ہم اپنے درد دل کا ، عنوان ڈھونڈھتے ہیں
اچھا مجھے کرے ، وہ انجان ڈھونڈتے ہیں
دل کی گلی میں آیا کوئی ہے چپکے چپکے
کیسا ہے ،کون ہے، وہ مہمان ، ڈھونڈتے ہیں
اب کے جنوں نے ایسا، کچھ کھیل ہے رچایا
مٹی کی مورتوں میں انسان ڈھونڈتے ہیں
اچھے، برے، بھلے کی کوشش تو کیجیۓ کچھ
پھر ، منزلوں کا کوئی امکان ڈھونڈھتے ہیں
پہرا ہے دل پہ ایسا ان کی محبتوں کا
نکلیں جو گھر سے باہر، دربان ڈھونڈتے ہیں
راہِ وفا میں بے حس، چلنا سنبھل سنبھل کے
راہِ وفا تو ہر دم ، میزان ڈھونڈھتے ہیں
بےحس کلیم

0
58