یہ کب کہا کہ تیر نشانے پہ مت لگا
اتنا تو کر کسی کے اشارے پہ مت لگا
لمسِ جبین دے لب و رخسار پاس رکھ
نمکیں پسند ہوں مجھے میٹھے پہ مت لگا
زلفیں ہوا کے دوش پہ اڑنے سے روک لے
آب و ہوائے شہر کو نشے پہ مت لگا
کل شب کوئی قریب تھا میرے ، بہت قریب
اب مجھ کو ساری بات سنانے پہ مت لگا
اتنا چڑھا نہ سر پہ گلابوں کو اے حسیں
خوشبو تو اپنے لمس کی گجرے پہ مت لگا
آنکھوں میں یادِ یار کی بارش پہ غور کر
الزام دھندلانے کا شیشے پہ مت لگا
محشر کا غلغلہ بھی قیامت کے بعد ہے
ساری توجہ ایک تماشے پہ مت لگا
یہ عشق انفرادی عمل ہے مرا اے دوست
بہتان اس کا پورے قبیلے پہ مت لگا
تجھ کو شبِ فراق سے شکوے سہی قمر ؔ
قدغن مگر سحر کے اجالے پہ مت لگا

2
56
بہت اچھی غزل ہے آسی صاحب - داد قبول کیجیئے -

بہت شکریہ محترم ۔۔ سلامت رہیں

0