Circle Image

قمر آسی

@Qamar_Aasi

صبح و مساء و شام و سحر حق کے ساتھ ہے
دامادِ حیدر آٹھ پہر حق کے ساتھ ہے
اعزاز اس نے پایا مرادِ رسول کا
خَطّاب کا دلارا پسر حق کے ساتھ ہے
شاہد ہیں میری بات کے حق آشنا تمام
حق ساتھ ہے عمر کے ، عمر حق کے ساتھ ہے

0
4
سرکارِ دوعالم کے فرامین کے وارث
وہ بعدِ عمر مملکتِ دین کے وارث
کرتے ہیں حیا جن سے فرشتے بھی فلک پر
عثمان ہیں اس خُلقِ براہین کے وارث
قرآن کیا جمع بہ توفیقِ الٰہی
کہنا ہے بجا مصحفِ تسکین کے وارث

0
3
طے کر گئے ایمان کی اقدار بہتر
کہلائے وفاداری کا معیار بہتر
ہر ایک گلِ تر سے معطر ہیں زیادہ
مہر و مہ و انجم سے ہیں ضو بار بہتر
امکان بھٹکنے کا مرے کوئی نہیں ہے
رہبر ہیں مرے صاحبِ کردار بہتر

0
3
وہ یونیورسٹی آ کر مجھے چڑاتے ہیں
کلاس فیلو جنہیں تیرے خواب آتے ہیں
میں بولتا ہوں تو ہوتی ہے معترض دنیا
رہوں خموش تو الفاظ تللاتے ہیں
یونہی خلاف نہیں واعظانِ شہر کے میں
یہ لوگ مجھ کو محبت نہیں سکھاتے ہیں

6
کرتے ہیں جس پہ رشک یہ ارض و سما حسین
تو نے بنایا دشت میں وہ ضابطہ حسین
ترتیب وار گرتے ہیں آنکھوں سے میری اشک
گریہ گزار کہتے ہوئے کربلا ، حسین
صحرا میں کون پھول کھلاتا ہے اس طرح؟
"بس آپ ہی دکھاتے ہیں یہ معجزہ حسین"

4
نبی کے چاہنے والوں کے ہیں ولی حیدر
مری طلب سے بھی واقف مرے سخی حیدر
سمیٹنا تھا طہارت کو ایک مصرعے میں
کہا ! حسین ، حسن ، فاطمہ ، نبی ، حیدر
کسی نے مجھ سے شجاعت کی انتہا پوچھی
رواں زبان پہ خود ہو گیا علی حیدر

3
کیا ہو جواد سے گدا ناراض
سو نہ میں وقت سے ہوا ناراض
اسے بھی چاند سے رہا شکوہ
خود سے میں بھی سدا رہا ناراض
تُو خفا ہے تو ایسا لگتا ہے
دل سے دھڑکن ہے دوستا ناراض

6
امن میں پھول ، جنگ میں ہتھیار
اس سے بہتر نہیں ہے کاروبار
ظرف کی اپنے کیجے پیمائش
پھر بھلے ناپ لیں مرا کردار
چھٹ گئے ماہتاب سے بادل
آرزو کا شجر ہوا پھل دار

4
گرد و غبار سر میں ہے ، پیروں میں دھول ہے
جانے کدھر ہماری تمنا کا پھول ہے
تسلیم کر بھی لے اگر اس بات کو شعور
دل مانتا نہیں کہ محبت فضول ہے
تُو مجھ کو بھول جائے گی ، معلوم ہے مجھے
میں تجھ کو بھول جاؤں گا یہ تیری بھول ہے

7
ظرف ہوتا ہے بس فقیروں میں
بانٹتے خیر ہیں شریروں میں
شاہ کا دھیان بانٹنے والا
کوئی کم ذات ہے مشیروں میں
اک نجومی نے راز کھول دیا
کچھ نہیں ہاتھ کی لکیروں میں

3
بھولے بسرے سبھی وعدوں کا اعادہ کر کے
دیکھ لیتے ہیں محبت کو زیادہ کر کے
مخمل و اطلس و کمخواب سے اعضاء والے
ہم بھی ٹھہریں گے تجھے اپنا لبادہ کر کے
کہہ دیا ہے تو ملیں گے تمہیں روزِ محشر
ہم کوئی تم ہیں ؟ مکر جائیں گے وعدہ کر کے؟

4
ربط ایسا اس کے میرے درمیاں بنتا گیا
وہ جو خود اک راز تھا وہ رازداں بنتا گیا
میری جانب دیکھتا ہی تھا نہ وہ پہلے پہل
پھر وہ مائل ہو گیا اور مہرباں بنتا گیا
پہلے اپنی گفتگو سے دل میں اس نے گھر کیا
ہو کے محرم جان کا وہ جانِ جاں بنتا گیا

3
بہ اذنِ ربِ شریعت کشید کرتا ہوں
کسی کے ہونٹوں سے امرت کشید کرتا ہوں
میں ایک تام طلسمی بدن سے روزانہ
نیا مزہ ، نئی لذت کشید کرتا ہوں
عداوتوں کے شجر پر لگے ہوئے گُل سے
نہ پوچھ کیسے محبت کشید کرتا ہوں

0
3
دل سے مٹا دیا تھا جو سارا لکھا ہوا
محسوس ہو رہا ہے دوبارہ لکھا ہوا
چشمِ مثالِ دشت میں قندیل جل اُٹھی
دیکھا کہیں جو نام تمھارا لکھا ہوا
اُس نے لکھا ہے آج اُسے جان ہے عزیز
ہم نے جسے ہے جان سے پیارا لکھا ہوا

0
2
شراب مست ہے ، مخمور جام ہو گیا ہے
نصیح رندوں کا جب سے امام ہو گیا ہے
ترا بدن بھی دھواں ہو گیا تو حیرت کیا
یہ معجزہ تو محبت میں عام ہو گیا ہے
نسیمِ صبح نے زُلفوں سے چھیڑ خانی کی
نصیب گُل کو ترا ابتسام ہو گیا ہے

0
4
براے چشم جو ابرک فقط محبت ہو
خیال و دید کی ٹھنڈک فقط محبت ہو
خداے کل کی مشیت سے عین ممکن ہے
کہ آسماں سے زمیں تک فقط محبت ہو
اک ایسا شہر بسانے کی آرزو ہے مجھے
جہاں پہ لوگوں کا مسلک فقط محبت ہو

0
3
دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیا
ہر دوست اب مفاد کے چکر میں پڑ گیا
تھوڑی جگہ ملی جو کسی کاخِ حُسن میں
دل ساری جائیداد کے چکر میں پڑ گیا
یکسانیت چھلکنے لگی اُس کے شعر سے
جو شخص انفراد کے چکر میں پڑ گیا

0
3
اُس کی آنکھوں میں چھپی تصویر کو پڑھتے ہوئے
رو پڑا میں آج اک تحریر کو پڑھتے ہوئے
اک اذیت کا جہانِ بے کراں کُھلتا گیا
آپ کی مسکان کی تفسیر کو پڑھتے ہوئے
تب سمجھ آیا کسے کہتے ہیں مرگِ آگہی
جب نہیں دھڑکا مرا دل میر کو پڑھتے ہوئے

0
2
رمق الم کی جو شامل مری خوشی میں بھی ہے
نمو کا راز مری آنکھ کی نمی میں بھی ہے
میں آنکھ بھر کے اُسے دیکھ کیوں نہیں سکتا
نظر بھی ٹھیک ہے میری، وہ روشنی میں بھی ہے
موازنہ نہیں بنتا ہے بلبل و گُل سے
وہ حُسن صوت میں مفردہے، دل کشی میں بھی ہے

0
3
وجہِ صبحِ نو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
اب ستارے ہو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
پھیلتا ہی جا رہا ہے سرد موسم کا غلاف
ضبط اپنا کھو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
تم، سکوں اور نیند تینوں ہو گئے جب سے خفا
تب سے پیہم رو رہے ہیں میں ، محبت اور دل

0
2
فلک پہ چاک گُھما کر اُسے بنایا گیا
حدِ کمال پہ جا کر اُسے بنایا گیا
زمانے بھر کے چنیدہ گلاب گوندھے گئے
پھر اُن میں دودھ ملا کر اُسے بنایا گیا
کہ تا وہ رشک کرے اپنی بے مثالی پر
مثال اُس کی چھپا کر اُسے بنایا گیا

0
2
درِ دل سال خوردہ چوبی ہے
علم طوفان کو بخوبی ہے
پہلے ہوتا تھا اس جگہ صحرا
میری کشتی جہاں پہ ڈوبی ہے
درمیاں شرق و غرب سی دوری
میں شمالی ہوں ، وہ جنوبی ہے

0
1
نا سمجھ دل نہ محبت کی نشانی سمجھا
بیٹھ کر پاس اسے اپنی زبانی سمجھا
زخم سر سبز تھے پر اس کو دکھائی نہ دیے
نظم تازہ تھی مگر دوست پرانی سمجھا
غمِ جاں آنکھ میں آ بیٹھا ہے نم کی صورت
اس نے کس واسطے کی نقل مکانی ، سمجھا؟

0
2
کہتے ہیں جسے ہم گلِ احمر، نہیں دیکھا
افسوس! کبھی تم نے پشاور نہیں دیکھا
سیکھا ہے اسے دیکھ کے ہنسنا مرے لب نے
جس نے مری جانب کبھی ہنس کر نہیں دیکھا
جو تیرے تغافل نے لگایا ہے جگر پر
اس زخم کو ہوتے ہوئے بہتر نہیں دیکھا

0
5
خوش ہوں کہ رائیگاں مرے منتر نہیں گئے
بادِ صبا کے لب تمہیں چھُو کر نہیں گئے
خوش بخت! جس کے بخت میں لکھا گیا تمہیں
بچے تمہارے شکر ہے اُس پر نہیں گئے
اب کیوں دِلا سخاوتِ یاراں سے ہے گلہ
مشکیزگانِ چشم ترے بھر نہیں گئے؟

0
4
قلم لیے گئے ، کاسے تھما دیے گئے ہیں
ہم ایسے تھے نہیں جیسے بنا دیے گئے ہیں
جو ہاتھ ہم سے ہوا ہے ، نہیں کسی سے ہوا
ہمارے عیب و ہنر تک چھپا دیے گئے ہیں
فقط لفافے پڑے رہ گئے درازوں میں
خطوط جتنے تھے سارے جلا دیے گئے ہیں

0
4
بہ جائے دل ہے کسی شوخ کا نشانہ دماغ
قبول دل نہیں کرتا اسے مرا، نہ دماغ
وہ کھلکھلائے تو لازم ہے مسکرائیں ہم
خموش بیٹھ اداسی ، ہمارا کھا نہ دماغ
سمجھ سکا نہیں میری کتھا جِمِینائی
مشیں کے پاس مرے جیسا دل نہ تھا، نہ دماغ

0
4
پہلے نئی جگہ پہ ذرا ڈر لگا مجھے
پھر کچھ دنوں میں دشتِ گماں گھر لگا مجھے
آئینہ دیکھ کر مجھے وحشت نہیں ہوئی
زخمِ تمنا پہلے سے بہتر لگا مجھے
دیکھا کبھی نہیں ہے جسے میں نے آج تک
وہ شخص میرے پاس ہے اکثر لگا مجھے

0
1
جہاز سمجھے گئے بے مثال کا ملبہ
پڑا ہے بیچ سمندر زوال کا ملبہ
کہا بھی تھا کہ نہ کر باغبان کوتاہی
سمیٹ اپنے گل پائمال کا ملبہ
مرے جواب کی برداشت کر سکا نہیں ضرب
ہٹاؤ بزم سے اپنے سوال کا ملبہ

1
نغمات جودِ شاہ کے ہر آن گائیں ہم
پڑھتے ہوئے دروو مدینے کو جائیں ہم
بدلے میں پائیں مژدۂِ خلدِ بریں حضور
محشر میں اپنی آپ کو نعتیں سنائیں ہم
گل مسکراہٹوں کے چنیں باغِ سبز سے
گلدستے آنسووں کے لیے در پہ آئیں ہم

1
جب اپنی ہانڈی میں پتے ابال رکھتا ہوں
خدا کا حصہ میں پہلے نکال رکھتا ہوں
مری فقیری مجھے لاجواب کرتی نہیں
سو اپنے آگے ہی دستِ سوال رکھتا ہوں
یہ خود نمائی ہے در اصل حکم کی تعمیل
کہا تھا اس نے سو اپنا خیال رکھتا ہوں

1
گردش میں کائنات ہے یا برقرار ہے
میرا خیال اپنی جگہ برقرار ہے
تصویر سے عیاں ہے تعلق کی نوعیت
دونوں کے درمیان خلا برقرار ہے
تب تک یقیں رہے گا مرا معجزات پر
جب تک یقیں رہے گا خدا برقرار ہے

1
کس نے ہمیشہ رہنا ہے بھائی زمین پر
بنتی نہیں ہماری لڑائی زمین پر
رضوان بابِ خلد کھُلا رہ گیا ہے کیا؟
اک حور دے رہی ہے دکھائی زمین پر
سنتا ہےسب گمان کے پردوں کے پار سے
ہوتی ہے اس کی نغمہ سرائی زمین پر

1
تمنا تشنہِ تکمیل ہی رہی میری
نہ کوئی سمجھا محبت، نہ دل لگی میری
خیالِ دوست نے میرے حواس چھین لیے
جمالِ دوست نے کھائی ہے نوکری میری
مگر یہ بات فقط آئنے سمجھتے ہیں
کوئی تماشہ نہیں ہے شکستگی میری

1
دیکھ مت کاسہ، میری حاجت دیکھ
منفی منظر کو آج مثبت دیکھ
تو مری سمت مت نگاہ اٹھا
یا کسی اور کی طرف مت دیکھ
مجھ سے نظریں ملا اور آنکھوں میں
جلنے والوں کے دل کی حالت دیکھ

0
سر سبز تھوڑی دیر میں کھلیان ہو گیا
مایوس اپنے کھیت سے دہقان ہوگیا
کل رات مجھ کو سونے میں تاخیر ہوگئی
کل پھر سے ایک خواب کا نقصان ہو گیا
اک عمر جو سکھاتا رہا کافری ہمیں
اک آن میں وہ صاحبِ ایمان ہو گیا

0
دیکھو گلاب تازہ پہ اس واردات سے
گلدستہ گر نہ جائے کہیں گل کے ہاتھ سے
اس کا تو اس کی خوشبو سے معلوم ہو گیا
اپنا مقام بوجھ لیا زرد پات سے
یہ کوئی جانتا نہیں جاتی ہے کس طرف
سب جانتے ہیں بات نکلتی ہے بات سے

0
موضوعی گفتگو سے برا مان کر مجھے
رسوا نہ دوست بزم کے دوران کر مجھے
اب پڑ گئی نہ تجھ کو ضرورت اے زندگی
کس نے کہا تھا بے سر و سامان کر مجھے
مجھ سے کوئی توقع نہ رکھے گریز کی
خود سے علیحدہ کرے خود چھان کر مجھے

0
دنیا کو نیا کوئی تماشہ نہیں دینا
اے دوست مری جان کا صدقہ نہیں دینا
خوشبو کا سبب پوچھتے ہیں لوگ سو اس بار
ملنا تو مجھے ماتھے پہ بوسہ نہیں دینا
تم سارے خدو خال بناؤ سرِ قرطاس
محبوب کو لیکن کوئی چہرہ نہیں دینا

0
چاند میرے تو ہے کدھر ، آجا
ہمہ تن چشم ہوں نظر آجا
نعمتِ دید ڈال آنکھوں میں
خالی ان برتنوں کو بھر آجا
عمرِ معدود کی حسیں گھڑیاں
کریں اک ساتھ ہم بسر آجا

0
حالانکہ عاشقی میں نہیں بانکپن حرام
پرکارہائے دل بری میں ہے غبن حرام
رکھی نہ ہم نے لقمۂِ مشکوک پر نظر
ہونے دیا رگوں میں نہیں موجزن حرام
ہم پر ہوا حلال کوئی لمس تو کھلا
ہر اک لطیف چیز نہیں کلیتاً حرام

0
حیائے حسن سے رخ آب آب ہونے میں
قصورِ چشم ہے میک اپ خراب ہونے میں
جبینِ دوست کو دیکھا تو مجھ پہ راز کھلا
گنوایا وقت عبث ماہتاب ہونے میں
بہت سے قیمتی احساس خاک ریز ہوئے
کسی گریز کنندہ کا خواب ہونے میں

0
نہ فقط اک گھڑی تمہارے ساتھ
بانٹتا زندگی تمہارے ساتھ
گر مرے اختیار میں ہوتا
لیتا میں سانس بھی تمہارے ساتھ
پھول چنتا رہا میں باتوں سے
بات ہوتی رہی تمہارے ساتھ

0
جاننے والے جب انجان سمجھنے لگ جائیں
تب ہمیں بے سر و سامان سمجھنے لگ جائیں
فکر اچھی ہے کمائی کی مگر یہ بھی نہ ہو
اپنے گھر والے ہی مہمان سمجھنے لگ جائیں
ایسی نادانی سے ہم چاہتے ہیں رب کی پناہ
پیار کو پیار کے دوران سمجھنے لگ جائیں

2
تقدیر ہم سے لیتی کوئی مشورہ نہیں
یہ زیست کا مذاق بہت بدمزہ نہیں؟
خود سے کیا ہے ترکِ تعلق ، سو اب مرا
قول و عمل سے اپنے کوئی واسطہ نہیں
اس راہبہ کے دل سے کلیسا نکل گیا
نکلی کبھی کلیسا سے جو راہبہ نہیں

0
بخت کا میرے ستارہ روشنی میں آ گیا
بے دھڑک اک ماہ پارہ روشنی میں آ گیا
فائدے کی دھند آنکھوں سے ہماری چھٹ گئی
آخرش سارا خسارہ روشنی میں آ گیا
دہر کی تاریکیوں میں اب تلک ڈھونڈا جسے
وہ نظر مجھ کو نظارہ روشنی میں آ گیا

0
اگر کبھی مجھے بارش میں شام ہوتی ہے
تو سانس رکتی ہے ،جنبش میں شام ہوتی ہے
وہ اک نگاہ بھی ڈالے تو میرا دن بن جائے
سو دن بنانے کی کوشش میں شام ہوتی ہے
سحر ہے ایک رضامند شوخ کی مسکاں
کسی حسین کی رنجش میں شام ہوتی ہے

0
لیتے لیتے ترے قدوم بہت
تھک گئے ہیں مہ و نجوم بہت
ہر طرف اس کی یاد ہے موجود
خالی کمرہ ہے پر ہجوم بہت
جو مجھے بالخصوص ملتا تھا
یاد آتا ہے بالعموم بہت

0
مشکل تھا نکلتا کوئی خدشات سے باہر
لاتا نہ پکڑ کر جو اسے ہاتھ سے ، باہر
چلتے ہیں چلو عالمِ امکاں سے کہیں دور
رہتے ہیں زمانے کے خرابات سے باہر
حد اس کو دکھاتی ہے مرے لہجے کی تلخی
جب کوئی نکلنے لگے اوقات سے باہر

0
2
بنا میں سوز تو سازینہ ہو گیا تھا وہ
مرے قریں شبِ آدینہ ہو گیا تھا وہ
کسی کا چہرہ مضامیں نئے سجھاتا تھا
ہر اک خیال کا گنجینہ ہو گیا تھا وہ
پھر اس کے واسطے ہونا پڑا مجھے پتھر
کسی کے واسطے آئینہ ہو گیا تھا وہ

0
2
میں دعوے دار نہیں ہوں کہ شب اجالتا ہوں
سحر تلک سہی تاریکیوں کو ٹالتا ہوں
زیادہ کام نہیں اس جہاں میں پاس مرے
سمے کی ہانڈی میں ایامِ عمر ابالتا ہوں
شرابِ عشق سے بھرتا ہوں عقل کا ساغر
مگر چھلکنے سے پہلے اسے سنبھالتا ہوں

0
2
بتِ انا کو گراتا نہ میں تو کیا کرتا
ترے بلانے پہ آتا نہ میں تو کیا کرتا
مجھے لٹانا تھا آخر کسی جگہ زرِ اشک
تمہاری راہ سجاتا نہ میں تو کیا کرتا
خراجِ آگہی دینا ضروری ہو گیا جب
متاعِ ہوش گنواتا نہ میں تو کیا کرتا

0
2
سچ سمجھ بیٹھی ہے دنیا ایک افسانہ مرا
پتھروں کی زد میں ہے اب آئنہ خانہ مرا
لے رہا ہے وقت مجھ سے جانے کیسا امتحاں
اک پری کو آ گیا ہے راس ویرانہ مرا
میرے ساقی سے روابط کچھ مثالی بھی نہیں
بن کہے بھرتا ہے پھر بھی روز پیمانہ مرا

0
2
میں نے کچھ اشعار جونہی آئنے پر دم کیے
عکس تیرا لا دکھایا اس نے سر کو خم کیے
کی سماعت کی تواضع اک مدھر آواز سے
رزقِ بینائی کسی پیکر کے زیر و بم کیے
مہر ہونٹوں سے لگائی سرزمینِ حسن پر
اپنے قبضے اس زمیں پر اور مستحکم کیے

0
1
ہم سے نہ ہو سکی یہ جسارت، نہیں کہا
اس دل ربا کو طالبِ لذت نہیں کہا
ابدان کا ملن ہے فقط جسم کا سکوں
اس کو کبھی بھی روح کی راحت نہیں کہا
کہنے گیا کہ عشق میں لازم نہیں وصال
لیکن نہ جسم سے ملی فرصت، نہیں کہا

0
3
وعدۂِ لمس کو وفا کر دو
اور بدن معتبر مرا کر دو
نشہ ممکن ہے سادے پانی سے
تم لبوں سے اگر لگا کر دو
مختصر ہیں وصال کے لمحے
دور کچھ دیر یہ حیا کر دو

0
3
یار خوفِ خدا کیا کیجے
پیار کیجے تو بے ریا کیجے
زہر لگتے ہیں شہد آگیں لب
غیر کا نام مت لیا کیجے
چشمِ تشنہ ہے منتظر کب سے
چہرہ مجھ سمت دودھیا کیجے

0
1
کتاب حسن ہمیں دستیاب کرنے میں
لگائی دیر کسی نے نقاب کرنے میں
جبین و زلف و لب و عارض و نظر سب ہی
شریک ہیں مری نیت خراب کرنے میں
ہوا ہے ایک ہمیں بھی کنول کا پھول عطا
جٹے ہوئے ہیں اسی کو گلاب کرنے میں

0
4
ہر اک دعا میں ہر اک آرزو میں شامل ہے
وطن کا عشق ہمارے لہو میں شامل ہے
کریں برائے وطن اپنی جان بھی قرباں
اسی نماز کی نیت وضو میں شامل ہے
اسی کی خوشبو سے مہکی ہے میری خاموشی
وطن کا تذکرہ ہر گفتگو میں شامل ہے

0
3
مت عام سمجھ ، کہ خاص ہیں ہم
اے حسن ترا لباس ہیں ہم
کیوں ہم سے خفا مسرتیں ہیں
کیوں رنج و الم کو راس ہیں ہم
ہیں زہر منافقوں کی خاطر
مخلص کے لیےمٹھاس ہیں ہم

0
2
جب لگائی رواج کی قیمت
ہو گئی کم سماج کی قیمت
جانے کب تک ادا کریں گے ہم
ایک دانہ اناج کی قیمت
کسی مزدور کو یہ علم نہ تھا
جان ہے احتجاج کی قیمت

0
47
موسم کی یہ سازش مجھ کو سوچی سمجھی لگتی ہے
بارش کی ہر بوند کسی کے لمس کو ترسی لگتی ہے
منظر میری آنکھ سے دیکھو آنے والے لمحوں کا
میرے خواب کی چھت سے دیکھو دنیا کیسی لگتی ہے
جانتے بوجھتے پوچھتی ہے مفہوم وہ میرے شعروں کا
سیدھی سادھی بات بھی اس کو ایک پہیلی لگتی ہے

0
38
وحشتِ شام جونہی رشکِ جنوں ہوتی ہے
حالتِ دل زدگاں اور زبوں ہوتی ہے
بار بار اٹھتی ہیں اک چشمے کی جانب آنکھیں
اور ہر بار مری پیاس فزوں ہوتی ہے
دسترس سب کی نہیں ہے تری تصویر تلک
پاس ہر شخص کے کب وجہِ سکوں ہوتی ہے

0
60
جو تیشۂِ اقدار سے معیار تراشے
ممکن ہے کسی دن کوئی شہکار تراشے
دنیا میں اداکاری سے انکار مجھے کب
پہلے کوئی لائق مرے کردار تراشے
دن رات میں دیتا ہوں مصور کو دعائیں
جس خوبی سے تیرے لب و رخسار تراشے

0
106
عارضہ جسم کا تھا جان پہ کھُلنے نہ دیا
گھر کے حالات کو مہمان پہ کھُلنے نہ دیا
کیوں کئی تشنہ لباں ہیں کئی سیراب یہاں
حکمتِ دہر کو انسان پہ کھُلنے نہ دیا
آنکھ رکھی ہے فقط کھِلنے تلک ہی محدود
کسی غنچے کو گلستان پہ کھُلنے نہ دیا

71
بات سمجھے نہ مری اتنے ذہیں ہو پھر بھی
بولتے کیوں نہیں اے دوست ، یہیں ہو پھر بھی
چاہنے والوں کو انکار نہیں کرتے ہیں
ہاں مجھے علم ہے لاکھوں سے حسیں ہو پھر بھی
دیکھ لیتا ہوں برستے ہوئے آنسو پسِ چشم
سامنے میرے کوئی خندہ جبیں ہو پھر بھی

77
چل بھیگ جائیں فردا کے خدشات بھول کر
برسی ہے میرے شہر میں برسات بھول کر
ہوتا ہے زندگی میں ضروری وہ ایک شخص
دے اہمیت خلوص کو جو دھات بھول کر
روشن پرائی آگ سے کم ظرف کچھ دیے
سورج پہ بات کرتے ہیں اوقات بھول کر

61
خود اپنے ہاتھ کا شہکار توڑنے والا
عجیب ہے مرا معمار توڑنے والا
بلائے ہجر خدوخال کھائے جاتی ہے
ہے کوئی وقت کی رفتار توڑنے والا؟
میں توڑ دوں گا رقیبوں کی ہڈیاں فرہاد
تری طرح نہیں کہسار توڑنے والا

63
وہ اپسرائے گماں گر زمیں پہ سانس بھی لے
دکھائی دینے لگیں دشت میں بھی پھول کھِلے
یہ میرے لہجے کی تاثیر ہے کہ وہ خوش رُو
بلاؤں چاند تو چمکے ، کلی کہوں تو کھِلے
گلاب کس طرح ہنستے ہیں مجھ کو دیکھنا تھا
اِدھر یہ آرزو اُبھری ، اُدھر وہ ہونٹ ہِلے

67
یہ کب کہا کہ تیر نشانے پہ مت لگا
اتنا تو کر کسی کے اشارے پہ مت لگا
لمسِ جبین دے لب و رخسار پاس رکھ
نمکیں پسند ہوں مجھے میٹھے پہ مت لگا
زلفیں ہوا کے دوش پہ اڑنے سے روک لے
آب و ہوائے شہر کو نشے پہ مت لگا

2
117
یہ راہِ اہلِ عشق نہایت مہیب ہے
میں کیسے آ گیا سرِ منزل ، عجیب ہے
موجود وہ کلی ہے نہ ہی گل ہے آس پاس
جانے کہاں سے آ رہی بوئے حبیب ہے
دیتا ہو مشورے جو محبت کے وعظ میں
بولو کسی محلے میں ایسا خطیب ہے

61
عجلت دکھائیں وصل کے مت ارتکاب میں
آ جائے ہجر بن کے نہ ہڈی کباب میں
کرتا میں ترک زہد ، چلا جاتا میکدے
اس آنکھ سا خمار جو ہوتا شراب میں
خیرہ کرے نگاہ کو اس حسن کی چمک
اک آفتابِ حسن ہے اس ماہتاب میں

48
حالِ دلِ تباہ سے وہ بے خبر نہ تھا
منظور جس کو ہونا مرا چارہ گر نہ تھا
لرزاں رہے ہیں بام و درِ عرش دیر تک
گریہ اسیرِ ہجر ترا بے اثر نہ تھا
حیراں ہوں کیسے ڈوب گئی کشتی اس جگہ
دریا میں جس مقام پہ کوئی بھنور نہ تھا

63
ڈھلنے لگتی ہے جونہی شام دیا جاتا ہے
اذن ملتے ہی سوئے بام دیا جاتا ہے
میں وہ مزدورِ محبت ہوں ، مقدر کا دھنی
اپنی مرضی کا جسے کام دیا جاتا ہے
آخرش ربطِ محبت ہوا انجام بخیر
جیسے ہر کام کو انجام دیا جاتا ہے

49
یاد آتے ہی مدینے کی مکرر جاگے
اشکِ خوابیدہ مری آنکھ کے اندر جاگے
خاکِ حرمین سے آنکھوں کو سجاؤں اک دن
بخت سویا ہوا میرا مرے سرور جاگے
جاگتا کون ہے سجدے میں جھکائے سر کو
اپنی امت کے لیے جیسے پیمبر جاگے

53
نہ صرف یہ کہ تھا نبی کا خاندان ریت پر
ہوئے نفوس کل بہتر ایک جان ریت پر
مہک رہی ہے کربلا کی ریت اس کی مشک سے
کھِلا ہے آلِ مصطفیٰ کا گلستان ریت پر
جھلس رہے تھے نازنیں بدن جفا کی دھوپ سے
شجر کوئی نہ ابر تھا نہ سائبان ریت پر

56
اس کی آنکھیں ، اس کے گیسو ، اس کا چہرہ لکھ ڈالا
میں نے ان اشعار کی صورت اس کا حلیہ لکھ ڈالا
عارض کو تشبیہ نہیں دی چاند ستاروں سے لیکن
مہکے نازک ہونٹوں کو اک تازہ غنچہ لکھ ڈالا
لفظوں کا جامہ پہنایا اس کے حسن کے سورج کو
یعنی اس کو جیسا دیکھا تھا بس ویسا لکھ ڈالا

307
ہمارے ہاتھوں میں تم کو ایسی گھڑی ملے گی
جو وقتِ رخصت پہ ہی ہمیشہ کھڑی ملے گی
جلیں گے شب بھر ہوس کی آتش میں دو بدن ، پھر
کسی کو کچرے میں اک محبت پڑی ملے گی
پتہ خوشی کا میں جانتا ہوں ، تمہیں بتاؤں؟
فلانے جنگل میں جاؤ اک جھونپڑی ملے گی

62
مجھ پہ نا مہربان چلتی ہے
عمر سے کھینچ تان چلتی ہے
میری نس نس میں دوڑتا ہے عشق
جیسے رگ رگ میں جان چلتی ہے
قدم ایسے اٹھا مری جانب
جیسے فر فر زبان چلتی ہے

64
مرے سلطانِ مدینہ مرے مکی مدنی
کیجے مہمانِ مدینہ مرے مکی مدنی
نخلِ امید مرا زرد ہوا جاتا ہے
کوئی امکانِ مدینہ ؟ مرے مکی مدنی
آپ کے پائے مقدس نے بڑھائی آقا
سَطوت و شانِ مدینہ مرے مکی مدنی

61
کبھی شمس الضحیٰ کہیے ، کبھی بدر الدجیٰ کہیے
حبیبِ خالقِ کون و مکاں ہیں مصطفیٰ کہیے
انہی کی راجدھانی میں دیے مولا نے خشک و تر
وہی حق دار ہیں ان کو شہِ ارض و سما کہیے
ہے ان کی مدح خوانی اصل میں رب کی ثنا خوانی
سو جائز ہے کہ ان کی نعت کو حمدِ خدا کہیے

385
دست بستہ سرِ امکان خوشی آتی ہے
بامِ تخئیل پہ جب مدحِ نبی آتی ہے
روح پاتی ہے جِلا نعتِ نبی کے باعث
مصرعِ جان میں بے ساختگی آتی ہے
خود بخود چشمِ صبا بہرِ ادب جھک جائے
سامنے جوں ہی مدینے کی گلی آتی ہے

41
غلامو! خلد کا رستہ چلو کشادہ کریں
حدیثِ رحمتِ عالم سے استفادہ کریں
جہاں سے ان کی زیارت مدام ہوتی رہے
ہم اپنی آنکھ وہاں کاش ایستادہ کریں
گواہی عشق کی دے ایک اک قدم اپنا
سفر بقیع کا اک روز پا پیادہ کریں

47
قصۂِ کُن کا عنوانِ موزوں تریں ، منظرِ دہر کا مدعا مصطفیٰ
طوطیِ خوش نوا طائرِ خلد کا نغمۂِ جاں فزا مصطفیٰ مصطفیٰ
غمزدوں عاصیوں بے نواؤں کا ہیں آسرا اے حبیبِ خدا آپ ہی
رحمتِ دو جہاں مونسِ بے کساں کون ہے آپ کے ماسوا مصطفیٰ
کس جگہ کون کیسے گرے گا سرِ بدر پہلے سے بتلا دیا آپ نے
اور شاہد ہیں اس پر زمین و فلک آپ نے جو کہا ہو گیا مصطفیٰ

100
ایک اک کر کے مجھ میں ہوئے ضم تمام
عمر کے ساتھ بڑھنے لگے غم تمام
ہاتھ ، پاؤں ، جبیں ہوں کہ رخسار و لب
پھول ہیں اصل میں وہ مجسم تمام
ہنس رہے ہیں مرے حال پر سارے عکس
پھٹ نہ جائے مرے ہاتھوں البم تمام

90
پھول کب خار کو سمجھتے ہیں
یار ہی یار کو سمجھتے ہیں
بھول جاتے ہیں اپنا جرم سبھی
غلط اخبار کو سمجھتے ہیں
سر جھکانا قبول کیوں کرتے
رسمِ دربار کو سمجھتے ہیں

89
لیتی ہے بوسۂِ لب و عارض نیاز سے
جلتا ہے جی مرا تری زلفِ دراز سے
اے ابرِ نارسائی تُو یکبارگی برس
تنگ آ گیا ہوں روز کی اس تگ و تاز سے
پہنچا ہوں ایک جسم سے بے جسم حُسن تک
منزل حقیقی مل گئی راہِ مجاز سے

94
پرندِ آرزو کی یوں چہک زیادہ ہے
کہ پھڑپھڑانے کی اس میں للک زیادہ ہے
یہ رعبِ حسن نہیں احترام ہے ، مجھ میں
نہیں ہے خوف زیادہ ، جھجھک زیادہ ہے
حصارِ چشم سے باہر نکل نہ جائے غم
رہے خیال ، نہ جائے چھلک ، زیادہ ہے

44
تمام دوستوں کے سنگ مسکراتا ہوا
میں خود کو دیکھوں مدینے کی سمت جاتا ہوا
ہزاروں آپ کے احسان ہیں شفیعِ اُمم
کسی نے آپ کو دیکھا نہیں جتاتا ہوا
گلے لگا لیا آخر خیالِ طیبہ نے
اکیلا رہ گیا تھا ہاتھ جب ہلاتا ہوا

62
تو کیوں نہ دامنِ حُسین تھامے کائنات
حُسین بالیقیں ہیں جب امامِ کائنات
درود بھیجتا ہے آسمان ہر گھڑی
مساء و صبح ان پہ ہے سلامِ کائنات
سبب ہیں رنگ و بوئے گلستانِ دہر کا
ہوا انہی کے واسطے قیامِ کائنات

53
درِ سرکار سے آتے نہیں خالی واپس
لوٹنا چاہتے ہیں پھر بھی سوالی واپس
مضمحل ہوتے نہیں زائرِ طیبہ ورنہ
کھینچتی ہوگی سنہری انہیں جالی واپس
تحفۂِ ہجرِ مدینہ ہے نمِ چشم ، طبیب
اپنی آنکھوں کی مجھے چاہیے لالی واپس

128
زیست کے ماتھے پہ اک دھبّا ہے
وقت جو بعد ترے گزرا ہے
نہر دریا سے ملی ہے ام شب
چاند بھی دیکھ کے مسکایا ہے
مسئلہ یہ ہے محبت نہ رہی
فاصلہ اب بھی قدم بھر کا ہے

173
بہتری ہر آزمائش میں ہے پیدا کی گئی
مصلحت پوشیدہ شورش میں ہے پیدا کی گئی
آپ اس بیٹی کے دکھ کی کیفیت سمجھیں ذرا
جو کسی بیٹے کی خواہش میں ہے پیدا کی گئی
لہلہاتی فصلِ گل کے وہ مقدر میں نہیں
جو کشش تجھ لب کی جنبش میں ہے پیدا کی گئی

117
ترا بھرم تری اوقات سے زیادہ ہے
وگرنہ میرا ملاقات کا ارادہ ہے
جواہرات کی چوری سے خوف آنے لگا
تنِ حسیں پہ ضرورت سے کم لبادہ ہے
مرا خیال ہٹا ہی نہیں کبھی تجھ سے
یہ شاعری تری صورت سے استفادہ ہے

208
سارے دریا روٹھ گئے ہیں اپنے اپنے پانی سے
دشت کے اندر بہتی نہر کی چھوٹی سی نادانی سے
کل اک پیڑ کے اوپر چند پرندے باتیں کر رہے تھے
اتنا گرنے کی امید نہ تھی نوعِ انسانی سے
ممکن ہے پھر ان دونوں پر کھلنے کا مفہوم کھلے
میری مشکل ٹکرائے گی جب تیری آسانی سے

146
اتنی اجلی دنیا ہے ، تو حیرت ہے
آدمی من کا میلا ہے ، تو حیرت ہے
دل دیوار میں کھڑکی ہے تو ہوگی پر
کھڑکی ہی دروازہ ہے تو حیرت ہے
روشنی ان آنکھوں کے بوسے لیتی ہے
اچھا؟ واقعی ایسا ہے تو حیرت ہے

148
کہیں سے آیا ہے رشتہ تمہارے بارے میں
لگا یونہی نہیں دھڑکا تمہارے بارے میں
مجھے تو خوف سا آنے لگا ہے رستے سے
کہ پوچھ لیتا ہے سیدھا تمہارے بارے میں
اس ایک خواب کا تاوان بھر رہے ہیں ہم
وہ ایک خواب جو دیکھا تمہارے بارے میں

180
تم لوگ بول سکتے ہو ، بیٹھے ہو چھاؤں میں
ہم لوگ قید رہ گئے اپنی اناؤں میں
تجھ بن کرے گی تنگ مجھے موت کی پری
دکھتا رہے گا جسم قضا کا ہواؤں میں
ممکن نہیں ہے وقت سے پیچھے رہے کہ جو
چلتا رہے زمیں پہ سمے کی کھڑاؤں میں

280
عفو کے خواستگار روتے ہیں
شاہ کے سوگوار روتے ہیں
ذکر کرتا ہوں ابنِ حیدر کا
لفظ زار و قطار روتے ہیں
لختِ شیرِ خدا رہے محصور
اس خطا پر حصار روتے ہیں

211
عمر سے کرتے محبت ، عمر عمر کرتے
کبھی نہ کرتے عداوت عمر عمر کرتے
عدو عمر کے ہیں دشمن رسولِ اکرم کے
نبی کے اہلِ مودت عمر عمر کرتے
یہ کم شناس نہ سمجھیں گے شانِ فاروقی
ذرا جو ہوتی بصیرت عمر عمر کرتے

149
برائے عام تعارف مرا کرائے گا
دہر مدام تعارف مرا کرائے گا
کبھی چلو تو سہی تم جنوں کے رستے پر
ہر اک مقام تعارف مرا کرائے گا
زباں خموش رہی تو یہ لفظ بولیں گے
مرا کلام تعارف مرا کرائے گا

153
جب کبھی سر کو تم جھکاؤ گے
ہم کو دل کے قریب پاؤ گے
موسموں سا مزاج رکھتے ہو
عہدِ الفت کہاں نبھاؤ گے
آپ سے گر سوالِ وصل کروں
سر کو اثبات میں ہلاؤ گے؟

150
آنکھوں کو پیار کی یہ سزا دینی چاہیے
شمعِ امیدِ وصل بجھا دینی چاہیے
اے کاش ان کے دل میں کبھی آئے یہ خیال
ہم کو مئے وصال پلا دینی چاہیے
امید عدل گرچہ نہیں منصفین سے
زنجیرِ عدل پھر بھی ہلا دینی چاہیے

160
اصلیُ النسل تو شیطاں کے مقابل آئیں
نسلِ شیطاں ہیں جو یزداں کے مقابل آئیں
پارسائی کا بھرم ان کی یقیناً کھل جائے
گر فرشتے کبھی انساں کے مقابل آئیں
حُسنِ حورانِ جناں کا نہیں منکر لیکن
ان میں ہمت ہے تو جاناں کے مقابل آئیں

198
الاؤ نفرتوں کا جب تلک مدھم نہیں ہوتا
دلوں میں فاصلہ میرے عزیزو کم نہیں ہوتا
یہ ممکن ہے کہ ہو جائے مناسب فیصلہ لیکن
کبھی جھکتا نہیں ہوں میں ، کبھی وہ خم نہیں ہوتا
غلط کہتے ہیں ، جھوٹے ہیں ، فقط بکواس کرتے ہیں
گزرتا وقت زخموں کا کبھی مرہم نہیں ہوتا

131
ضبط کرتا آیا ہوں میں پر اب ضروری ہے
تشنگی مٹانے کو جامِ لب ضروری ہے
شعر تو سناتا میں دیکھ دیکھ کر تجھ کو
کیا کروں بزرگوں کا بھی ادب ضروری ہے
دم کرا کے آیا ہوں ہیر کے مجاور سے
تیرا خواب میں آنا آج شب ضروری ہے

149
کھسر پھسر ہی کریں گے ہمارے بارے لوگ
کچھ اور کر نہیں سکتے حسد کے مارے لوگ
ہمیں تو ایک یہی بات لطف دیتی ہے
تمہیں ہمارا سمجھتے ہیں اب تمہارے لوگ
کئی کی عید سے پہلے ہی عید ہو گئی ہے
ہلال ڈھونڈتے دیکھے ہیں کچھ ستارے لوگ

344
عشق میں سارے اسی انعام کے مالک بنے
ہر قدم تہمت لگی ، آلام کے مالک بنے
اہلِ الفت نے غزل لکھی ، دلوں میں گھر کیا
اہلِ زر تو مال سے اجسام کے مالک بنے
نام رکھا اپنی بیٹی کا اسی کے نام پر
اس طرح ہم کم سے کم اس نام کے مالک بنے

246
کچھ نہ بگڑا مرا نصیحت سے
باز آیا نہیں محبت سے
عشق نگری سے لوٹ آیا ہوں
آپ کے ایک حکم ِ ہجرت سے
یہ خدائی عطا ہے میرے بھائی
پیار ملتا نہیں ہے دولت سے

158
دغا مجھ سے کیا جب روشنی نے
تری آنکھوں کے یاد آئے نگینے
پتہ ہے ؟ میرا ویزہ لگ گیا ہے
بہت صدمہ دیا ہے اس خوشی نے
ہم اک مدت کے بعد ایسے ملے کہ
وہ مجھ کو دیکھ کر بولی ، کمینے!

145
حسن کی آنکھیں کھل جائیں تو اندھا پانی ہو جاتا ہے
اس کے جسم پہ پڑ کر شرم سے دوہرا پانی ہو جاتا ہے
اس کے ساحل پر چلنے سے ہو جاتی ہے ریت گلاب
چھو کر پاؤں کھارا پانی میٹھا پانی ہو جاتا ہے
زلفوں کو چھوتے ہی پانی خمر کی وادی میں ڈوبے
ہونٹوں کو چومے تو ان کا رسیا پانی ہو جاتا ہے

103
پی کر بھی ترے نام کو افشا نہ کیا ہے
رسوا ہوں مگر تجھ کو تو رسوا نہ کیا ہے
اس دل پہ ستم آپ نے کیا کیا نہ کیا ہے
شکوہ نہیں اچھا مگر اچھا نہ کیا ہے
غیروں سے لیے قرض ، رکھا جان کو گروی
یاروں کو شکایت ہے کہ خرچہ نہ کیا ہے

125
بہتر یہی لگا سو مرے یار لکھ دیا
منبع مہک کا آپ کے رخسار لکھ دیا
پایا نہ کوئی جرم جو اس نے مرے کنے
جرمِ عدم گنہ کا خطا کار لکھ دیا
رکھ کر مری سرشت میں خوئے شگفتگی
کاتب نے راہِ زیست کو پر خار لکھ دیا

161
جب تمہارے بلد میں رہنا پڑا
ایک سیلِ حسد میں رہنا پڑا
احتجاجاً جنون چھوڑ دیا
انتقاماً خرد میں رہنا پڑا
ایک رومانوی غزل کے لیے
آپ کے خال و خد میں رہنا پڑا

124
زادِ رہ پاس نہ معلوم کدھر جانا ہے
ہم سفر کوئی نہ رہ رو ہے ، مگر جانا ہے
آپ کہتے تھے ہمیں پھول سو لازم ٹھہرا
پھول کو ٹوٹ کے ہر سمت بکھر جانا ہے
آج ہے اس مہِ کامل کی زیارت کرنی
کوچہ ءِ یار میں پھر بارِ دگر جانا ہے

258
ممانعت ہے محبت کی سو حذر کرنا
عداوتوں کی اجازت ہے عمر بھر کرنا
تمہارا گاؤں نہیں ہے یہ شہر ہے لڑکی
یہاں بھروسہ کسی پر بھی سوچ کر کرنا
خطوط پھینک چکا ہوں مگر یہ عادت ہے
دراز کھول کے چیزیں ادھر ادھر کرنا

166
جس پہ جچتا کوئی استعارہ نہ ہو
کوئی دنیا میں اتنا بھی پیارا نہ ہو
بے حجاب ان کو دیکھیں نہ کیوں ایک ٹک
کیا خبر یہ نظارہ دوبارہ نہ ہو
یہ بھی ممکن ہے منزل پکارے ہمیں
عین ممکن ہے اس کو گوارہ نہ ہو

0
109
آسماں ہے دسترس میں ، ہے زمیں پر دسترس
کیا کروں محبوب کو بھی ہے نہیں پر دسترس
خود کسی کی دسترس میں یہ کبھی آتا نہیں
ہے مکانِ دل کو لیکن ہر مکیں پر دسترس
ایسا لگتا ہے کہ جیسے دسترس میں چاند ہے
آج کل ہے ایک ایسی مہ جبیں پر دسترس

0
130
کر تجھے روز یاد لیتا ہوں
دل کو کر ایسے شاد لیتا ہوں
جب کہوں جزوِ زندگی تم ہو
جزو سے کُل مراد لیتا ہوں
سچ کہوں تو گناہ لگتا ہے
سانس جو اس کے بعد لیتا ہوں

0
185
دشمن کیوں ہے آج وہ اپنی بیٹی کی آزادی کی
جس نے گھر سے بھاگ کے اپنی مرضی سے تھی شادی کی
جس دن تیرا والد تیرے لہجے سے ڈر جائے گا
پہلی اینٹ اسی دن رکھی جائے گی بربادی کی
میری پشت پہ اینٹوں میں کچھ اور اضافہ کر دو تم
آج مجھے اک خواہش پوری کرنی ہے شہزادی کی

0
115
جس وقت بھی وہ چاند کو دیکھے گا پلٹ کر
چپ چاپ قمر ابر میں چھپ جائے گا ہٹ کر
ہمراہ بھلے عقل کو رکھ راہِ جنوں میں
پر جیسا وہ کرنے کو کہے ، اس کا الٹ کر
کر صرفِ نظر آبلہ ءِ پا سے وفا کیش
منزل کا نشاں پائے گا خاروں سے نبٹ کر

0
155
اشاروں ہی اشاروں میں تکلم ہوتا جاتا ہے
مزاجِ یار برہم اور برہم ہوتا جاتا ہے
گزارش ہے کہ پھر سے آ کے زخمِ دل کو تازہ کر
پرانا زخم دھیرے دھیرے مدھم ہوتا جاتا ہے
عجب قصہ ہے آنکھوں سے ان آنکھوں کے تصادم کا
محبت بڑھتی ہے جوں جوں تصادم ہوتا جاتا ہے

0
132
ہمیں اور کچھ مت کھلائے پلائے
محبت جسے ہے وہ چائے پلائے
خدایا مجھے اس کی قربت عطا کر
کڑک چائے جو کہ بنائے ، پلائے
وہ جیسے کمرشل میں ہم دیکھتے ہیں
کبھی اس طرح کوئی گائے ، پلائے

0
94
گو واقفِ سر نہاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں
لیکن جہاں میں رائگاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں
چاہیں اگر تو لمحہ بھر میں رنجشیں کافور ہوں
اس درجہ لیکن مہرباں تُو بھی نہیں میں بھی نہیں
اپنی انا کے خول میں کب تک بتا سمٹے رہیں
کیوں حالِ دل کرتا بیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

0
141
پاس بھی بلاتے ہیں ، نام بھی نہیں لیتے
اور پاس جائیں تو کام بھی نہیں لیتے
ایک ہم کہ ساری عمر ان پہ وارنا چاہیں
ایک وہ کہ ہم سے اک شام بھی نہیں لیتے
ہم کچھ ایسے تاجر ہیں ، کاروبار الفت میں
خود کو بیچ دیتے ہیں ، دام بھی نہیں لیتے

0
193
اس کے دیکھے سے بھی گل کھِلا ہی نہیں
اس لیے موسموں سے گلہ ہی نہیں
اولیں جام سے ہی بہک جائے جو
ایسے کم ظرف کو تو پِلا ہی نہیں
مجھ سے ملنے وہ آیا بچھڑتے سمے
جانے کیا سوچ کر میں مِلا ہی نہیں

0
166
حالتِ سوزِ دروں کی ترجمانی چاہیے
خامہ ءِ محوِ طرب کی مہربانی چاہیے
دشتِ ہجراں میں بھٹک کر گم رہِ منزل ہوا
تشنہ ءِ دیدار آنکھوں کو نشانی چاہیے
بے خودی ، دیوانگی ، آشفتگی کی زد میں ہوں
اور اس بحرِ فنا میں بے کرانی چاہیے

0
234
اس نے گجرے منگائے پھولوں کے
بھاؤ سب نے بڑھائے پھولوں کے
اس کے بارے میں سوچنا چاہا
کچھ نہ سوجھا سوائے پھولوں کے
ایک گل رخ کے تذکرے کے لیے
ڈھونڈ کر لفظ لائے پھولوں کے

0
628
وہ رشکِ گل بصد اصرار دے گا
مگر خوشبو نہ دے گا ، خار دے گا
کرے گا قید ہم کو دل مکاں میں
ہمارے ہاتھ پھر پرکار دے گا
تغافل سہہ لیا جاتا پر اس کا
پلٹ کر دیکھ لینا مار دے گا

0
177
جب سے ان کو خواب سناتے دیکھا ہے
تعبیروں کو ناز اٹھاتے دیکھا ہے
کنواں خود چل کر پیاسے کے پاس آیا
اس کو گھاٹ سے پانی لاتے دیکھا ہے
جانے کیا حالت ہوگی اس سے مل کر
جس کو خواب میں آتے جاتے دیکھا ہے

0
143
رستہ جو کیا تم نے مری جان علیحدہ
اب بیٹھے رہو ہو کے پشیمان علیحدہ
اک شوخ تبسم سے کیا ہم کو دوانہ
اک ہوش گیا دوسرا احسان علیحدہ
غرقاب کیا گال کے اُس شوخ بھنور نے
جذبات میں اٹھتے ہوئے طوفان علیحدہ

0
127
حسن کے در پر کوئی حاجب نہیں
پھر بھی کوئی دید کا طالب نہیں
کب کھُلی پٹی ہوس کی آنکھ سے
جسم کہتا رہ گیا! صاحب! نہیں
حضرتِ انسان کے اعمال دیکھ
کیا یہی شیطان کے نائب نہیں؟

0
202
بس یار کچھ گذارہ ہے ماہر نہیں ہوں میں
تحدیثِ حُسن کرتا ہوں ، شاعر نہیں ہوں میں
مؤمن کو لمسِ یار کی نعمت سے کیا گریز؟
گرچہ گناہ گار ہوں ، کافر نہیں ہوں میں
لے جائیے جناب یہ بوسے کہ مفت ہیں
عاشق ہوں میں خلوص کا تاجر نہیں ہوں میں

0
315
وقتِ رخصت مری ماں نے مرا ماتھا چوما
منزلوں نے تبھی بڑھ کر مرا تلوا چوما
دی مؤذن کو دوا نیند کی اور پھر کل شب
ہم نے جی بھر کے تمہیں خواب میں دیکھا چوما
جس طرح قیمتی شے کو کوئی مفلس دیکھے
آنکھوں آنکھوں میں تجھے ہم نے سراہا ، چوما

0
152
دل دائمی حزیں کو مسرور کر دیا ہے
گو لمس کی تھکن نے ہمیں چور کر دیا ہے
اس آنکھ کے بھنور سے ہم بچ گئے ہیں لیکن
اس تل کی دل کشی نے محصور کر دیا ہے
تاثیر پوچھیے مت اس شوخ لب کی جس نے
آبِ محض کو بنتِ انگور کر دیا ہے

0
111
تم نے صرف یہ دیکھا آنکھیں نم اضافی ہیں
لے رہا ہوں میں جتنے سارے دم اضافی ہیں
تجھ کو تکنے والے سب آنکھ میں ہیں کھو جاتے
جیسے تیرے باقی سب زیر و بم اضافی ہیں
جلد ہی ہمیں سولی پر چڑھایا جائے گا
مصلحت کی دنیا میں یار ہم اضافی ہیں

0
244
تمام جسم کے اعضا میں پھول کھلتے ہیں
کسی نظر کی تمنا میں پھول کھلتے ہیں
اسی کے اذن سے آباد ہیں مساجد سب
رضا سے جس کی کلیسا میں پھول کھلتے ہیں
ازل سے جاری ہے اُن پر سلام اور درود
ازل سے اس لیے دنیا میں پھول کھلتے ہیں

0
168
حسن کو بے مہار مت کرنا
عشق سر پر سوار مت کرنا
نم رہے آنکھ میں ، مگر محدود
جھیل کو آبشار مت کرنا
قتل سے انتظار مشکل ہے
تم مرا انتظار مت کرنا

0
146
بھرم رہنے دو ، مت چھیڑو ملن کی رات کا قصہ
پریشاں زلف کی باتیں ، دل و جزبات کا قصہ
نہ پوچھو کیفیت مجھ سے خمارِ لمسِ جاناں کی
بیاں کر ہی نہیں سکتا میں ان لمحات کا قصہ
چلو مانا ہمارے میں نہیں ہے پیار کا رشتہ
مگر پھر کیا ہے آنکھوں سے تری برسات کا قصہ

0
144
ایک دل ہے وہاں منتظر ، جاؤں میں
راہبر راہ کر مختصر ، جاؤں میں
شوقِ آوارگی دے اجازت مجھے
دے اجازت مجھے اپنے گھر جاؤں میں
کر رہا بھی نہیں میری چارہ گری
چاہتا بھی نہیں چارہ گر جاؤں میں

0
114
تمہارا ہوتے ہوئے بھی تم سے جدا رہا ہوں
اور اس مرض میں کئی برس مبتلا رہا ہوں
متاعِ عمرِ رواں کچھ ایسے لٹا رہا ہوں
کسی کی خاطر کسی کے خوابوں میں آرہا ہوں
مری جفا کے ہر اک محلے پہ دسترس ہے
میں ایک مدت اسیرِ دشتِ وفا رہا ہوں

0
150
اس طرح ہوتی نہ پسپائی فصیلِ شہر پر
نیند کی دیوی تھی چِلائی فصیلِ شہر پر
کھوجتا ہوں دشتِ الفت میں کوئی شہرِ وفا
ختم ہوگی دشت پیمائی فصیلِ شہر پر
سنسنی پھیلی صفوفِ دشمنانِ عشق میں
دیکھ کر اپنی پزیرائی فصیلِ شہر پر

0
147
اپنے کمرے میں چار سُو پھیلی
تیری خوشبُو سے جاں چھڑا لی تھی
تیرے نامے جلا چکا تھا میں
تیرے تحفے ، کتاب ، گلدستے
ایک اک کر کے سب گما ڈالے
تیری چُوڑی سنبھال رکھی تھی

0
134
ہمیشہ عہدِ وفا نبھائیں گے ، چوم لیں گے
خفا ہوا تو اسے منائیں گے ، چوم لیں گے
انہوں نے رسمی سلام پر اکتفا کیا ہے
ہمیں لگا تھا گلے لگائیں گے ، چوم لیں گے
گلاب تو پھر گلاب ہے اس گلی کے کانٹے
بھی اپنی آنکھوں میں ہم بسائیں گے چوم لیں گے

0
208
سب گلے شکوے برابر ہو گئے
اور ان کے لب میسر ہو گئے
دیکھ کر میری نگاہِ شوق وہ
شرم کے مارے ٹماٹر ہو گئے
راہ چلتے ہم سے وہ ٹکڑا گئے
جسم و جاں یوں کیف آور ہو گئے

0
175
تقریر غلط ، نعرہ ءِ تکبیر غلط ہے
باطل کے لیے اٹھے تو شمشیر غلط ہے
عکاس ترے فن سے شکایت نہیں لیکن
ہنستی جو بنائی مری تصویر غلط ہے
عشاق پہ لازم ہے کہ ہوں پیکرِ تسلیم
دل بستی میں اوہام کی تعمیر غلط ہے

0
95
تمہارا عہدہ و نام و نسب اضافی ہے
تم اس کے شہر سے آئے ہوئے ہو! کافی ہے
وہ حور ہے کہ نہیں ہے ، گلاب ہے کہ تراب
یہ مسئلہ ابھی لوگوں میں اختلافی ہے
نہ جائے کوئی گھڑی اس کے ورد سے خالی
ہر ایک رنج و محن میں وہ اسم شافی ہے

0
226
رہے ہیں پہلے بہت برس آب و گل سبوتاژ
گرا کے برقِ جفا نہ کر کشت دل سبوتاژ
گنوا کے رختِ فراق پائی ہے شام قربت
جسے تغافل کرے ترا مستقل سبوتاژ
چھلک رہا تھا غرور ان کی ہر اک ادا سے
ترے تبسم سے گل ہوئے ہیں خجل سبوتاژ

0
133
کلی کھل کر ابھی مہکی نہیں ہے
ہمیں بھی وصل کی جلدی نہیں ہے
مسلسل حُسن کو تکنے کی عادت
پسندیدہ تو ہے اچھی نہیں ہے
لب و رخسار دیکھے پی رہا ہوں
وگرنہ چائے میں چینی نہیں ہے

1
269
اس کے دیکھے سے بھی گل کھِلا ہی نہیں
اس لیے موسموں سے گلہ ہی نہیں
اولیں جام سے ہی بہک جائے جو
ایسے کم ظرف کو تو پِلا ہی نہیں
مجھ سے ملنے وہ آیا بچھڑتے سمے
جانے کیا سوچ کر میں مِلا ہی نہیں

0
109
آپ نگاہِ مست سے سنگ کو آب کیجیے
تھامیے آب ہاتھ میں اور شراب کیجیے
کارِ وفا کا جب نہیں کوئی صلہ جنابِ عشق
عبد نیا تلاشیے، میرا حساب کیجیے
آ ہی گئے ہیں آپ تو اتنا کرم کہ دو قدم
چل کے ہمارے ساتھ دل سب کے کباب کیجیے

0
156
جہاں شعر میرے مجسم ملیں گے
وہاں گنگ سب ابن آدم ملیں گے
رواں سال بھی پائے رنج و الم ،اب
نیا سال آیا، نئے غم ملیں گے
مہکتے رہیں گے مسامِ بدن بھی
اگر لمس کے پھول پیہم ملیں گے

0
119
ہم اگر ڈیٹ پر بھی جائیں گے
لوگ شادی شدہ ہی سمجھیں گے
آؤ! مل کر گزاریں کوئی شام
اپنے بچوں کے نام سوچیں گے
تم ملے تو سلام سے پہلے
ہم نگاہوں سے تم کو چومیں گے

0
151
جگر میں آگ بھڑکانے لگی ہے
کسی کی یاد پھر آنے لگی ہے
مریض عشق بنتا جا رہا ہوں
طبیعت آپ پر آنے لگی ہے
اداسی پی رہی ہے خون میرا
بلائے ہجر جاں کھانے لگی ہے

0
119
میں نے کچھ الفاظ لکھے اور فیصلہ اس پر چھوڑ دیا
اس نے وہ الفاظ پڑھے اور چپکے سے گھر چھوڑ دیا
تب سے میرے ہاتھ کو تتلی پھول سمجھ کر بیٹھی ہے
جب سے تم نے ہاتھ کو میرے ہونٹ لگا کر چھوڑ دیا
کہساروں کے بیچ سنہری جھیل کنارے میں اور تم
پھر میں نے آنکھیں کھولیں اور سارا منظر چھوڑ دیا

0
125
سیاہ شب نے شجر لپیٹا
مسافروں نے سفر لپیٹا
بچھا کے یادوں کا ایک بستر
فراق شب کی بسر ، لپیٹا
زمیں پہ مدت ہوئی مکمل
کرائے پر تھے ، سو گھر لپیٹا

0
167
چہرہ ہوا گلنار ، بڑھا رنگِ حیا اور
ہاتھوں کو ترے چوم کے جب میں نے کہا! اور؟
امروز کریں وعدہ ءِ توصیل کو ایفاء
ہوتا ہے تو ہو جائے کوئی ہم سے خفا اور
آ! اتنا قریب آ! کہ بدن جزوِ بدن ہو
اے دوست! مئے لمس پلا اور ، ذرا اور

0
112
آنکھیں نہیں ہیں؟ دل نہیں؟ یا پھر جگر نہیں؟
سب کچھ ہے میرے پاس تو پھر کر حذر نہیں
اب آ چکے ہیں آپ تو رہ جائیے یہیں
دل کو مقام کیجیے صاحب ڈگر نہیں
موتی ہیں بے شمار بھلے بحر عشق میں
بہتر مگر یہی ہے کہ اس میں اتر نہیں

0
169
تیری بانہوں کی پناہوں سے جو مینٹل بھاگے
دفع ہو ، شہر سے نکلے ، کسی جنگل بھاگے
وہ اگر دھوپ میں بارش کی دعائیں مانگے
آئیں گے اس کے لیے دیکھنا بادل بھاگے
اک جھلک دیکھتے ہی روڈ پہ جانے کتنے
چپلیں چھوڑ کے پیچھے ترے پیدل بھاگے

0
172
اٹھتی ہے میرے دل میں غم کی کسک ابھی بھی
جب دیکھ لوں کہیں پر اس کی جھلک ابھی بھی
جس کوہ پر کبھی ہم بیٹھےتھے لمحہ بھر کو
اس کو مدام جھک کر چومے فلک ابھی بھی
مدت ہوئی کسی دن گزرا تھا اس گلی سے
مدہوش کر رہی ہے ہم کو مہک ابھی بھی

0
226
ہجر ہم کو ڈستا ہے ، یاد خوں رلاتی ہے
فرقوں کے موسم کی ہر ادا ستاتی ہے
چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھنا نہیں اچھا
تم جو روٹھ جاتے ہو سانس تھم سی جاتی ہے
یوں تو اس پری وش کی ہر ادا قیامت ہے
پر نگاہِ ناز اس کی برق جو گراتی ہے

0
128
فراق رت میں ہوئی جب ملال کی بارش
انہی دنوں میں ہوئی پورے سال کی بارش
یہ گلستانِ تخیل فنا نہ ہو جائے
زمینِ فکر پہ برسا جمال کی بارش
ترے سکوت سے چرکے لگیں سماعت پر
ترے کلام سے ہو اندمال کی بارش

0
157
آئنے بے لباس تکتے ہیں
ہم بچارے لباس تکتے ہیں
دیکھتے ہیں کچھ اور اہلِ عشق
عقل والے لباس تکتے ہیں
ہائے وہ جسم جس کو حسرت سے
سارے اچھے لباس تکتے ہیں

0
176
رفاقت کی تمنا ہو تو تنہا چھوڑ جاتے ہیں
اجالے چھین کر سارے اندھیرا چھوڑ جاتے ہیں
میں کہہ تو دوں اسے اپنا مگر یہ سوچ کر چپ ہوں
کہ اپنے ہی مجھے اکثر اکیلا چھوڑ جاتے ہیں
مداوائے الم سمجھا جنہیں بھی اس زمانے میں
وہ دے کر درد کا اک اور صحرا چھوڑ جاتے ہیں

0
202
زندگانی کے ہر باب میں آنکھ ہے
آنکھ میں خواب ہے ، خواب میں آنکھ ہے
جسم اپنا ہے دو کشتیوں میں سوار
سندھ میں دل ہے پنجاب میں آنکھ ہے
چاند کو بھی وہ تکتے نہیں بے حجاب
ان کو لگتا ہے مہتاب میں آنکھ ہے

0
144
کہا تھا ناں ترا ہو کر رہوں گا
تو اب کیسے جدا ہو کر رہوں گا
میں اک سوکھا شجر ہوں جانتا ہوں
تو چھو لے تو ہرا ہو کر رہوں گا
کروں گا مس تجھے اور پھر ہمیشہ
معطر پھول سا ہو کر رہوں گا

0
165
ایسا نہ سمجھ طاقتِ گویائی نہیں ہے
فطرت میں مگر میری خود آرائی نہیں ہے
وہ شخص بتا سکتا نہیں حسن کا مطلب
جس شخص نے دیکھی تری انگڑائی نہیں ہے
اچھا ہے مگر آپ سے اچھا تو نہیں گل
رعنا ہے مگر آپ سی رعنائی نہیں ہے

0
107
اداس آبشار ، کوہسار بھی اداس ہیں
درونِ کاشمیرِ دل چنار بھی اداس ہیں
گلاب ہیں اداس کہ تمہارا لمس چھن گیا
گریز پا جو تم ہوئے تو خار بھی اداس ہیں
تمہارے پاؤں چومنے کو چھت کوئی ترس گئی
سکھائے جن پہ پیرہن وہ تار بھی اداس ہیں

0
152
تاب لا سکتے ہیں گر ان کی میاں تو دیکھیے
ان کی آنکھوں سے لپکتی بجلیاں تو دیکھیے
دندناتی پھر رہی ہیں حسن کے مینار پر
آپ زلفِ یار کی بد مستیاں تو دیکھیے
آنے والی ہے بہارِ لمس باغِ جسم پر
عارضِ جاناں کی ہائے سرخیاں تو دیکھیے

0
116
مت کرے اب وہ پیش و پس جائے
اس کو جانا ہی ہے تو بس جائے
یہ کہاں کی بھلا شرافت ہے
بندہ ملنے کو ہی ترس جائے
اس مقدس شباب سے کہہ دو
میں نے کر لی نگاہ مَس جائے

0
154
رقیبوں پر تمہارے جب کرم محسوس کرتا ہوں
میں اپنی دشت آنکھوں کو بھی نم محسوس کرتا ہوں
میں بھی انسان ہوں پتھر نہیں ہوں اے مرے ہم دم
میں چپ رہتا ہوں پر سارے ستم محسوس کرتا ہوں
مجھے ڈر ہے کہیں مروا نہ دے حساسیت مجھ کو
ہر اک انساں کے غم کو اپنا غم محسوس کرتا ہوں

0
134
کچھ بجز اس کے خدا سے کبھی خواہش نہیں کی
وہ جو کہتا ہے کبھی آپ نے کوشش نہیں کی
اس کو مانگا تو نہیں مانگی دعائے جنت
اس کو دیکھا تو کسی اور کی خواہش نہیں کی
اس فسوں گر نے جونہی پھونکا طلسمِ دیدار
دھڑکنیں تھم سی گئیں، آنکھ نے جنبش نہیں کی

0
158
دیکھا تھا جس نے دانت کے نیچے دبا کے ہونٹ
بھڑکا گئے ہیں پیاس اسی اپسرا کے ہونٹ
میں نے سوالِ تشنگی اک خط میں جب کیا
بھیجے مجھے جواب میں اس نے بنا کے ہونٹ
لرزیں ذرا جو ہونٹ کوئی بات کرتے وقت
حسرت سے دیکھیں ایڑیاں اپنی اٹھا کے ہونٹ

0
158
دعائیں کرتا ، تمنا جسے بتاتا تھا
اگر نہ حال پہ ہنستا جسے بتاتا تھا
کجا گلاب کجا شوخی ءِ لبِ جاناں
نہیں ہے راکھ بھی سونا جسے بتاتا تھا
جوزخم اس نے ادھیڑے ہیں ٹھیک ہو چکے تھے
ہر اک مریض مسیحا جسے بتاتا تھا

0
115
فصیلِ قلب پہ قبضہ جمائے بیٹھا ہے
وہ ایک شخص جو میرا نہیں پرایا ہے
تمام شعر اسی کے رہینِ منت ہیں
مرے خیال پہ جس شخص کا اجارہ ہے
ہزار ذائقے ہیں اس بدن میں پوشیدہ
نہ صرف ترش نہ تیکھا نہ صرف میٹھا ہے

0
167
شمار کیجیے میرا بھی خاص لوگوں میں
کہ بانٹتا ہوں محبت کی پیاس لوگوں میں
وہ قہقہے نہ لگانے لگیں تو پھر کہنا
ہمارا ذکر تو چھیڑو اداس لوگوں میں
نصیب سامنے رکھتی جو اپنی بیٹی کا
برائی کرتی بہو کی نہ ساس لوگوں میں

0
156
ریشمی جال خوب صورت ہیں
آپ کے بال خوب صورت ہیں
کتنی دلکش ہیں آپ کی آنکھیں
آپ کے گال خوب صورت ہیں
سچ کہوں تو گلاب سے بڑھ کر
ہونٹ یہ لال خوب صورت ہیں

294
آپ سے گر نہ رابطہ ہوتا
حال دل کا بہت بُرا ہوتا
کاش مل جاتی یار کی تصویر
کچھ نہ کچھ دل کو آسرا ہوتا
تجھ کمر پر میں اک غزل لکھتا
جس کا باریک قافیہ ہوتا

0
159
وجودِ خیش خدائے سخن سمجھتے ہیں
ہمارے شہر میں دو چار لوگ ایسے ہیں
سکوت ان کا گراں بار ہے سماعت پر
سنا تھا ان کے تکلم سے پھول کھلتے ہیں
سماعتوں میں مہک گھولتے ہیں شعر ان کے
درونِ بزمِ ادب جو خموش بیٹھے ہیں

0
159
ہماری آنکھ ان سے کیا لڑی ہے
ہر اک ساعت قیامت کی گھڑی ہے
خطا چھوٹی سہی دیدارِ بے اذن
سزا لیکن بہت اس کی کڑی ہے
نہ مجھ سے چھینیے میرا تبسم
بہت مشکل سے یہ عادت پڑی ہے

0
127
کیوں ظلم کو سہتے ہو صدا کیوں نہیں دیتے
جو دل پہ گزرتی ہے بتا کیوں نہیں دیتے
ہر جور و ستم کس لیے سہہ جاتے ہو چپ چاپ
باطل کے محلات جلا کیوں نہیں دیتے
ہر بار ہی مجرم کو بچا لیتے ہیں منصف
ظالم کو سرِ عام سزا کیوں نہیں دیتے

0
219
نام اس پر تمہارا لکھا رہ گیا
تختۂِ دل تبھی تیرتا رہ گیا
تیرے گھر سادہ پانی پیا تھا کبھی
میرے ہونٹوں پہ وہ ذائقہ رہ گیا
سارے اسمائے نکرہ ہوئے کالعدم
حافظے میں بس اک معرفہ رہ گیا

0
101
گھومتے ہیں شہر میں جو لوگ بے پرواہ سے
مل رہا ہے فیض ان کو عشق کی درگاہ سے
حال کیا ہوگا حقیقت میں اگر وہ آ ملیں
گلستانِ جسم کھل اٹھتا ہے جب افواہ سے
عرضِ حالِ کربِ ہجرِ بے کراں ہے رائگاں
جب جوابِ عرض کا آغاز ہو اخّاہ سے

0
249
خیالِ یار میں مجھ کو یونہی مدہوش رہنے دو
نہ پوچھو رات کا قصہ، مجھے خاموش رہنے دو
بنا جس کے کہے جس کی میں سب باتیں سمجھتا ہوں
مجھے اس کے لیے یونہی ہمہ تن گوش رہنے دو
سُنایا وصل کا قصہ ، تو میرے یار یوں بولے
کہاں تم اور کہاں اس کی حسیں آغوش، رہنے دو

0
1587
بات ہوتی ہے تری تب ہی اثر رکھتے ہیں
قدر اشعار مرے کچھ بھی اگر رکھتے ہیں
زلف کی اوٹ میں ہے ایک شہابی صورت
یعنی اک رات کے سائے میں سحر رکھتے ہیں
لب و رخسار و جبیں دیکھنا دشوار مگر
ہم سرِ بزم ان آنکھوں پہ نظر رکھتے ہیں

0
177
اک شام باغ میں نئی کھلتی کلی ملی
خوشبو بھی اس کے پاؤں سے لپٹی ہوئی ملی
تصویرِ یار لگ گئی اک روز میرے ہاتھ
سمجھو مرے ہوئے کو نئی زندگی ملی
گردن کے دو تلوں کی ہوئی جوڑی آشکار
ان کا طواف کرتی ہوئی روشنی ملی

0
237
جسم جب تیر سے کمان ہوا
ہر تعلق بلائے جان ہوا
بے رخی نے جنم دیا ہے درد
ہجر کی گود میں جوان ہوا
میں بھی غمگین ہوں مگر جتنا
بعد تیرے مرا مکان ہوا

0
90
ادھڑ گیا ہے جو پہلے لگایا تھا پیوند
قریب آ مرے ، پھر سے لگا نیا پیوند
کسی غریب کے بوسیدہ پیرہن کی طرح
لگے ہوئے ہیں مرے دل پہ جا بجا پیوند
تمہارے ہجر نے روزن بنا دیا دل میں
تمہاری یاد نے آکر لگا دیا پیوند

0
148