حالِ دلِ تباہ سے وہ بے خبر نہ تھا
منظور جس کو ہونا مرا چارہ گر نہ تھا
لرزاں رہے ہیں بام و درِ عرش دیر تک
گریہ اسیرِ ہجر ترا بے اثر نہ تھا
حیراں ہوں کیسے ڈوب گئی کشتی اس جگہ
دریا میں جس مقام پہ کوئی بھنور نہ تھا
کافی ہے رزق حسبِ ضرورت ملا ہمیں
قسمت میں خواہشات کا اپنی ثمر نہ تھا
آثارِ شہرِ دل سے عیاں ہے ہر آنکھ پر
پہلے یہ شہرِ امن تھا ، وحشت نگر نہ تھا
بھٹکے ہوئے یقین کریں بھی تو کس طرح
رہزن کے ساتھ رہنما شیر و شکر نہ تھا
کانٹوں سے اٹ چکا ہے ، بلاؤں سے بھر چکا
وہ راستہ جو تیری کبھی رہ گزر نہ تھا
جاتے ہوئے پرندے نے کیا کہہ دیا اسے
اتنا اداس پہلے کبھی بھی شجر نہ تھا
کچھ اس لیے کیے گئے تبلیغ پیار کی
اس کے علاوہ پاس ہمارے ہنر نہ تھا
جس کو جواہرات میں تولا گیا قمرؔ
پتھر تھا اپنی اصل میں کوئی گہر نہ تھا
قمرآسیؔ

34