Circle Image

Md. Kalimuddin

@behiskalim

ڈر ہے اسکا مجھے زمانے سے
مان جاؤں نہ میں منانے سے
گھر کی دیوار سے بھی بات کرو
منتظر ہیں یہ اک زمانے سے
ساری خوشیاں اداس بیٹھی ہیں
ایک تیرے نہ مسکرانے سے

0
9
ایسا نہیں کہ پیاس کا صحرا بدل گیا
ساقی تری نگاہ کا لہجہ بدل گیا
پہلے تو پیاس نے ہمیں بے حال کر دیا
پھر پانی اور پیاس کا رشتہ بدل گیا
شدت تھی تشنگی تھی سمندر بھی پاس تھا
میرے نصیب کا ہی ستارہ بدل گیا

0
4
غمگین اس جہاں کا بازار آجکل ہے
گلشن کی ہر کلی کیوں بیزار آجکل ہے
آنکھوں سے زندگی کا پیتا ہوں بھر کے پیالہ
دریا یہ آنکھ کا ہی غم خوار آجکل ہے
ایسا نہیں کہ انکی خواہش نہیں ہے دل میں
دنیا کے غم کا دل یہ بیمار آجکل ہے

0
5
عدل و انصاف کا میزان مجھے کھینچتا ہے
رگوں میں بس رہا ایمان مجھے کھینچتا ہے
کبھی ٹوٹا نہیں پیمان و وفا کا رشتہ
خارو خستہ، دلِ بے جان مجھے کھینچتا ہے
پہلی بارش مِیں مَیں بھیگا تھا یوں لرزاں ہو کر
پہلی بارش کا وہ طوفان مجھے کھینچتا ہے

0
7
دل ہے چھلنی تری نظروں کا نظارہ کرکے
مجھکو اب اور نہ تڑپا یوں اشارہ کرکے
"تو سمجھتا ہے ترا ہجر گوارا کرکے"
بھول جائیں تجھے ہم جاں کا خسارہ کرکے
تجھکو ان ساتھ گزارے حسیں لمحوں کی قسم
چھوڑ کر مجھکو نہ جانا بے سہارا کرکے

0
11
شوق میں زندگی یوں فنا ہو گئی
ابتدا ہی مری انتہا ہو گئی
ہر گھڑی زیست نے یوں ہے رسوا کیا
زندگی تو کوئی بد دعا ہو گئی
خلوت و ہجر سے کیوں نہ گھبراۓ ہم
نالَہءِ دل بھی اب بے صدا ہو گئی

0
9
نہ ٹھہرے ایک بھی لمحے کو پا بہ گِل ہوکے
ہوۓ جو شمس و قَمر ایک ادنیٰ دل ہوکے

0
21
دل کا رنگ نرالا ہے
گورا ہے نا کالا ہے
بھیس بدل کر رہتا ہے
سبکا من مدھو شالا ہے
تم کیوں چپ سے رہتے ہو
کیا پڑا عشق سے پالا ہے

0
11
کوئی نہ آنے والا ہے
دن بھی ڈھلنے والا ہے
رنگ بدلتی دنیا کا
ڈھنگ بدلنے والا ہے
خود میں ہم مصروف ہوۓ
باغ ا جڑ نے والا ہے

0
26
کہ آگ دل میں لگی ہے ایسی
یہ شام بھی اب پگھل رہی ہے
مجھے نہ تم اب یوں آز ماؤ
مری بھی نیت بدل رہی ہیں
نشیلی راتیں حسیں وہ باتیں
پھرآرزوئیں مچل رہی ہے

0
12
عشق میں گر چہ غم ہوگا
روگ یہی مرہم ہوگا
جان پہ جاؤں کھیل، اگر
تو جو مرا ہمدم ہوگا
آنے والا ، جاۓ گا
کوئی نہیں ہر دم ہوگا

0
7
آج نہیں تو کل ہوگا
ہر مشکل کا حل ہوگا
جیون کی اس نَیا میں
ہلچل تو پل پل ہوگا
بادل آنے والا ہے
ہر منظر جل تھل ہوگا

0
1
32
ہمیں سے محبت ہمیں سے خفا ہو ,یہ لازم ہے تمکو کہ تم معجزہ ہو مرے دردِ دل کی انوکھی دوا ہو نشہ ہی نشہ ہو مزہ ہی مزہ ہو نہیں کوئی ایسا ستمگر جہاں میں ستم اور ستم ہی کِئے جا رہا ہو ہے محبوب میرا کچھ ایسی صفت کا جفا بھی کرے تو وفا لگ رہا ہو کہیں آگ بن کے یہ شعلہ نہ بھڑکے کہیں مجھ سے ایسی نہ کوئی خطا ہو اب ان آنسؤں نے بھی یہ کہہ دیا ہے بڑے بے وفا تم بڑے بے وفا ہو

1
30
۔۔۔غزل براے اصلا ح و تنقید۔۔۔
میری آواز بھی میرے بس میں نہیں
اور قلم بھی مری دسترس میں نہیں
قید کی تھی تمنا کئی برسوں سے
چین کیوں، اب مجھے اس قفس میں نہیں
آرزو ، آرزو ہی ہو کر رہ گئی

0
24
ہمیں سے محبت ہمیں سے خفا ہو
,یہ لازم ہے تمکو کہ تم معجزہ ہو
مرے دردِ دل کی انوکھی دوا ہو
نشہ ہی نشہ ہو مزہ ہی مزہ ہو
نہیں کوئی ایسا ستمگر جہاں میں
ستم اور ستم ہی کِئے جا رہا ہو

0
28
بجھے چراغ میں سحر تلاش کر
شگاف میں، چھپا ہے در تلاش کر
جو ہو گیا سو ہو گیا، تو غم نہ کر
نئی زمیں نیا سفر تلاش کر
دیار شوق میں غضب کی دھوم ہے
میں کھو گیا ہوں بے خبر تلاش کر

0
26
اداس کیوں ہے زندگی
ہے آس پاس ہی خوشی
جنوں جنوں یہ عاشقی
نہ وصل ہے نہ ہجر ہی
شب وصال کی خوشی
ہے چار دن کی چاندنی

0
23
مجھے اب کوئی بھی ڈر نہیں ہوتا
مرا جو اب کہیں گھر نہیں ہوتا
روانی کتنی ہی کیوں نہ ہو ، لیکن
کبھی دریا سمندر نہیں ہوتا
نہ جانے کون ہے ، سسکیاں لیتا
جو اندر ہے ، کیوں باہر نہیں ہوتا

0
28
ہم اپنے درد دل کا ، عنوان ڈھونڈھتے ہیں
اچھا مجھے کرے ، وہ انجان ڈھونڈتے ہیں
دل کی گلی میں آیا کوئی ہے چپکے چپکے
کیسا ہے ،کون ہے، وہ مہمان ، ڈھونڈتے ہیں
اب کے جنوں نے ایسا، کچھ کھیل ہے رچایا
مٹی کی مورتوں میں انسان ڈھونڈتے ہیں

0
40
زندگی میں ہم مشکلوں سے گھبرائیں کیوں
دل ہے تو دھڑکےگا، دھرکنوں سے گھبرائیں کیوں
آنا ہے، تو آۓ، بن کے قَیامَتِ جاں
جانی پہچانی رُتوں سے گھبرائیں کیوں
ہےمقصود ، اگر منزل، تو اے جانِ جاں
راستوں کے ان مرحلوں سے گھبرائیں کیوں

27
سرمئی شام کا اندھیرا ہے
آپکے نام کا اندھیرا ہے
عشق اور جام کا اندھیرا ہے
ہاں بڑے کام کا اندھیرا ہے
اس سفر میں نہیں میں تنہا کبھی
ساتھ انجام کا اندھیرا ہے

0
9
جادو ٹونا جنتر منتر
بان چلے نا کوئی ان پر
کِت رُت جاؤں کا سے کہوں میں
آگ لگی ہے بھیتر بھیتر
نَین مٹکا خوب ہوا ہے
آتے جاتے گلی میں دن بھر

0
53
آہ جب تیرگی کی نکلے گی
روشنی روشنی کو ترسے گی
آدمی آدمی کو تڑ پے گا
کوئی صورت نظر نہ آۓ گی
کیا کرو گے جو دل یہ ٹوٹے گا
جان جاۓ گی جاں نہ نکلے گی

0
40