ایک اک کر کے مجھ میں ہوئے ضم تمام |
عمر کے ساتھ بڑھنے لگے غم تمام |
ہاتھ ، پاؤں ، جبیں ہوں کہ رخسار و لب |
پھول ہیں اصل میں وہ مجسم تمام |
ہنس رہے ہیں مرے حال پر سارے عکس |
پھٹ نہ جائے مرے ہاتھوں البم تمام |
ایک دوجے سے ناراضی اچھی نہیں |
جب کہ مر جائیں گے ایک دن ہم تمام |
شورِ گریہ سے پھٹتا ہے میرا جگر |
حسرتو ! بند کر دو یہ ماتم تمام |
مفلسی کا جب اعلاں سُنا میرے دوست |
گر گئے آستینوں سے یک دم تمام |
گفتگو سے پہنچتا نہیں ہے گزند |
کام کرتی ہے لہجے کی شبنم تمام |
پھر لہو پینے لگتا ہے کم بخت عشق |
چوس لیتا ہے آنکھوں سے جب نم تمام |
ٹھیک ہوتا نہیں زخمِ فرقت قمرؔ |
مَل چکا اس پہ ہوں لمس مرہم تمام |
معلومات