پھول کب خار کو سمجھتے ہیں
یار ہی یار کو سمجھتے ہیں
بھول جاتے ہیں اپنا جرم سبھی
غلط اخبار کو سمجھتے ہیں
سر جھکانا قبول کیوں کرتے
رسمِ دربار کو سمجھتے ہیں
دیکھتے ہیں جو ان کی آنکھوں کو
وہی منجدھار کو سمجھتے ہیں
ناسمجھ کو نہیں کوئی سمجھا
سب سمجھ دار کو سمجھتے ہیں
محترم جانتے ہیں دیپ کو ہم
اس کے ایثار کو سمجھتے ہیں
دشمنی کب سمجھ میں آتی ہے
ہم فقط پیار کو سمجھتے ہیں
سببِ جرم جانتے ہیں وہ
جو گنہگار کو سمجھتے ہیں
مرہم و زخم رازداں ہیں قمرؔ
غم ہی غمخوار کو سمجھتے ہیں

27