Circle Image

Zeshan khan khaki

@danish

اڑتے پنچھی کو بس دیکھتا رہ گیا
کیا میں آزاد ہوں سوچتا رہ گیا
زلف و رخسار کا یوں ہوا میں اسیر
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیاۓ
اب رہائی ملی تو کہاں جا ؤں گا
سوچ کر اپنے پر نوچتا رہ گیا

14
اک تصور مرا یوں جما رہ گیا
درِ غوثِ پیا دیکھتا رہ گیا
نور سے تیرے مخمور ایسا ہوا
دم بخود بس وہیں میں کھڑا رہ گیا
جب سے دیکھا تمہیں شاہ غوث الوری
نقشہ بس تیرا دل میں بسا رہ گیا

7
دل جلا اس طرح کے جلا رہ گیا
بوجھ ایسا کہ دل پر پڑا رہ گیا
وہ گیا روٹھ کر مڑ کے دیکھا نہیں
دیتا اس کو فقط میں صدا رہ گیا
دوست سے بن کے دشمن جو آئے ہو اب
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

5
دل میں نفرت کا بھالا گڑا رہ گیا
بعد اس کے بھلا کیا روا رہ گیا
آپ کہتے تھے ہم سے بہت پیار ہے
آپ کا سارا دعوی دھرا رہ گیا
مجھ کو رسوا نہ کر پاس آ کر زرا
زخم دل دیکھ لے تو ہرا رہ گیا

4
دل مرا پھر شہا غمزدہ رہ گیا
دور در سے ترے میں شہا رہ گیا
قافلے چل دیئے اس برس بھی شہا
میں یوں ہی بس انہیں دیکھتا رہ گیا
تیرے در سے پھرا جو وہ رسوا ہوا
در بدر ٹھوکروں میں پڑا رہ گیا

5
فکر میں میری اک تو رسا رہ گیا
میری ہستی میں بس تو رچا رہ گیا
تیرے کوچے میں اک بار رکھا قدم
دل ہے پہلو میں بس یہ گماں رہ گیا
خوب رو دلنشیں یوں تو دیکھے بہت
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

9
بنا اب اس کے جینے کا ارادہ کر لیا ہے
کنارہ ہی تو کرنا تھا کنارہ کر لیا ہے
تری بستی میں بسنے کو بنائی ایک کٹیا
بسیرا ہی تو کرنا تھا بسیرا کر لیا ہے
تجھے دیکھا جو شب کو یوں لگا ہے مہر نکلا
سویرا ہی تو کرنا تھا سویرا کر لیا ہے

6
عشق میں بے خودی ضروری ہے
خرد سے دوری بھی ضروری ہے
دل میں غم کروٹیں بدلتا ہو
پر لبوں پر ہنسی ضروری ہے
تیری چاہت کے بعد کہتا ہوں
اب تو یہ زندگی ضروری ہے

6
خواجہ معین و فرید کے پیارے بابا قطب الدین ہمارے
دونوں کے ہی آنکھ کے تارے بابا قطب الدین ہمارے
خواجہ معین الدین کی الفت آپ سے ہے انمول اے پیارے
کہتے ہیں خواجہ جی بھی ہمارے بابا قطب الدین ہمارے
خواجہ پیا کے خلف اکبر چشتی لڑی کے یہ ہیں رہبر
بابا فرید خلیفہ تمھارے بابا قطب الدین ہمارے

8
اے میرے ہم نشیں سن لو
محبت ایک دریا ہے
ہمیں اس پار جانا ہے
اگر یہ فیصلہ کرلو
نہ میرا ساتھ چھوڑو گے
کٹھن ہو راہ گر تو پھر

7
للہ اب خبر لو سرکار غوث اعظم
گھر دل میں میرے کرلو سرکارغوث اعظم
تیرا گدائے در ہوں میں مانتا برا ہوں
دامن کو میرے بھر دو سرکار غوث اعظم
اختر رضا ہیں مرشد ان سے ہوا ہوں تیرا
اب مجھ کو اپنا کرلو سرکار غوث اعظم

7
یہ ترا روٹھنا محبت ہے
پھر ترا ماننا محبت ہے
چبے ہے خار میرے پاؤ ں میں
بھلا ہو آپ کا محبت ہے
تیرے کوچے میں آگۓ دیکھو
کہو آنا ترا محبت ہے

6
جب میں نے تمھارا نام لیا دل تھام لیا دل تھام لیا
تو مجھ میں چھپا یہ جان لیا دل تھام لیا دل تھام لیا
صورت ہے بسی من میں ہے مرے اک یاد بسی دل میں ہے مرے
ہے عشق ترا یہ جان لیا دل تھام لیا دل تھا م لیا
اک خواب دکھا جلوہ ہو تیرا جلوہ ہو تیرا میں ہوں پیا
دیکھوں میں کہوں پہچان لیا دل تھام لیا دل تھام لیا

6
مایوس ہو کے بیٹھے ہیں تاریک رات میں
اور اشک چھلکے پڑتے ہیں اب بات بات میں
کردیں نہ ہم پہ ٹھنڈی ہوائیں بھی کوئی وار
ٹائر جلا کے بیٹھے ہیں برفیلی رات میں
اے دل تو کیوں پریشاں ہے جب رب ہے ساتھ میں
وہ دیکھ لے گا سب کو جو دشمن ہیں گھات میں

6
منتظر ہو ں میں شہا مجھ پہ نظر ہو جائے
خاص رحمت سے تری ابر کرم ہو جائے
غم مرا دور ہو اے شاہ مدینہ میرے
باڑ خوشیوں کی لگے شاہ امم ہو جائے
جام عرفاں پیوں اک روز تو آقا میرے
اور نظروں میں مرے شاہ حرم ہو جائے

5
مرے حضور کے دم سے ہی یہ بہار چلے
وہ نبض زندگی ہیں ان سے ہی مدار چلے
تمہاری یاد نے دل کو ہے بے قرار کیا
چلے جو قافلہِ عشق سوئے یار چلے
رہے گا اس کو خسارہ یقیں ہے عقبی میں
جو راہ ہٹ کے چلے شترِ بے مہار چلے

4
یہ آنکھ نہیں آپ کے دیدار کے قابل
اور جسم نہیں آپ کے دربار کے قابل
یہ کیسے کہوں آپ سے اک دست تسلی
رکھ دیجئے کے دل نہیں اس داد کے قابل
اتنے ہو کریم آپ کہ ڈھارس ہےبندھائی
ورنہ تو کہاں عرض ہے فریاد کے قابل

6
قرار جان ہو تم وجہ بے قراری ہو
چلے بھی آؤ کہ تم وجہ آہ و زاری ہو
وجود عشق کو تم سے دوام ملتا ہے
مرے بھی قلب کی اب ایسی آب یاری ہو
تمھاری یاد میں مچلوں میں گھوموں بےکل سا
نقاب رخ جو أٹھاؤ سکون طاری ہو

5
ان کو ہمارے حال کی یارو خبر کہاں
نظریں کہیں ہیں اور ہے ہم پر نظر کہاں
بے ساختہ ہو بات مری بات اور ہے
ورنہ زبان یار پہ میرا گزر کہاں
جو کر ہی چکا ترک تعلق تو پھر اسے
کیوں فکر ہو کہ ساتھ تھا جو ہمسفر کہاں

3
کھو دیا چین و سکون آپ کی چاہت کے لئے
ہم نے کیا کیا نہ کیا آپ کی راحت کے لئے
لب و لہجہ ہی نہیں آپ نے سب کچھ اپنا
ہم سے بدلا ہے فقط ہم سے بغاوت کے لئے
تم پہ لازم تھا کہ ہر بات کو سہ جاتے تم
یہ کہا آپ نے کے ہم سے محبت کے لئے

3
ان کے عشاق کی کیوں شان نا ہوسب سے جدا
جب کہ نبیوں میں ہوئے ہیں وہ نبی سب سے جدا

5
آیت تطہیر سے رتبہ سمجھ آیا ہمیں
ہے مقام اعلی کتنا اہل بیت پاک کا
۔۔۔۔۔۔۔۔

5
عشق احمد نے یوں معتبر کر دیا
قلب و لب پے درودوں نے گھر کر دیا
جو درِ مصطفی کا گدا ہو گیا
آپ نے اس کو میرِ شہر کر دیا
دامنِ مصطفی میں جب آئے عمر
پیارے آقا نے فاروق عمر کر دیا

4
مرے آقا گناہوں سے مجھے اب تو بری کردیں
کریں نظرِ کرم مجھ پر شہا اب تو بری کردیں
گناہوں کی نحوست نے سکون و چین لوٹا ہے
ہوئی برباد کھیتی ہے شہا اب تو ہری کر دیں
مری سینے میں اپنے عشق کو آقا بڑھائیں یوں
رکھیں دستِ تسلی اور مری قسمت کھری کر دیں

4
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں جنہیں ڈھونڈتی ہے نگا مری
کہ اجاڑ ہے دلِ فرش کے نہیں اب تلک ہے گزر تری
کوں خفا ہوئے کوں ہو روٹھے تم کا یہ عاشقی کا اصول ہے
میں کرو تو کیا کرو کیا نہیں کہ کروں میں وہ جو رضا تری
شبِ ہجر کی یہ چبن رہی کہ جنوں نے قلب کو داد دی
درِ جاں عزیز رہا تجھے تجھے فکرِ یار بھلی رہی

21
دیکھتے دیکھتے دیکھتے رہ گئے
نقش ذیبا ترے دیکھتے رہ گئے
جب سے دیکھا تجھے اے حسیں مہ جبیں
بس تجھے ہی تجھے دیکھتے رہ گئے
نقش تیرے حسیں نین ہے آب گیں
ڈوبتے ڈوبتے دیکھتے رہ گئے

20
یانبی کرم تیرا میرے غم کا درماں ہے
یاد تیری ہر لمحہ میری کرم فرماں ہے
حسرتیں ہوئی پوری آپ کی عنایت سے
آؤں میں مدینے میں بس یہی تو ارماں ہے
فکر کی رسائی میں جب سے شہر تیرا ہے
یاد سے تری آقا دل بھی اب گلستاں ہے

9
عشق کے یہ امتحاں بھی خوب ہے
فاصلے یہ درمیاں بھی خوب ہے
آپ کی الفت ملے کیا چاہئے
آپ کی تو اک نظر ہی خوب ہے
عشق پیارے آپ کا آبِ حیات
جاودانی اس سے ملتی خوب ہے

10
تجھ کو پانے کے لئے خود کو بھلا دیتے ہیں
بات کہنے کی ہے سن خود کو مٹا دیتے ہیں
کشتیِ عشق کی منزل ہے تو ہی جان وفا
اب اگر کہئے تو پتوار جلا دیتے ہیں
طوق الفت کا تو برسوں سے پڑا گردن میں
آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

17
چلو ہم بے وفا ہیں مان لیتے ہیں
مگر شکوہ ہےتم سے
کچھ وفا تم ہی نبھا لیتے
گزارے لمحوں میں
ان لمحوں کی تجدید کر لیتے
کہ جن میں پیار تھا

10
فکر امت میں اصرار یاد آگئے
ان کی رحمت کے اظہار یاد آگئے
بخشیں جائیں گے آقا کے سب امتی
ربِ کعبہ کے اقرار یاد آگئے
عشق مرسل ہے دونوں جہاں میں حیات
فکر مرشد کے اسرار یاد آگئے

13
مرے قلب کی ہیں صدا غوث اعظم
مرے پیشوا رہنما غوث اعظم
دکھوں نے ہے گھیرا مصیبت کا پہرا
بچا ان سے ہے التجا غوث اعظم
تمھاری محبت کو دل میں بسائے
سجائے ہوں اک گلستاں غوث اعظم

7
غنچہِ دل کھلا میرے اختر رضا
میرے دل میں سما میرے اختر رضا
جان ہے آپ کی ہے یہ تن بھی ترا
خوب اس کو جلا میرے اختر رضا
آس ہے دید کی پیاس ہے دید کی
اب تو اس کو بجھا میرے اختررضا

14
خطاؤں سے پر ہے یہ بندہ تمھارا
کرم ہو خدارا کرم ہو خدارا
ہوں کمتر نکما نہیں پاس کچھ بھی
فقط یہ ہے توشہ کہ ہوں میں تمھارا
سما دو مرے دل میں اپنی محبت
کہ تیرے سوا سب سے ہو اب کنارہ

17
بخت میرا سنوار دو مرشد
مجھ کو اب تو نکھار دو مرشد
تیرا سائل ہوں تیرا دیوانہ
اپنا کہہ کر قرار دو مرشد
میں کہ کوئی نکما سگ ہی رہا
مہر دیکر وقار دو مرشد

16
اے بہارِ عرب تیری کیا بات ہے
اے نگارِ عرب تیری کیا بات ہے
گلَزارِعرب تیری کیا بات ہے
کہسارِعرب تیری کیا بات ہے
اعلی ہے مرتبہ تیرا ارضِ عرب
تیرے خطے میں ہے طیبہ اور حرم

10
چراغ چشت شاہ ہند آفتاب اولیا
تری نگاہ پاک سے بنے ہزاروں صوفیا
چراغ دہلی قطب دیں فرید یا نظام ہوں
ہیں تیرے نور کی ضیا اے آفتاب اولیا
مرے نصاب میں تری طلب اے میرے ناخدا
پلا دے اپنے ہاتھ سے شراب عشق جان جاں

20
دل کی چوکھٹ پہ ترا نام سجا رکھا ہے
ہم نے یہ در ہی ترے نام لگا رکھا ہے
تیرے قدموں کی تجلی سے جلا پانے کو
ہم نے آنکھوں کو سرے راہ بچھا رکھا ہے
تیری نظروں سے جلا پانے کو میرے آقا
خود کو بھی آپ کا بیمار بنا رکھا ہے

16
دل کی باتیں انہی سے کہتے ہیں
اک وہ ہی ہیں جو جان لیتے ہیں
پوری کرتے ہیں من کی وہ باتیں
ہر طلب بے طلب وہ دیتے ہیں
لو لگاۓ جو کوئی گر ان سے
اس کو اپنا وہ کر ہی لیتے ہیں

14
نور سرکار سے معمورفضا کیف میں ہے
شہر بطحہ کی فضا صبح و مسا کیف میں ہے
طبع غمگین تھی ،پھر یاد جب آئی ان کی
غم یوں کافور ہوا کے یہ گدا کیف میں ہے
مدح سرکار دو عالم سے ہے روشن عالم
گوشہ گوشہ ہے سجا ارض و سما کیف میں ہے

14
اے خدا تو از پئے شافع امم کردے کرم
مشکلوں کا آفتوں کا بار ہے کردے کرم
تو ہی تو ہےقرب والا ہر قریبی سے خدا
جانتا ہے حال تو کیا حال ہے کردے کرم
دور تجھ سے میں ہوا ہوں ہاۓ بد کاری سبب
غفلتوں کا دل پہ اک آزار ہے کردے کرم

10
اپنے روضے کے نظارے مجھے آقا دیدو
یعنی جینے کے سہارے مجھے آقا دیدو
بخت میرا بھی سنور جاۓگا میرے آقا
اپنے قدموں کے اتارے مجھے آقا دیدو
ڈولتی ہے مری کشتی شہا طوفانوں میں
بحر عصیاں سے کنارے مجھے آقا دیدو

26