ہے کس قدر عظیم قرابت حسین کی
ہے سیدہ کے گھر میں ولادت حسین کی
جبریل لے کے آئیں ہیں مولا تمھارا نام
"شبیر"یوں بھی اعلی ہے عظمت حسین کی
دلکش نقوش چہرہ ملاحت ہے نور نور
کیوں کے ہے مصطفی سے شباہت حسین کی
مولا حسین جنتی سردار ہیں سنو
ہے خلد میں بھی جاری سیادت حسین کی
ہیں تیسرے امام یہ پسرِ علی ہیں یہ
مولا حسن کے بعد امامت حسین کی
ان کے محب کو خلد میں آرام ہو نصیب
دوزخ میں لے کے جائے عداوت حسین کی
کربل میں جاں نثاروں نے تن من لٹا دیا
پیاری تھی ان کو جان سے عزت حسین کی
بھائی بھتیجے بھانجے بیٹے ہو ئے شہید
پھر بھی ہے حق پہ دیکھ لو قامت حسین کی
صبر و رضا کے ساتھ دی سجدے میں جان بھی
ہے منفرد جہاں میں شہادت حسین کی
نیزے پہ سرِ پاک بھی قرآن سنائے
ہے زندہ و عظیم کرامت حسین کی
ذیشان جب بھی یاد حسین ابنِ علی ہو
کربل میں یاد آتی خطابت حسین کی

19