Circle Image

Rana Mohammad Hassan Khan

@12345678786

اچھی غزل کہے کیسے کوئی
گرد پڑی ہے شبابوں پر

0
2
کبھی تو نے سنی تھی کسی بے بس انساں کی
سنے گا اب کیوں کوئی انساں تجھ ناتواں کی

0
6
سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ
اک شانِ دیدنی سے اِذنِ اَذاں ہے پھر سے
سُبحان تیری قدرت! وردِ زباں ہے پھر سے
ظلمت کدوں میں آخر حق ضَو فِشاں ہے پھر سے
مسرور کے جلَو میں یاں کہکشاں ہے پھر سے
بیت الفتوح مسجد عظمت نشاں ہے پھر سے

0
6
جان جاں جب ہم جہاں سے جائیں گے
تب تجھے بے انتہا یاد آئیں گے

0
9
مولویوں سے محبت کیسے کرے کوئی
ان جھوٹوں کی عزت کیسے کرے کوئی
جیسی نماز پڑھے ہے فرقہ مولویاں
اب اس طرح عبادت کیسے کرے کوئی

0
5
ضیائی شجر پھیلتا جا رہا ہے
یہ زہریلے پھل پھینکتا جا رہا ہے

0
8
دشمن جو مرے تو خوشی کریے
دوست کوئی مرے تو غمی کریے
جھوٹے آنسو اب نہ بہائیے
دوغلی سوچ کو اب رمی کریے

0
13
مجھ سے تعلق توڑ دو گے کیا
موت سے رشتہ جوڑ دو گے کیا
مجھ کو اس نے تو چھوڑ دیا ہے
تم بھی مجھ کو چھوڑ دو گے کیا
اپنے ہاتھوں سے تم بھی میری
ہاں گردن ہی مروڑ دو گے کیا

0
14
جو جام ہجرتوں کا پی لیا میں نے
پھٹا ہوا گریباں سی لیا میں نے

0
9
تجھے امیری نے کیا سے کیا بنا ڈالا
خوشی کو گھر سے اپنے تو نے بھگا ڈالا
تری ہوس نے چا ہت کو رسوا کر ڈالا
ہرا بھرا تھا چمن تو نے جلا ڈالا

0
15
کس نے کِیا کیا یہ بات رہنے دیں جناب
یہ میرا غَم ہے مُجھ کو سہنے دیں جناب
جو عُمر با قی بچی ہے کٹ جائے گی
فکر اپنی کریں میری رہنے دیں جناب
رب ہی جانے ہے حال میرے دل کا
تڑپے ہے یہ اسے تڑپنے دیں جناب

8
56
ہم رہ گئے کل بات کرتے کرتے
کیوں رک گئے گُل بات کرتے کرتے
جی بات ہو جاتی جو کیا نہ ہوتا
تم نے تجا ہل بات کرتے کرتے

3
30
گرنے جو لگا تو تُو نے بچایا
رونے جو لگا تو تُو نے ہنسایا
یا رب مرا دل ناتواں کبھی بھی
ڈرنے جو لگا تو تُو نے بہ لا یا
میرے رفیقِ سفر ناگ بن کر
ڈسنے جو لگے تو تُو نے بچایا

0
9
تری شہادت اے شہید رنگ لائے گی ضرور
ہاں تیرے پاک لہو کی مہک لبھائے گی ضرور

0
12
ذروں کو مہر و مہ بنا یا آپؐ نے
بندوں کو بھی رب سے ملایا آپؐ نے
روحانی وہ اسرار جو پردے میں تھے
ان سے بھی پردے کو ہٹا یا آپؐ نے
یہ جو بھرا ہے سب دلوں میں اب تک بھی
ذوقِ یقیں بھی تو عطا کیا آپؐ نے

0
27
گل جو کھلا ز ہر بھر گیا خاروں میں
شیخ شامل تھے اس کے خریداروں میں
ہجر کے ماروں کا بھی عجب حال تھا
ہو گئے سب ہی گل کے وفا داروں میں
جیسی نورِ جبیں سے پھو ٹی رو شنی
ایسی ہو وے نہیں چاند تاروں میں بھی

0
38
ہر ذرّہ میں تُو مَستُور دکھائی دے
گل و بوٹا میں تیرا ظہور دکھائی دے
ہاں دور اور نزدیک تُو ہی تُو دکھائی دے
ظلمت میں بھی تیرا نور دکھائی دے
تیرے رحم کی چادر پھیلی ہے ہر جانبب
ہر گھا ٹے پر اپنا ہی قصور دکھائی دے

0
16
تھک سا گیا ہوں بدلتے موسموں سے وفا کر کے
جی رہا ہوں میں زندگی کو آہ و بکا کر کے
یہ زخمِ دل اب رفو کے قابل ہی کہاں ہے
ٹوٹا ہے یہ مرا دل کئی بار ہی ہاں صدا کر کے
اس بے قراریٔ دل کو ملے گا کچھ تو قر ار
پھونک دو کوئی میرے سینے پر دعا کر کے

0
15
گرنے جو لگا تو تُو نے بچایا
رونے جو لگا تو تُو نے ہنسایا
جب میرا یہ دل ناتواں کبھی بھی
رنجور ہوا تُو نے ہی بہ لا یا
میرے رفیقِ سفر ناگ بن کر
ڈسنے جو لگے تو تُو نے بچایا

0
22
جی اب تو لوگوں میں الفت کی غربت بھی دکھائی دے
یہ غربت ختم ہو تو پھر حقیقت بھی دکھائی دے
مذہب اور وطن کے جھگڑوں نے تو مار ڈالا ہے
یہ جھگڑے ختم ہوں تو پھر خلافت بھی دکھائی دے
ملاں کے بھی لبوں پر تو خدا ہے اور دل میں کفر
فسادی ختم ہوں تو پھر ہاں جنّت بھی دکھائی دے

0
18
جی وہ پھول کیا جس پھول میں خو ش بو نہ ہو
جی وہ عشق کیا جس عشق میں گفتگو نہ ہو
سبھی ہاں دلوں میں یوں تو سو بُت سمائے ہیں
مگر جی وہ دِل ہی کیا ہے جس دِل میں تو نہ ہو
سنو خوب تر کی کھوج ہی تو جی زیست ہے
جی وہ زیست کیا جس زیست میں جستجو نہ ہو

22
شور کرتی ہیں صدائیں مجھ میں
سسک رہی ہیں تمنائیں مجھ میں
نہ جانے کہاں سے اتری ہیں
رقص کرتی ہیں اپسرائیں مجھ میں
فریبِ نظر نے ڈسا ہے تجھے
گنگنا رہی ہیں بلائیں مجھ میں

0
20
آرزو ئے وَصل میں جیا نہیں جاتا
زہرِ جدائی تو اب پیا نہیں جاتا
ہو ئے ہیں دیوار و در شکستہ بدن کے
اب تو سنو سانس بھی لیا نہیں جاتا
رہتے ہیں کچھ لوگ اب کنول کی طرح سے
ہم سے تو کیچڑ میں اب رہا نہیں جاتا

0
17
اب ناچتے بھی ہیں ضمیر یہاں بے حجاب ہو کر
کا لے دِکھتے ہیں اجلے چہرے بے نقاب ہو کر
جی خلوص و وفا کے موتی کم ہی ملتے ہیں
انمول ہو جاتے ہیں ہیرے نایاب ہو کر
جب سے ہوا ہے مرا دل درد آشنا تب ھی سے تو
جی رُوٹھے ہوئے ہیں مجھ سے خواب بے خواب ہو کر

0
17
خبر جُدائی کی تو لگی تھی سبھی کے دِل پَر کِٹار بن کے
جاں بَلَب تھے ہم تبھی ہاں مَسرور آگئے غم گُسار بن کے
سنو تڑپتا سسکتا غم جو کہ حرفوں میں بھی ڈھلا تھا اب وہ
ہماری بھی آنکھوں سے بہے جا رہا ہے دِل کا غُبار بن کے
یا رب اسی دردِ و الم سے ہاں دِل پگھلتے رہیں ہمارے
ہماری تو سنتا ہی رہے تا دعائیں ساری ہاں یار بن کے

0
22
سن لو قصہ دل کا میرے مہر بانی ہو گی
مسکرا دو بات کہنے میں آسانی ہو گی
روٹھنے کو تو حُسن کی ادا کہتے ہیں جی
مان جائو تو قبول تیری زندانی ہو گی
تجھ کو رسمِ عاشقی تو نبھانی ہی ہو گی
ورنہ در پر تیرے بسمل کی قربانی ہو گی

0
25
نہ راس آئے گی یہ آپ کو شرارت آپ کی
لو اب چھلک گئی ہے ہم سے بھی عداوت آپ کی
جی عُمر بھر نہ جان سکے اے مرے عجیب دوست
یوں چل بھی سکتی ہے زبانِ ہاں حلاوت آپ کی
جی گُل کھلاتے ہو ہاں گل کھلاتے ہی رہیں گے آپ
جی مٹی میں بھری ہے خوب ہی غلاضت آپ کی

0
18
دل پر بھاری صدمہ ہے، کوئی کیا جانے
ہجر میں کیسا تڑپا ہے، کوئی کیا جانے
جس نے دل کا چین و قرار ہی لوٹ لیا
ہائے وہ میرا مسیحا ہے کوئی کیا جانے
کہتے ہیں سب لوگ کہ ، عشق بُری بَلا ہے
عشق میں کیسا مزا ہے، کوئی کیا جانے

0
24
سب بِٹیا رانی کا کرنے بیاہ آئے ہیں
خوش رہے سب یہ کر نے دُعا آ ئے ہیں
تیرے گجرے کی کلیاں مہکتی رہیں
تیرے آنگن میں خوشیاں برستی رہیں
پھول بھی جان کرنے فدا آئے ہیں
سب بِٹیا رانی کا کرنے بیاہ آئے ہیں

0
37
شب ہجراں آئی ہے تو میں تھوڑا ڈر گیا ہوں
زندہ تو ہوں پر اندر سے تھوڑا مر گیا ہوں
شوقِ وصال میں اے جانِ جہانِ فانی
سر سے پا ئوں تلک اب تھوڑا سنور گیا ہوں
کرنے لگا تو ہے وہ کچھ رازوں کو بھی اِفشا
اب گہرے بحر میں میں تھوڑا اُتر گیا ہوں

27
ماں کی گود اور باپ کا سینہ چاہیے
پھر مجھے وہ دور بچپن کا چاہیے
زیر سایہ امی ابا کے ہی مجھے
نیند راحت کی اجی سو نا چا ہیے
تھک گیا ہوں چلتے چلتے ابا جی سے
اب تو تھوڑی ٹانگیں دبوانا چاہیے

0
30
چُپکے چُپکے خواب میں تیرا آنا یاد ہے
پہلُو میں تیرا مجھے وہ لٹانا یاد ہے
پاک باطن رونقِ انجمن ہم کو ترا
رُوپِ مریم میں ہاں مجلس لگانا یاد ہے
شہر میں آنا مرے اور وہ میرا تجھے
ملنے کو فَرْطِ مُحَبَّت سے جانا یاد ہے

0
22
مری عمر کا فاصلہ بتا گئے ہیں لوگ
جو دل میں تھا بھرا وہ گنگنا گئے ہیں لوگ
بے اختیار کا کوئی نہ حال پوچھے ہے
تبھی تو مجھ سے نظریں اب چرا گئے ہیں لوگ
ہاں میرے پر کبھی کی تھیں جو مہربانیاں
سنو وہ سب ھی لمحوں میں جتا گئے ہیں لوگ

0
23
تُم میں پہلے سی وہ اب بات نہیں
ملتے تو ہو پر گرمئی جذبات نہیں
تیرے مجھ سے ہاں دور ہو نے کے بعد
ہم سے ہوئے کیا کیا سوالات نہیں
رُوٹھے ہو میری جان شِکوہ تو کرو
جاں دے نہ سکیں ایسے بھی حالات نہیں

0
20
دیکھتے ہی دیکھتے حالات کیا سے کیا ہو گئے
غیر تو جی غیرتھے اپنے بھی اب سزا ہو گئے
میرے لوگ بھوک سے بھی مرتے جا رہے ہیں جناب
ان سے ہاں گناہ نجانے کیا کیا ہو گئے
جو بھی بویا تھا وہی تو کاٹنا ہو گا مری قوم
جی فسادی و ڈاکو تمہارے بھی رہنما ہو گئے

0
24
سائفر کا شور تو ماضی کا قصہ ہو گیا
جی کتاب یو ٹرن کا یہ بھی اب حصہ ہو گیا

0
1
35
کوئی بات اب تو معتبر نہ لگے ہے
اچھی بری خبر خبر نہ لگے ہے
سنو شوقِ سحر میں عاشقوں کو تو
جی ہاں شب میں اچھا قمر نہ لگے ہے
خزاں کی یہ تباہی دیکھ کے تو جی
اچھا اب زیست کا سفر نہ لگے ہے

0
19
سنو عشق کرنا کوئی پیشہ نہیں ہو تا
بنا عشق کے طوفان برپا نہیں ہو تا
ہاں جو خون عاشق کا بہے ہی نہیں جناب
تو پھر عاشقی کا رنگ چوکھا نہیں ہو تا
بظاہر اکیلا ہی دکھائی دے ہے مگر
یہ عاشق تو اک لمحہ بھی تنہا نہیں ہو تا

0
12
وہ خوب ہیں جو الجھی ہوئی گرہیں کھولتے ہیں
بد وہ ہیں جو شرفِ انسانی رولتے ہیں
پیاروں کے دست و بازو توڑ نے والے سن
تجھ سے ظالم عَبَث اُڑنے کو پَر تولتے ہیں
یہ حیات خوشی و غمی کا جھولا جھولتی ہے
جیسے بچے ساون میں جھولا جھولتے ہیں

0
20
لگے نہیں ہے دل دیار غیر میں
جی جب سے کانٹا اک چبھا ہے پیر میں
وہ شوخ چل رہا تھا میرے سنگ سنگ
جو روٹھ کر جا بیٹھا ہے جی دَیر میں
ہاں پیار کی یہی سزا دی اس نے تو
جی حد ہی سے گزر گیا وہ بیر میں

0
19
جو کوءی تیری زُلف کے اسیر ہوتے ہیں
ہر دَور ہی میں قابلِ تعزیر ہوتے ہیں
جہاں غلامی در غلامی ہوتی ہے وہاں
اہل دانش کم، جاہل کثیر ہوتے ہیں
نفس کے قیدی ہوں یا خود پسند
وہ بد قسمت لاچار فقیر ہوتے ہیں

0
12
جن نے جلائے تھے آگ بجھانے والے
جل تو رہے ہیں وہ آگ لگانے والے
آگ ہی پر اب لوٹ رہے ہیں اہل ستم بھی
جل مرتے ہیں آخر آگ اٹھانے والے
جو بھی اہل فساد تھے آگ ہی پھانک رہے ہیں
یہ ہی تو تھے کل آگ کو ہاں بھڑکانے والے

0
24
سنو بوڑھے کو تھوڑا وقت بھی درکار ہوتا ہے
جی بیماری میں جب وہ درد سے دوچار ہوتا ہے
سنو اس کے لیے جلدی گھر اب آ جایا کرنا تم
ہاں بوڑھے کو تو بیٹے ہی کا انتظار ہوتا ہے
جو کم سن بیٹے کو کل ہاں اُٹھا کر بھاگتا تھا اب
اسے چلنے کو بھی بازو ترا درکار ہوتا ہے

0
17
ہم انہیں بیٹھے تکتے رہتے ہیں
وہ تو بس فون کرتے رہتے ہیں
فون میں بھی دجل ہی بھر گیا ہے
سبھی اب جنگ لڑتے رہتے ہیں
فون کی مہربانی سے بچے
تنہا بیٹھے سسکتے رہتے ہیں

0
28
ہاں میرے دیس میں قانون جنگل کا چلے ہے
نحوست کا چھا جوں پانی یہاں ہی تو پڑے ہے

0
20
چور ڈاکو کہنے والے خود ہی بے ایمان نکلے
مومنانہ دعوے بے شرمی کے ہی سامان نکلے
منصفوں کے سامنے غیروں پر الزاماتِ چوری
آپ ہی نے جو لگائے تھے وہ سب بہتان نکلے

28
ہم سے ترک تعلق فرما ہی لیجیے
ہم سے اپنی اچھائی بچا ہی لیجیے

0
18
شب بھر بہت رو ءے دن ہنس کے گزار لے
اب بھول کر خزاں کو لطفِ بہار لے
مدا وا رنج و غم کا رونے سے کیا ہو گا
نفرت کی دنیا میں پیار دے پیار لے

0
27
میلے کپڑے عدالتوں میں دھل رہے ہیں
چھپے تھے جو بھی راز وہ اب کھل رہے ہیں

0
21
گلی گلی میں شور ہے
بڑا یہ جج بھی چور ہے
شا ید بدل گءی ہے رت
جی بن میں ناچا مور ہے

0
29
جو اچھے دن تھے وہ گزر گئے ہیں
مالا کے موتی تھے بکھر گئے ہیں
تنہائی سے دل لگ گیا ہے میرا
جب سے مرے جانِ جگر گئے ہیں
جو دوست مجھ سے دور ہو گئے ہیں
وہ دل سے میرے بھی اتر گئے ہیں

0
37
اگر میں آزاد ہوتا اپنا بھی گھر بناتا
کبھی مقفل نہ ہوتا وہ اس میں در بناتا

0
30
کریلے کی جڑوں میں شربت بھی ڈالو کڑوا ہی رہے گا
مذہب ڈالو جتنا چاہے تم دستور میں بگڑا ہی رہے گا

0
29
وہ جو حد سے گزر جاتے ہیں
وقت سے پہلے مر جاتے ہیں
اب تو رہبر بھی جاتے جا تے
قوم کنگال کر جاتے ہیں
یاد آ ئے مجھے گھر مرا
جب طیور اپنے گھر جاتے ہیں

0
53
تم کہاں ہو جان میری
کب ملو گی جان میری
یاد رکھنا یہ مری جان
تم تو ہو پہچان میری

0
26
رہبر ون کے بعد اب خاموشی کیوں
کرتے رہے تم اب تک عیاشی کیوں
اک چاند کو تم اب تک چھو بھی نہ سکے
اے رہبرو ہے تم میں یہ کمزوری کیوں

0
23
کوئی آئے کوئی جائے تجھے کیا
کوئی مرے کوئی جیے تجھے کیا
لو فار آل تو مجھ کو بھول گیا
مجھے تیری یاد آئے تجھے کیا

0
25
قوم کا گینگ ریپ ہو رہا ہے
لفظ غیرت ری شیپ ہو رہا ہے
شرم سے مر نے کا مقام ہے اب
طیب پر جھوٹ لیپ ہو رہا ہے

0
29
مسلموں کی بے حیائی کا ہو جائے علاج
ہو جائے جو ملائوں کا ان سے اِخْراج
ملا قوم کے شانوں پر جب سے ہیں سوار
شہر اخلاق ہو گیا ہے سارا ہی تاراج

0
33
جو سہا میں نے نہ سہتا جو کوءی اور ہوتا
وہ مر ہی تو مٹتا جو کوءی اور ہوتا
گر آدم خطا کار نہ ہوتا تو صاحب
ہو تا وہ تو فرشتہ جو کوءی اور ہوتا
میرا اللہ ہی اک حی و قیوم ہے جی
گھٹتا کبھی بڑھتا جو کوءی اور ہوتا

0
41
ہاں عائزہ تو جان سے پیاری ہے
یہ تو ہماری راج دلاری ہے
راحت جاں تم کو ڈھیروں مبارک ہو
جو آج سالْ گِرَ ہ تمہاری ہے
تیری عمر دراز ہو میری جاں
ہاں شمع سی صو رت بھی تمہاری ہو

0
57
جرنیلوں نے سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا
عمران کو بے دست و پا کر کے چھوڑ دیا
خاکی نے سدا زیرو کو ہیرو بنایا ہے
جب چاہا ہیرو کی گردن کو مروڑ دیا

0
26
ہائے تو نے یہ کیا کر دیا ہے
دل کتنوں کا غم سے بھر دیا ہے

0
36
یہ زندگی کیا ہے ٹم ٹما تا ہوا دیا ہے
حصارِ حُسن میں زندگی کو میں نے جیا ہے
جی یہ کُو زَہ زَہْر ہنستے ہوئے میں نے پیا ہے
زمانے سے کوئی شکوہ میں نے نہیں کیا ہے
جی کیا کہوں زیست کیسے ہوئی ہے میری تمام
یہ خونِ جگر تو عاشقی میں میں نے پیا ہے

0
36
ترکِ تعلق ہم سے فرما ہی لیجیے
نیکیاں اپنی ہم سے بچا ہی لیجے
مَے کَشی کے آداب ہمیں معلوم نہیں
اپنا میکدہ اب کہیں اور بنا ہی لیجیے
آپ سے کوئی شکوہ شکایت بھی نہیں ہے
آپ خوشی سے اپنی دُکان اٹھا ہی لیجیے

0
39
کٹا بچاؤ ، کٹا پالو اور مرغی پالو
اہل وطن اب ایسے ہی اپنے بچے پالو
ایک ہی جیسے تو حالات کبھی نہیں رہتے
جو بویا کاٹو لڈی پاؤ ہے جمالو

0
35
اب میرے وطن میں گدھوں کا اضافہ ہو رہا ہے
بیچاروں کے دا م میں بھی اضافہ ہو رہا ہے
گدھوں کی مانگ بڑھ جانے سے ہی تو صاحب
اب تو دن رات سیاسی تماشا ہو رہا ہے

0
30
پیار ہو جائے جس کو بھی غلامی سے
دشمنی ہووے اس کو نیک نامی سے
اب سمجھ لو اے قانع حکمرانو تم
جی نہیں بدلے قسمت خود کلامی سے
جو بھی انسانیت سے عاری ہو جائے
اس کو ہوتی ہے رغبت بد کلامی سے

0
45
منافقت جب ایمان میں بدل جائے گی
تو یہ معیشت بھی جلد ہی سنبھل جائے گی
اے غافلو جو اخلاقی ہے وہ بیماری بھی
شفایا بی میں ہاں جلد ہی بدل جائے گی

0
41
وہ آسمانوں سے آنے والا آچکا ہے
وہ سیدھا رستہ بتانے والا آ چکا ہے
سبھی کے ناز اٹھانے والا آ چکا ہے
سریلے گیت سنانے والا آ چکا ہے
جی دل کے آئنوں پر جو گرد سی جمی تھی
ہاں آئنوں کو سجانے والا آ چکا ہے

0
71
مرے دوست مجھ سے بھی محبت جتاتے ہیں
مرے دشمنوں سے بھی وہ ملتے ملاتے ہیں
سیا سَت منافق کی بھی تو خوب ہے مگر
سبھی لوگ اپنا دامن ان سے بچاتے ہیں
وہ گل کی حقیقت کو کیا سمجھیں گے صا حب
ہاں لفظوں کے خنجر سے جو بھی گل کھلاتے ہیں

0
49
غم و ھم انسان کے ایمان کا وزن ہے
سب غافلوں پر کسی شیطان کا وزن ہے
کیوں قتل کرتے ہو انسانوں کو اے غا فلو
سب پر فقط اپنی ہی تو جان کا وزن ہے
واعظ جی ہر اک جاں میں تو اک جہاں ہے نہاں
تم پر کیوں الحاد اور ایقان کا وزن ہے

0
34
یہ نیو ٹرل تو سب جانور ھی ہوتے ہیں
کیا نیو ٹرل جنرل جانور بھی ہوتے ہیں
ہاں نیو ٹرل ہو تو جی نیو ٹرل رہنا
جی جنر ل بھی مد نی یا تو کوفی ہوتے ہیں

0
59
اب تو یہ دل صدا دے یا رب
سب قاتلوں کو مٹا دے یارب
انساں جلانے والوں کو تو
اب دھرتی سے اٹھا دے یارب
باطل بے لگام ہو گیا ہے
اب فیصلہ تو سنا دے یارب

0
41
جو تم نے مقتل میں سجا رکھے ہیں
وہ خنجر ہم نے آزما رکھے ہیں
مہر‌‌ و ماہ و انجم کے پرتو ہیں
وہ جو دیے ہم نے جلا رکھے ہیں
بے فیض ہیں جو چراغ جل رہے ہیں
بس ہم نے آفتاب جلا رکھے ہیں

0
80
جب تلک خنجر چلائے جائو گے
خود کو ہی بنجر بنائے جائو گے
احمدی کا خوں بہا کر تم اسے
گل سے گل تر بناءے جاءو گے
مسکنت کی مار کھاتے جاءو گے
جب تلک مضطر بناءے جاءو گے

56
سبسڈی گلے کا پھندا بن گءی ہے
اب سیاست بھی تماشا بن گءی ہے
عادی چوروں کا ہی اب تو راج ہے جی
اسمبلی بھی جیل خانہ بن گءی ہے

0
47
میں تجھے گلے لگانا چاہتا تھا
حال دل تجھ کو سنانا چاہتا تھا
تم سمندر پار تو آ ہی گئے تھے
وقت تب شاید ستانا چاہتا تھا
شب میں جیسے ملتے ہو جی تم بھی اکثر
خواب وہ تجھ کو سنانا چاہتا تھا

0
145
جی ہاں سازش کے لیے تو ذہانت چاہیے
اور لڑاءی کرنے کو بھی تو طاقت چاہیے
جو لڑاءی اور سازش کے ہی قابل نہ ہو
ایسے لیڈر کو نہ کرنی سیاست چاہیے

0
39
اب سیاست گندگی کا ڈھیر ہے
کوءی گیدڑ ہے تو کوءی شیر ہے
سب ہی رہبر مسلم اور کافر بھی ہیں
ہاں فقط عہدوں کا ہی تو پھیر ہے

0
40
دل کا کیا ہے بہل ہی جائے گا
وقت نازک ہے ٹل ہی جاءے گا
جس نے بھی اوکھلی میں سر دے دیا
اسی کا سر کچل ہی جاءے گا
جسے چاہت سے سینچا جاءے گا
وہ شجر پھول پھل ہی جاءے گا

0
47
اے وطن کے مزدورو کوئی بھی تمہارا نہیں
خوشحالی تمہاری کسی کو بھی تو گوارا نہیں
آئین تو جی دشمن ہے دوست تمہارا نہیں
عزت تمہیں دے ایسا کوئی ادارہ نہیں
بت گونگی شرافت کا اب توڑ دو تم مل کر
اب بولو بھی منہ میں تمہا رے اَنْگارَہ نہیں

0
43
ہاں بھیڑ تھی ہر سو شر ہی کی پھیلی ہوءی
کمارا کی گرم راکھ تھی پھیلی ہوءی

0
53
پی ٹی آءی بھی فتنہ عمرانی ہو گیا
اس کو مٹانا بھی فرض ایمانی ہو گیا
دین حنیف کیا ہے اس کو بھلا کر اب
سب کا مذہب ہی دل کا جانی ہو گیا

0
109
عید کا دن ہے خوشی ہی منانا چاہیے
دوستو غم بھول کر مسکرانا چاہیے
دوستو بیحد مُبارَک ہو سب کو یَومِ عید
آج تو مل بیٹھ کر کھانا کھانا چاہیے
کلفتوں کی دَلْدَلوں سے نکل کر ہم کو اب
جو بھی روٹھے ہیں سبھی کو منانا چاہیے

0
40
جی اب تو عزت مہنگی ہو گئی ہے
جی ہاں یہ ذلت سستی ہو گءی ہے

0
45
دیوانہ ہے دیوانہ اس کو رہنے دو
یہ جو بھی کہتا ہے تم اس کو کہنے دو
عاشق ہوائوں میں اڑا ہی کرتے ہیں
دیوانے کو بھی تم ہوا میں اڑنے دو
دیوانہ روتا ہے تو رونے دو اس کو
دریا جو بہتے ہیں تو ان کو بہنے دو

0
57
انا بٹیا پاس ہو گئی ہے
مری انا باس ہو گئی ہے
جی ہاں یہ مدت کے بعد مُجھ سے
مشورہ لے کر خاص ہو گئی ہے

0
37
خان کی یہ صدا ہو گئی
شب قدر شب دعا ہو گئی
خان کی کرسی کیا چھن گئی
کرسی ہی مدعا ہو گئی

0
35
دل تو تھوڑی خوشی چاہتا ہے
بات کرنے کو جی چاہتا ہے
دل تو تھوڑی خوشی چاہتا ہے
وقت تیزی سے چل تو رہا ہے
کیوں جی اور تیزی ہی چاہتا ہے
گند میں بیٹھا نادان دیکھو

0
56
آسماں سے اتری ہے ننھی پری
ہاں خدا نے بخشی ہے ننھی پری
جی ہاں یہ مہ بھی حسیں تو ہے مگر
شان تو بس تیری ہے ننھی پری
تجھ کو پا کر تیرے دادا جی کے ساتھ
خوش تری دادی بھی ہے ننھی پری

37
آسماں سے اتری ہے ننھی پری
ہاں خدا نے بخشی ہے ننھی پری
جی ہاں یہ مہ بھی حسیں تو ہے مگر
شان تو بس تیری ہے ننھی پری
تجھ کو پا کر تیرے دادا جی کے ساتھ
خوش تری دادی بھی ہے ننھی پری

0
52
جرنیلی لڑائی سڑکوں پر جا رہی ہے
جی ہاں بے شعوری بھی تباہی لا رہی ہے
جو چاہ میں اک فَیض کی بے فیض ہوئے ہیں
اب آگ انہیں پچھتا وے کی جلا رہی ہے
ہاں ان کا کل جن نے دھڑن تختہ کیا تھا
پی ٹی آءی دوبارہ انہیں کو بلا رہی

0
44
عمر بھر اس کا اظہار کیا میں نے
دل و جاں سے تجھے پیار کیا میں نے

0
42
یہ تاریکی اجالے کا کھیل نہیں

0
49
تری عزت افزائی پر آنسو نکل پڑے
مری بے بسی جو دیکھی پتھر پگھل پڑے
ترے منہ سے جھڑتے پھول دیکھے جو کوئی بھی
بری سوچ میں بھی اس کی تو جی خلل پڑے
مرے پاس تو شکووں کا انبار ہی ہے جی
ہاں اِک شکوے پر ہر ایک رشتہ اچھل پڑے

0
37
لو تکبر کا بت ٹوٹ گیا
شیطاں کا پسینہ چھوٹ گیا
کچھ دن جو خوب بجایا تھا
وہ جھنجھنا دیکھو ٹوٹ گیا
آخر کو بیچ چو راہے میں
گھڑا بغض و ریا کا پھوٹ گیا

0
42
میں سو رہا ہوں مجھے کیوں جگاتے ہو
میں نشے میں ہوں مجھے کیوں ستاتے ہو
مجھے بے جان اک لاشہ بنا دیا
اے قاتلو تو مجھے کیوں جلاتے ہو
اب ایوا نوں میں تو مردے بستے ہیں
پھِر ان کی راہ مجھے کیوں دکھاتے ہو

0
39
ہم نہیں مانیں گے جو آئین میں مسطور ہے
لاقانونیت تو ہماری گھتی میں پڑی ہے

0
41
جی ہاں عدو نے جب جلایا مجھ کو
اک نعرہ مستانہ سنایا مجھ کو
ہنسنے کی قیمت تو نہ پوچھیے صاحب
اپنوں نے بھی پہروں رلایا مجھ کو
تیر اپنوں نے جب جب چلائے مجھ پر
تب تب ہی تو جی وَجْد آیا مجھ کو

0
54
آئو محبت کے پھر چراغ جلائیں
ہم سبھی پَت جھڑ میں بھی بہار منائیں
غم زدو اب آءو جشن زیست منائیں
کا ہے کو ما ضی کے قِصّوں کو ہمی گاءیں

0
42
جو اندیشے تھے سب حقیقت ہو گئے
یاروں کے لیے ہمی مصیبت ہو گئے
کانوں میں جو رس گھولا کرتے تھے کبھی
میٹھے بول اب حرف ِ ملامت ہو گئے
اخلاقیات کا جنازہ ہو چکا
اب لہجے قیامت کی علامت ہو گءے

0
51
عمران کی بے بسی پر تو جی ترس آتا ہے
پہلوں کی طرح مدد کو پکارے جاتا ہے
اسے کرسی دلانے والے بیگانے ہو گئے
جرنیلی ٹولہ تو ہر بار ایسا ہی کرتا ہے

0
43
ہنستے روتے ہوئے کوزۂ زہر میں نے پیا ہے
نہ ہی وقت سے کوئی بھی گلہ میں نے کیا ہے
یہ نہ پوچھیے جی زیست مری کیونکر تمام ہوئی
جی ہاں عاشقی ہی میں تو خونِ جگر میں نے پیا ہے

0
32
سو گیدڑوں کا توعمران شیر ہے
یہ پی ٹی آئی تو جی ہیر پھیر ہے

0
34
سن لے مختیاریا گل ودھ گئی اے
ہر پاسے ہن اے ہی تے کھپ پئی اے
ہن چھیتی کجھ کر لے او مختیاریا
ہاں کشتی اقتدار دی ڈب رئی اے

0
42
جو ظلم کرتے ہیں اپنی عمر کم کرتے ہیں
مظلوم تو ناحق ہی واویلا و غم کرتے ہیں

0
28
آج تو ہم ہو کر تیار بیٹھے ہیں
لگتا ہے وہ پسِ دیوار بیٹھے ہیں
تَشنگی رگ و پے میں بھی اتر چکی
پینے کو شربتِ دیدار بیٹھے ہیں
پی کے مے دِید تیری بَزْم سے اٹھے
وہ سبھی عاشق اب سرشار بیٹھے ہیں

51
جو بائی ڈن کی زباں بھی پھسل گئی
یو ک ری ن کو ایران کہہ دیا
بڑھاپے میں اک عیسائی کو اگر
کیا ہوا جو مسلمان کہہ دیا

0
35
جسم مرتے ہیں جی روح تو فنا نہیں ہوتی
کوئی شے بھی اپنے اصل سے جدا نہیں ہوتی

0
26
خلافت ہی تو اب صداقَت ہے یارو
خلافت سے دوری حماقت ہے یارو
خلافت نے جو کچھ بھی بخشا ہے ہم کو
ہماری یہ جاں اس کی قیمت ہے یارو
جو نِعْمَت ہر اک اب ہمیں مل رہی ہے
خلافت ہی کی تو بدولت ہے یارو

0
64
ہاں! تنہائی کی عادت ہو گئی ہے
کہ اشکوں سے رفاقت ہو گئی ہے
گٸے ہنسنے ہنسانے کے وہ دن تو
کہ راحت اب اذیت ہو گئی ہے
جی ہوٸی صلح بھی اب تو براٸی
اِسی سے اب عداوت ہو گئی ہے

0
87
بے فیض چراغ جل رہے ہیں
نفرت کے گٹر ابل رہے ہیں
مہ کامل کے اَثَر ہی سے تو
دَرْیا ئے مُحِیط اچھل رہے ہیں

0
63
تنہائی کی عادت ہو گئی ہے
اشکوں سے رفاقت ہو گئی ہے
اب ہنسنے ہنسانے کے دن تو گئے
راحت اب اذیت ہو گئی ہے
صلح اچھائی ہے برائی ہو ئی
اس سے تو عداوت ہو گئی ہے

0
44
نہیں ملتا مال و زر سے سکونِ دل اے بَشَر
خوشی من سے پھوٹتی ہے مثل خودرو شَجَر

0
47
تنہائی کی عادت ہو گئی ہے
اشکوں سے رفاقت ہو گئی ہے
اب ہنسنے ہنسانے کے دن تو گئے
راحت اب اذیت ہو گئی ہے
صلح اچھائی ہے برائی ہو ئی
اس سے تو عداوت ہو گئی ہے

0
35
چاہ میں تیری جب مچلتا ہے
دِل بڑے زور سے دھڑکتا ہے
پیار کا گل تو کھلتا ہے شب میں
جس کی خوشبو سے دن مہکتا ہے
قلبِ انساں تو عرشِ اکبر ہے
پھر گناہوں سے کیوں بہلتا ہے

0
41
شب ہجراں ہے میں تھوڑا ڈر گیا ہوں
زندہ تو ہوں پر تھوڑا مر گیا ہوں
اب سنتا تو ہے وہ دُعائیں میری
گہرائی میں تھوڑا اُتر گیا ہوں
ہنس تو پڑا جب اس نے مجھ کو دیکھا
عشق میں نام تھوڑا کر گیا ہوں

0
38
تیری منزل تو نہیں ہے عالم ملکوتی و جبروتی
اے طائر ناسوتی! منزل ہے تری عالم لاہوتی

0
39
تُم میں پہلے سی وہ اب بات نہیں
ملتے تو ہو پر گرمئی جذبات نہیں
جب سے ترا آنا جانا موقوف ہوا
اٹھے ہیں کیا کیا سوالات نہیں
رُوٹھے ہو میری جان شِکوہ تو کرو
جاں دے نہ سکوں ایسے بھی حالات نہیں

0
51
تو نے بے وفائوں سے گر دنیا بھرنی تھی
تو خانۂ غم بھی دل سے مٹا ہی دیا ہوتا

0
42
جو نیا نقشہ بنا لیا تو کیا
خواب میں قبضہ چھڑا لیا تو کیا
فوج نے فرضی بہادری کا جو
قوم کو قصہ سنا لیا تو کیا

0
36
دوستو! کشمیر شہ رگ ہے ہماری
دھڑ یہاں گردن کہیں اور ہے ہماری
ہر جا رُسوا جھوٹ نے ہی کیا ہے یارو
ہر ادا ہی جگ سے الگ ہے ہماری

0
33
شاہ جی پوچھ رہے ہیں شاہ عرب سے یہی
ہم سے بڑھ کر شیدائی ہو تجارت کے
یہ عرب تو بھائی سدا ہی کے ہیں جناب
تو پھر کیوں یہ عرب قابل ہیں حقارت کے

0
68
مذہب کا پہلا سبق انسانیت ہے
ابن آدم کا قتل بھی حیوانیت ہے
اندھی محبت کے مارے لوگو سن لو
آپ کی تو ہر ادا میں ہی شیطانیت ہے

0
38
وہ مرزائی ہے یہ قادیانی کا یار ہے
یہ سب کہنا مولوی جی کا کاروبار ہے
جو بھی حق کہے وہی تو اس کی نگاہ میں
کافر ہے ، مرتد ہے اور غدار ہے

0
51
آگ عداوت کی تو بھڑکتی ہی جا رہی ہے
برقِ غضب اب ہر جا کڑکتی ہی جا رہی ہے
مولوی تو جی قعر ذلت میں گرا دیں گے آخر
رفتہ رفتہ قوم بھٹکتی ہی جا رہی ہے

0
47
سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی
نئے بل سے فوج پاک ہو چلی
لو توہین جرنیل قابل سزا
نئی فصل نفرت کی بو چلی

0
35
توہینِ مذہب کے الزام میں ظالموں نے
ڈنڈوں اور سوٹیوں سے اک شخص کو مار دیا
قانون کی آڑ میں انسانیت مر رہی ہے
جذبہ ایمانی نے جذبہ نفرت ابھار دیا

0
39
مریم کہتی ہیں پاور ٹاکس ٹو پاور
پاور گیم میں پاور ہی تو چلتی ہے
مرنا ہی تو ہوتا ہے ہر لاغر کو
پاور کی اک انگلی ہی تو اٹھتی ہے

37
آپ کا تحفہ تو لاجواب ہے جی
شال تو نرم و نازک گلاب ہے جی
مولا آپ کو سدا شاد کام رکھے
تحفہ دینا تو کارِ ثواب ہے جی

0
44
آئین کو بے آبرو کرنے والو!
اب تمہیں بے آبرو کہے ہے دنیا
مر جائو اب چلو بھر پانی میں
رسوائی میں جینا کیا جینا ہے بھلا

0
43
شب ہجراں ہے میں تھوڑا ڈر گیا ہوں
زندہ تو ہوں پر تھوڑا مر گیا ہوں
اب سنتا تو ہے وہ دُعائیں میری
گہرائی میں تھوڑا اُتر گیا ہوں
ہنس تو پڑا جب اس نے مجھ کو دیکھا
عاشقی میں نام تھوڑا کر گیا ہوں

0
37
تُم میں پہلے سی وہ اب بات نہیں
ملتے تو ہو پر گرمئی جذبات نہیں
جب سے ترا آنا جانا موقوف ہوا
اٹھے ہیں کیا کیا سوالات نہیں
رُوٹھے ہو میری جان شِکوہ تو کرو
جاں دے نہ سکوں ایسے بھی حالات نہیں

0
40
کیا آنا جو پیارے نہ رہیں
گلے لگنے والے نہ رہیں
جو وصالِ یار نصیب ہو تو
لب پر فرقت کے حوالے نہ رہیں
اس طرح لپٹ جاؤ مجھ سے
مرے تن من میں پالے نہ رہیں

37
جنرلوں کی رسوائی جاری ہے
یہی ٹولہ تو بیماری ہے
جو بچا لڑائی میں جائے گا
بے حیاؤ دنیا ہنسے ساری ہے

0
42
اب نامرد بناؤ یا کاٹو رگِ جان
ناپاکوں سے اب تو پاک کرو پاکستان
اب تم کچھ تو کر لو شرم و حیا صاحب جی
مدت سے جی بنے بیٹھے ہو تم تو شیطان

46
ہر جا عصمتیں لٹ رہی ہیں
اب تو مائیں پٹ رہی ہیں
کم سن بچے ادھڑ رہے ہیں
اچھی ادائیں مِٹ رہی ہیں

0
41
راحتِ دِل کو تو سینے سے لگا رکھا ہے
جانِ جاں کو ہم نے پلکوں پہ بٹھا رکھا ہے
وہ کیا جانے گا مرا حالِ دِل جس نے
درِ غیر پر اپنا سر جھکا رکھا ہے
داغِ دل قاتل چاہت ہی کی عطا ہے
ہر اک داغ کو سینے میں چھپا رکھا ہے

0
40
ہم کو تو کورونا سے نہ ڈرائے کوئی
ہم کو موت کہانی تو نہ سنائے کوئی
ہم سب تو ہر پل جینے مرنے والے
ہم پر تو جی کبھی روکیں نہ لگائے کوئی
ہم سب ظلمت میں پلنے والوں کو جناب
کوئی رنگ میں روشنی تو نہ دکھائے کوئی

59
آتشِ فاقہ میں مَیں جلایا گیا ہوں
قصوں ہی سے میں الجھایا گیا ہوں
عزت کی خُو بُو بھی اب تو نہ رہی
بحرِ بے بسی میں میں ڈبویا گیا ہوں
فرقوں نے تو مار ہی ڈالا ہے ضمیر
مرتد، کافر میں ٹھہرایا گیا ہوں

51