آئیے نغمے میں مل کے گاتے ہیں
جشن کی سب خوشی مناتے ہیں
نفرتوں میں ہے کیا رکھا صاحب
دیپ الفت کے اب جلاتے ہیں
اپنے اسلاف کی نشانی کو
ارض امن و اماں بناتے ہیں
لاکھوں جانوں کا ہے ثمر یہ وطن
مل کے ہم سب اسے سجاتے ہیں
قائدِ محترم کی عظمت کو
اپنی نسلوں کو بھی بتاتے ہیں
ذندہ جاوید لوگ ہوتے ہیں
سلف کو اپنے جو منواتے ہیں
جس کوپیارا ہے ارض پاکستان
جشن آزادی وہ مناتے ہیں
شکر رب کا ادا کریں ذیشان
کہ یہاں چین سے بِتاتے ہیں

22