تم سامنے ہو تو دل میں روشنی رہتی ہے
تم دور نظر سے ہو تو بے کلی رہتی ہے
تیری چاہت نے مجھے جینے کا ہنر بخشا
ترے بن دھڑکن میں سست روی سی رہتی ہے
تیری باتوں سے ہوا کو بھی سکوں ملتا ہے
ورنہ موسم میں تو اکثر بے رخی رہتی ہے
تیرے ہاتھوں کے لمس سے ہر غم دور ہوا
ورنہ آنکھوں میں تو اکثر تیرگی رہتی ہے
اللہ کرے کہ سدا ہی شگفتہ رہو جانم
اس کی رحمت ہی سے تو شگفتگی رہتی ہے

0
3