اے بہارِ عرب تیری کیا بات ہے
اے نگارِ عرب تیری کیا بات ہے
گلَزارِعرب تیری کیا بات ہے
کہسارِعرب تیری کیا بات ہے
اعلی ہے مرتبہ تیرا ارضِ عرب
تیرے خطے میں ہے طیبہ اور حرم
تیری عظمت پہ قرباں ہو سارے وطن
اے وقارِ عرب تیری کیا بات ہے
بولتی ہے صبا کیا کروں میں بیاں
کیسی ہے وہ فضا جاں فزاں جاں فزاں
نور سے ہے مزین وہاں کا سماں
اے بہارِ عرب تیری کیا بات ہے
وہ جو سردار کونین شاہِ ہدی
وہ جو تسکین جاں ہیں شہِ انس وجاں
ان کے قدموں سے رتبہ ہے تجھ کو ملا
ریگ زارِ عرب تیری کیا بات ہے
حق نے فرمائی قرآں میں جس کی قسم
رحمتوں کی ہے بارش جہاں ہر قدم
ہے وہ مکہ مدینہ بہت محتشم
اے دیارِ عرب تیری کیا بات ہے
جن کے آگے ہیں خم تاجداروں کے سر
وہ نبی جس کو سجدہ ہیں کرتے شجر
ان کے جلووں سے روشن ہیں شام و سحر
اے نگارِ عرب تیری کیا بات ہے
ہر مسلماں کے دل میں ہے حرمت کا پاس
تیرے خاطر ہے ہر اک کے دل میں گداز
دل میں ﺫیشان کے بھی ہے آنے کی آس
شہرِ یارِ عرب تیری کیا بات ہے

18