مرے قلب کی ہیں صدا غوث اعظم
مرے پیشوا رہنما غوث اعظم
دکھوں نے ہے گھیرا مصیبت کا پہرا
بچا ان سے ہے التجا غوث اعظم
تمھاری محبت کو دل میں بسائے
سجائے ہوں اک گلستاں غوث اعظم
نگاہِ کرم کے بھٹک جاؤں نا میں
دو ہاتھوں میں دستِ ہدی غوث اعظم
رہوں مست و بے خود تری سلطنت میں
اے شَہِ جہاں بادشاہ غوث اعظم
جو ڈوب چکے تھے ترایا ہے تم نے
مجھے بھی خدایا ترا غوث اعظم
جلا دیجئے دل ہے بیمار میرا
لگائیے دستِ شفا غوث اعظم
ہے ہر سلسلے میں تمھارے ہی جلوے
ہے فیض ترا بے بہا غوث اعظم
گدائے درِ تاج شریعت ہوں مرشد
کہ اختر رضا ہے ترا غوث اعظم
خطا کا ر ہوں شرم ہے مجھ کو مرشد
بنادو مجھے با صفا غوث اعظم
ترے نعلِ پاک کے صدقے میں ذیشان
ہمیشہ شہا با وفا غوث اعظم

19