| طاقت ملی تو چہرے بدلنے لگے یہاں |
| فرعونیت کے پرتَو یہ دکھنے لگے یہاں |
| کمزور تھے تو نیک تھے سب کی نظر میں جو |
| طاقت جو ملی بد وہ بھی بننے لگے یہاں |
| لوگوں کے ظرف کا مجھے ادراک تب ہوا |
| جب اختیار کے دیے جلنے لگے یہاں |
| جو دل میں تھا وہی زباں پر ان کے آ گیا |
| چہرے کے سب نقاب اترنے لگے یہاں |
| جن کو قدم اٹھانے کا کچھ ناں سلیقہ تھا |
| وہ ہی قدم اب آگے نکلنے لگے یہاں |
| جن نے دیا وفا کا ہی تھامے رکھا سدا |
| وہ مر کے پھر دوبارہ جی اٹھنے لگے یہاں |
| سچ بولنے کی سچوں کو اُجرت یہ ملی ہے |
| جھوٹے تھے لوگ سچے جو بننے لگے یہاں |
| ہم نے تو دل کی بات کو دل میں ہی رکھا تھا |
| لفظوں کے تیر مجھ ہی پہ چلنے لگے یہاں |
| رشتوں کی گرم جوشی بھی اک دھوکا ہی تو تھی |
| بدلا جو وقت اپنے بھی ڈسنے لگے یہاں |
معلومات