل ہے تو ہی جان وفا
اب اگر کہئے تو پتوار جلا دیتے ہیں
طوق الفت کا تو برسوں سے پڑا گردن میں
آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

109
چلو ہم بے وفا ہیں مان لیتے ہیں
مگر شکوہ ہےتم سے
کچھ وفا تم ہی نبھا لیتے
گزارے لمحوں میں
ان لمحوں کی تجدید کر لیتے
کہ جن میں پیار تھا

29
فکر امت میں اصرار یاد آگئے
ان کی رحمت کے اظہار یاد آگئے
بخشیں جائیں گے آقا کے سب امتی
ربِ کعبہ کے اقرار یاد آگئے
عشق مرسل ہے دونوں جہاں میں حیات
فکر مرشد کے اسرار یاد آگئے

57
مرے قلب کی ہیں صدا غوث اعظم
مرے پیشوا رہنما غوث اعظم
دکھوں نے ہے گھیرا مصیبت کا پہرا
بچا ان سے ہے التجا غوث اعظم
تمھاری محبت کو دل میں بسائے
سجائے ہوں اک گلستاں غوث اعظم

67
غنچہِ دل کھلا میرے اختر رضا
میرے دل میں سما میرے اختر رضا
جان ہے آپ کی ہے یہ تن بھی ترا
خوب اس کو جلا میرے اختر رضا
آس ہے دید کی پیاس ہے دید کی
اب تو اس کو بجھا میرے اختررضا

50
خطاؤں سے پر ہے یہ بندہ تمھارا
کرم ہو خدارا کرم ہو خدارا
ہوں کمتر نکما نہیں پاس کچھ بھی
فقط یہ ہے توشہ کہ ہوں میں تمھارا
سما دو مرے دل میں اپنی محبت
کہ تیرے سوا سب سے ہو اب کنارہ

99
بخت میرا سنوار دو مرشد
مجھ کو اب تو نکھار دو مرشد
تیرا سائل ہوں تیرا دیوانہ
اپنا کہہ کر قرار دو مرشد
میں کہ کوئی نکما سگ ہی رہا
مہر دیکر وقار دو مرشد

43
اے بہارِ عرب تیری کیا بات ہے
اے نگارِ عرب تیری کیا بات ہے
گلَزارِعرب تیری کیا بات ہے
کہسارِعرب تیری کیا بات ہے
اعلی ہے مرتبہ تیرا ارضِ عرب
تیرے خطے میں ہے طیبہ اور حرم

32
چراغ چشت شاہ ہند آفتاب اولیا
تری نگاہ پاک سے بنے ہزاروں صوفیا
چراغ دہلی قطب دیں فرید یا نظام ہوں
ہیں تیرے نور کی ضیا اے آفتاب اولیا
مرے نصاب میں تری طلب اے میرے ناخدا
پلا دے اپنے ہاتھ سے شراب عشق جان جاں

71
دل کی چوکھٹ پہ ترا نام سجا رکھا ہے
ہم نے یہ در ہی ترے نام لگا رکھا ہے
تیرے قدموں کی تجلی سے جلا پانے کو
ہم نے آنکھوں کو سرے راہ بچھا رکھا ہے
تیری نظروں سے جلا پانے کو میرے آقا
خود کو بھی آپ کا بیمار بنا رکھا ہے

75
دل کی باتیں انہی سے کہتے ہیں
اک وہ ہی ہیں جو جان لیتے ہیں
پوری کرتے ہیں من کی وہ باتیں
ہر طلب بے طلب وہ دیتے ہیں
لو لگاۓ جو کوئی گر ان سے
اس کو اپنا وہ کر ہی لیتے ہیں

50
نور سرکار سے معمورفضا کیف میں ہے
شہر بطحہ کی فضا صبح و مسا کیف میں ہے
طبع غمگین تھی ،پھر یاد جب آئی ان کی
غم یوں کافور ہوا کے یہ گدا کیف میں ہے
مدح سرکار دو عالم سے ہے روشن عالم
گوشہ گوشہ ہے سجا ارض و سما کیف میں ہے

110
اے خدا تو از پئے شافع امم کردے کرم
مشکلوں کا آفتوں کا بار ہے کردے کرم
تو ہی تو ہےقرب والا ہر قریبی سے خدا
جانتا ہے حال تو کیا حال ہے کردے کرم
دور تجھ سے میں ہوا ہوں ہاۓ بد کاری سبب
غفلتوں کا دل پہ اک آزار ہے کردے کرم

65
اپنے روضے کے نظارے مجھے آقا دیدو
یعنی جینے کے سہارے مجھے آقا دیدو
بخت میرا بھی سنور جاۓگا میرے آقا
اپنے قدموں کے اتارے مجھے آقا دیدو
ڈولتی ہے مری کشتی شہا طوفانوں میں
بحر عصیاں سے کنارے مجھے آقا دیدو

60