مجھ پہ نا مہربان چلتی ہے
عمر سے کھینچ تان چلتی ہے
میری نس نس میں دوڑتا ہے عشق
جیسے رگ رگ میں جان چلتی ہے
قدم ایسے اٹھا مری جانب
جیسے فر فر زبان چلتی ہے
جنسِ زن ! شکریہ ترا ، تجھ سے
شاعری کی دکان چلتی ہے
غیر محسوس آرزوئے لمس
دونوں کے درمیان چلتی ہے
ٹوک دیتا ہے نا سمجھ کوئی
جب ذرا داستان چلتی ہے
پھول جیسی ہے وہ مگر مرے ساتھ
ساتھ بن کر چٹان چلتی ہے
کوئی کرتا نہیں ہنر تسلیم
نبض جب تک جوان چلتی ہے
نہ خلافِ یقیں رکے ہے زیست
نہ بقدرِ گمان چلتی ہے
بر سرِ بزمِ دوستاں غیبت
مان چاہے نہ مان چلتی ہے
آہ آسیؔ مری مدینے سے
جانبِ آسمان چلتی ہے

28