کاش میں بھی دیکھ لوں وہ جلوۂ روۓ حسین
اور سما لوں جسم و جاں میں خوشبوۓ روۓ حسین
خوب سیرت خوب صورت خلق میں تھے بے مثال
اور عدو کے واسطے بھی نرم تھی خوئے حسین
بابا تیرے مولا حیدر مصطفے نانا ترے
سیدہ ہیں والدہ شببر ہیں ماں جاۓ حسین
مصطفی سجدے میں ہیں اور پشت پر پیارے حسین
طول سجدے کو دیا پیاری ہے اداۓ حسین
نام جن کے خود خدائے پاک نے بھیجے تھے وہ
ایک ہیں مولا حسین اور دوجے مولاۓ حسین
سیدہ بی بی سے فرماتے ہیں خود سرکار یہ
پیارا یہ مجھ کو ہے بیٹا اب نہیں روۓ حسین
بھائی بیٹے بھانجے احباب مشکل میں گھرے
دیکھتے ہیں اس گھڑی میں بھی وہ بس سوۓ حسین
دل میں یہ حسرت لئے کہتا ہو اپنے آپ سے
ایک دن جاؤں گا میں بھی دیکھنا کوئے حسین
جستجو ہے دل کو پیارے تو ہے بس اس بات کی
کس طرح تیری وفا ۓ کاملہ پاۓ حسین
جو چلا تھا شوق سے کوفے کی جانب قافلہ
قافلہ وہ لٹ گیا کربل میں سب ہائےحسین
جان جاتی ہے تو جاۓ کوئی اس کا غم نہیں
آپ کی الفت نہ اس دل سے کبھی جائے حسین
حشر میں بخشش کا پروانہ تجھے مل جاۓ گا
تو بھی ہے ذیشان سن ادنی سا گداۓ حسین

4
35
سبحان الله.... مولا قبول فرمائے

0
سلام

بابا تیرے ابنِ حیدر مصطفے نانا ترے

بھائی اس میں امام حسین کو مخاطب کر کے بیان فرما رہے که "بابا تیرے ابنِ حیدر" یہ سمجھ میں نہیں کیونکه امام حسین علیه السلام کے حیدر ہیں نہ کہ ابنِ حیدر.......
ابنِ حیدر کا مطلب اس شعر میں امام حسن بن رہے ہیں. اور ایک بات یہ کہ یہ مصرع دوسری بحر میں ہے بلکہ بیشتر مصرعے بحر دوسری بحر میں ہیں. آپ سب کی تقطیع اس وزن پر کیجیے:
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعلات
یا
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعلن

طول سجدہ کو دیا پیاری ہے اداۓ حسین
یہ مصرع وزن میں نہیں ہے.

صحیح فرمایا ۔۔بہت شکر گزار کہ توجہ دلائی ۔۔

0
اور یہ لکھنے کے بعد عروض تقطیع پہ ڈالے اشعار تو موزوں تھے ۔تو اشاعت کردی ۔۔آپ نے توجہ دلائی ہے۔نوازش۔

0