مجھ پہ نا مہربان چلتی ہے |
عمر سے کھینچ تان چلتی ہے |
میری نس نس میں دوڑتا ہے عشق |
جیسے رگ رگ میں جان چلتی ہے |
قدم ایسے اٹھا مری جانب |
جیسے فر فر زبان چلتی ہے |
جنسِ زن ! شکریہ ترا ، تجھ سے |
شاعری کی دکان چلتی ہے |
غیر محسوس آرزوئے لمس |
دونوں کے درمیان چلتی ہے |
ٹوک دیتا ہے نا سمجھ کوئی |
جب ذرا داستان چلتی ہے |
پھول جیسی ہے وہ مگر مرے ساتھ |
ساتھ بن کر چٹان چلتی ہے |
کوئی کرتا نہیں ہنر تسلیم |
نبض جب تک جوان چلتی ہے |
نہ خلافِ یقیں رکے ہے زیست |
نہ بقدرِ گمان چلتی ہے |
بر سرِ بزمِ دوستاں غیبت |
مان چاہے نہ مان چلتی ہے |
آہ آسیؔ مری مدینے سے |
جانبِ آسمان چلتی ہے |
معلومات