Circle Image

اثر وارثی

@fznwrs20dec

جانم فدا پر پائے تو دیوانۂ زیبائے تو / هستم اسیرِ زلفِ تو اندر دلم پیدا توئی

ہائے اس عارضِ گل رنگ کی رعنائی پر
سیکڑوں مٹ گئے اور کتنے مٹے جاتے ہیں

0
3
ہیں دم بخود یوسف کھڑے سب انبیاء عش عش کریں
کیا خوب حسنِ پاک ہے بالکل جمالِ کبریا

0
6
ان کی نظروں نے ایسا مارا ہے
چاک دامن ہے دل دو پارا ہے
راز دل کی لگی نے کھولا یہ
"عشق شبنم نہیں شرارا ہے"
تیری فرقت میں تیری چاہت میں
"میں نے ہر دم تجھے پکارا ہے"

0
13
میرے دل کو نہ پھر قرار ملا
جب سے نظروں نے تیری مارا ہے

0
7
لکھتا اسی لیے ہوں کہ ان کی نظر پڑے
دل اور سوختہ ہو سخن اور نکھر پڑے

0
23
سب کو کہتے ہو تم کہ شاعر ہو
شعر کہنا تجھے نہیں آتا
عیب دیکھے ہو سب کے شعروں میں
کام اچھا تجھے نہیں آتا

0
16
اثر اثر میں اثر تھا ایسا کہ ہم نے ایسا اثر نہ دیکها
یہ سب ہے ان کی نگاہ کا جو اثر کیا ہے اثر پہ ایسا

0
13
ربِ قادر مقتدِر کی قدرتیں ان کو نصیب
جانشینیِ نبی کی شوکتیں ان کو نصیب
عینِ ربِ پاک ہیں وہ وجہِ ربِ ذو الجلال
جلوهٔ ربِ جلی کی خلوتیں ان کو نصیب
نورِ ذاتِ مصطفی وه نورِ حق کا عکسِ کُل
یعنی بزمِ نور کی سب جلوتیں ان کو نصیب

0
51
"مکمل صبر کی تصویر ہونا"
کبھی ممکن نہیں شبیر ہونا
جو نذرانہ انہیں اشکوں کا بھیجے
اسے دشوار ہے دلگیر ہونا
مبارک باد خاکِ کربلا کو
ترا یوں خاک سے اکسیر ہونا

3
126
اہلِ صفا کے دین کا قبلہ حسین ہیں
اہلِ نظر کے واسطے کعبہ حسین ہیں
خوئے نبی کا ہُو بہو ہیں ترجمان وه
حسنِ نبی کا دیکھیے جلوہ حسین ہیں
جو باعثِ نشاط و خوشی ہیں بتول کی
دنیا میں ایک ذات وه مولا حسین ہیں

3
238
جو دشمنانِ مرتضیٰ ہیں خوار ہیں ہونگے ذلیل
رسوائیاں ان کا مقدر ذلتیں ان کا نصیب

0
27
کوئی استاد رکھے جو غالب کو
تو ہم بھی استاد علی رکھتے ہیں

0
13
شبِ فرقت میں راہوں کو وہ تکنا
حیات و موت کا اک سلسلہ ہے

0
14
وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر تکیہ کر لو
تمہاری زندگی کا آسرا ہوں

0
13
حسین تم کو شہادت سلام کہتی ہے
شہادتوں کی حقیقت سلام کہتی ہے
تمہیں تجلّیِ وحدت سلام کہتی ہے
تمہارے رب کی جلالت سلام کہتی ہے
وقارِ کبریا تم پر صلوۃ بھیجے ہے
تمہیں تو شانِ رسالت سلام کہتی ہے

5
288
جب نہیں تو تو ترا نام بھی کیوں
قلب سے تیری ہر اک چھاپ مٹے

0
10
رگوں میں ڈوڑتا ہے میرے پاک لہو
حسین تم کو ہم سلام کہتے ہیں

31
یاد دلاؤ نہ مجھ کو جنت کی
اک جہاں ہے جہاں میں رہتا تھا

0
8
مسجد میں میکدے میں کوئی فاصلہ نہ ہو
اترا اگر نشہ تو پڑھیں گے نماز ہم

7
52
میں نثار اپنے مرشد کے کہ لکھنا مجھ کو سکھا دیا
مجھ سے بے نوا کو بلبلِ باغِ وحدت بنا دیا

0
20
دے نظر کا وہ اشاره تو کچھ بات لکھوں
دے محبت کو سہارا تو کچھ بات لکھوں
کر چکے دنیا کے سودے میں ہم باتیں بہت
اب ملے سودا تمہارا تو کچھ بات لکھوں
نغمیں دنیائے تخیل میں آتے ہیں بہت
دیدہ ہو رخ جو تمہارا تو کچھ بات لکھوں

0
13
چگونہ کنم وصفِ شانِ محمدﷺ
که بالا ز گفتن بیانِ محمدﷺ
دو عالم فقط نیست تنہا ثنا گر
خدا نیز نغمہ کنانِ محمدﷺ
چوں جبریل آورده قرآن بر وی
او شد دافعِ عزّ و شانِ محمدﷺ

0
1
22
حسنِ جاناں ہے اس کی دیکھو مثال
اللهُ جمیلٌ و یحبّ الجمال

0
15
لیتے ہیں نام اثر کا سب یار دوستوں
شاید کسی پرانے عاشق کا نام ہے

0
13
مرشد کے فیض سے ترا نام و وقار ہے
تجھ سے کو ورنہ کوئی کبھی پوچھتا نہ تھا

0
10
جس چیز کو جہاں میں کہتے ہیں میکشی
جاناں کی آنکھ سے ہی پینے کا نام ہے

0
23
سرشار مئے عشق سے ہے میرا بدن
میری رگوں میں تو اب وہی دوڑتی ہے

0
25
کوئی تو ہے جو وجودِ هستی کو رفتہ رفتہ متا رہا ہے
مجھے متا کر وہ میرے اندر ہی رفتہ رفتہ سما رہا ہے

0
11
علی مرتضیٰ لالہ زارِ محمدﷺ
نگارِ خدا گل عذارِ محمدﷺ
سراپا نبی کا سراپا علی ہیں
یوں ٹھہرے علی یادگارِ محمدﷺ
دیارِ نبی کے طلب گار سن لو
درِ مرتضیٰ ہے دیارِ محمدﷺ

1
30
کہاں سے بیاں ہوگی شانِ محمدﷺ
ہے لفظوں سے آگے بیانِ محمدﷺ
دو عالم ہی تنہا نہیں ہے ثنا خواں
خدا بھی ہے نغمہ کنانِ محمدﷺ
جو جبریل قرآن لیکر ہیں آئے
وہ ہے دافعِ عزّ و شانِ محمدﷺ

0
80
کہاں ہم سے ممكن ہے مدحت علی کی
’’خدا جانتا ہے حقیقت علی کی‘‘
کرم ہو کہ شفقت ہو عادت وہی ہے
ہے سیرت محمد کی سیرت علی کی
دیا اپنا بستر نبی نے علی کو
ہے ثابت یہاں سے نیابت علی کی

0
18
ولایت کا ہوا اعلاں غدیرِ خم کی محفل میں
رسول الله ہیں گل افشاں غدیرِ خم کی محفل میں
مبارک ہو مبارک ہو علی تم کو مبارک ہو
یوں کہتا تھا ہر انس و جاں غدیرِ خم کی محفل میں
مبارکباد دینے کو یہ تینوں بھی ہوئے حاضر
ابو بکر و عمر عثماں غدیرِ خم کی محفل میں

0
35
میری وحشت مرا جہاں کوئی
میرے دل کو نہیں اماں کوئی
دل میں کیا ہے کیا کوئی سمجھے
کاش سمجھے نہ کچھ یہاں کوئی
اُن کی وحشت سے دل یہ زنده ہے
قلبِ عریاں میں ہے نہاں کوئی

0
14
یا علی مشکل کشا ہادی توئی مولا توئی
بیکس و بیکار را توشہ توئی چاره توئی
یوسفِ کنعانِ من اے عیسیٔ جانانِ من
واقفِ سرِّ نبی نورِ یدِ بیضا توئی
چوں شده جسمِ نبی روحِ نبی چشمِنبی
مظہرِ ذاتِ نبی تمثیلِ او تنہا توئی

0
8
تو مریدِ وارثِ ارثِ علی
کامیابِ ہر دو عالم ناز کن
نسبتِ او کرد ما را وارثی
اے خوشا بر پیرِ خود بس ناز کن
چون افتاده شدم در ہر بلا
دست گیرا دستِ خود را باز کن

0
12
مرشدِ من وارث و مولائے من
دستگیر و رہبر و آقائے من
قامتِ تو چشمِ تو ابروئے تو
سجده گاهِ عاشقاں لیلائے من
گر بدارم من ہزاراں قلب ہا
بر ادایت می دہم دل ہائے من

0
2
46
بس که کن اے یار کن یک بار کن
یک نگہ بر حال من دلدار کن
چوں توی امیدِ من در دو جہاں
نزدِ حق لطفی به من بسیار کن
ایں غمِ هستی کہ دردِ جاں شدہ
درد را درمان کن اے یار کن

0
26
امیرِ دینِ پیغمبر علی حیدر علی حیدر
مِرے مولا مِرے سرور علی حیدر علی حیدر
ہیں نورِ احمد و داور علی حیدر علی حیدر
ضیائے اختر و خاور علی حیدر علی حیدر
نبی کی جاں علی حیدر نبی کا دل علی حیدر
نبی کی ذات کا مظہر علی حیدر علی حیدر

0
9
ستمگر باز کیوں آئے، محبت مہرباں کیوں ہو؟
میں جس کے خواب دیکھوں ہوں، وہ میرا ارمغاں کیوں ہو؟
کہاں کا عشق ؟ کیسا درد ؟؟ کاہے آہ دل کو ہے
کِیا ہے عشق ہم نے جو تو اِس دل کو اماں کیوں ہو
تبہ ہو کر محبت میں نشاں ہم نے مٹایا ہے
تباہی دل پے جو آئے تو باقی پھر نشاں کیوں ہو

0
33
نا کام محبت کی اتنی سی کہانی ہے
دن رات جدائی میں اشکوں کی روانی ہے
کیا تم سے کہوں دلبر اِس دل کی فغانی کو
بس آہ ہے نالے ہیں زخموں کی جوانی ہے
ہم نے تو محبت میں ہر چیز لٹا دی ہے
لیکن وه ہیں یہ کہتے آفت ابھی آنی ہے

0
13