لکھ رہا ہو ں کلام رحمت کا
جان رحمت تمھاری مدحت کا
دونوں عالم میں چار سو آقا
ذکر جاری ہے تیری رفعت کا
دین و دینا میں جو ضروری ہے
کام ہے بس تری اطاعت کا
مقتدی انبیاء ہے اقصی میں
ہے مصلی ترا امامت کا
تیرے اصحاب و آل و عترت کا
مکتبہ عشق ہے کرامت کا
حشر میں کون ہوگا تیرے سوا
جس کے سر تاج ہو شفاعت کا
حشر میں بھی تری ثناء ہوگی
خوب دن ہوگا وہ قیامت کا
قبر میں حشر میں جو بچ پایا
کا م ہے بس تری عنایت کا
درِ اقدس پہ آنے کو ذیشان
منتظر ہے تری اجازت کا

18