جو سخا جود کی لطافت ہے
علی وہ پیکرِ سخاوت ہے
علی تسکین ہے مرے دل کی
علی کا نام ہی حلاوت ہے
علی ہی دفترِ ولایت ہے
علی ہی صاحبِ عنایت ہے
علی ایمان کی حرارت ہے
علی سے دین کی حفاظت ہے
علی مولا کی تو ہے شان ایسی
علی کو دیکھنا عبادت ہے
علی ہے امن و اماں جان وفا
علی مومن کے دل کی راحت ہے
کرے تفریق کفر و ایماں میں
علی ایمان کی علامت ہے
شہِ ذیشان ہے علی بے شک
علی ذیشان کی بھی راحت ہے

2
27
احسن... خوب....

جزاک اللہ محترم اثر وارثی صاحب