کبھی شمس الضحیٰ کہیے ، کبھی بدر الدجیٰ کہیے |
حبیبِ خالقِ کون و مکاں ہیں مصطفیٰ کہیے |
انہی کی راجدھانی میں دیے مولا نے خشک و تر |
وہی حق دار ہیں ان کو شہِ ارض و سما کہیے |
ہے ان کی مدح خوانی اصل میں رب کی ثنا خوانی |
سو جائز ہے کہ ان کی نعت کو حمدِ خدا کہیے |
سدا کرتے رہیں یونہی خدا کے فضل کا چرچا |
خدا کے حکم کی تعمیل ہو ، صل علٰی کہیے |
انہیں اللہ نے ہر اک جہاں کا شاہ فرمایا |
سوائے رحمۃ اللعالمیں اور ان کو کیا کہیے |
کوئی نعمت نہیں سرکار سے بڑھ کر زمانے میں |
محمد سرورِ کونین کو رب کی عطا کہیے |
بجز اس کے نہیں کوئی تمنا شافعِ عالم |
بروزِ حشر اس آسیؔ کو بندہ آپ کا کہیے |
معلومات