نگاہِ لطف کردیں میری ہستی گلستاں کرکے
مرے دل کو بدل دیں اس کو اپنا آستاں کرکے
جہاں جاؤں جدھر دیکھوں وہا ں جلوے تمھارے ہوں
مرے سرور کرم کر دیں مجھے یوں شادماں کرکے
حضوری ہو مرے آقا مری قسمت چمک اٹھے
منور کر دیں خلوت بھی زرا جلوہ عیاں کر کے
لگائیں آگ سینے میں شہا اپنی محبت کی
مجھے اپنا بنا لیں یانبی حق آشنا کرکے
تمہارے دست انور سے ہزاروں معجزے صادر
تسلی مجھ کو بھی دیدیں مجھے بھی جاوداں کر کے
پسینہ پاک تیرا عطر سے بڑھ کر ہوا خوشبو
بسادیں خوشبو ؤں میں جسم و جاں کو عطر داں کرکے
ہراساں کیوں ہو پھر ذیشان محشر کی تمازت میں
مرے آقا بچا لیں گے وہاں پر سائباں کرکے

20