یہ مانا زندگی میں غم بہت ہے
تمہارے غم کے آگے کم بہت ہے
نہ پھیرو ہاتھ زلفِ دل ربا پر
وہاں پر پیچ ہیں اور خم بہت ہے
محبت دائمی و ہستی عدم ہے
مری ہستی کو اس کا غم بہت ہے
یہ داغِ دل، غمِ ہستی و جاں سب
کرم تیرا مرے ہمدم بہت ہے
صنم آنکھوں کے بجھتے ہیں دیے اب
چلے آؤ، *اثر* بیدم بہت ہے

0
1
101
یہ مانا زندگی میں غم بہت ہے
تمہارے غم کے آگے کم بہت ہے

جب زندگی کی بات کر رہے ہیں تو کوئی ایک غم تو نہیں ہوتا کہ کہیں زندگی میں غم بہت ہیں - یہاں ہونا چاہیئے کہ زندگی میں غم بہت ہیں - غم بہت ہے ، صرف ایک غم کی طرف اشارہ ہے اور شعر میں ایسی کوئی تخصیص نہیں ہے

0