کلام بحضور ولی کامل صوفی باصفا فنا فی اللہ آفتاب ولایت حضور سیدی سندی آقائی مرشدی حضرت حافظ سید وارث علی شاہ علیہ الرحمۃ الرضوان
رنگ دو اپنے ہی رنگ میں وارث
رنگ ہے تیرے سنگ میں وارث
رنگ کے تیرے میں متوالا
بھردو انگ میں انگ میں وارث
میلا ہوا ہو ں مورے پیا میں
کردو اجلے رنگ میں وارث
آج ہوں بیٹھا دھونی رمائے
جلووں میں تیرے گنگ میں وارث
دنیا کے رنگوں سے مجھ کو بچا لے
آیا ہوں ان سے تنگ میں وارث
غوث پیا کے تم ہودلارے
آؤ نا ان کے سنگ میں وارث
داس میں تیرا دیوہ کے راجا
کردو نا داس کو ڈھنگ میں وارث
جام پلادو رنگ چڑھا دو
تیرا کہلاؤں جگ میں وارث
دھل دھل جاۓ دل کی نگریا
ہاۓ اٹا ہے زنگ میں وارث
واسطہ تم کو مولا علی کا
بن جاؤں ترا سگ میں وارث
درد بڑھاۓ مجھ کو ستاۓ
کیسا پڑا ہوں روگ میں وارث
پاس نہیں کچھ آس بندھا دو
کچھ تو ہو توشہ سنگ میں وارث
ہاۓ فراق کا مارا بے چارہ
ہائے پڑ ا ہے جوگ میں وارث
رقص کروں پیا تورے دوارے
تیرا ہوں تیرا ملنگ میں وارث
نام ترا لوں گم گم جاؤں
آیا ہو ں دیکھو ترنگ میں وارث
مطرب بناۓ مست بناۓ
ہو گیا شوخ و شنگ میں وارث
خاکی کی منگ ہے شاد سلامت
کیسے رہے یہ سوگ میں وارث

1
23
اللہ کریم حضور سیدی حاجی وارث علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ کا فیضان ہر سنی قادری وارثی کو عطا فرماۓ۔آمین۔