Circle Image

#مرزاخان ارشدؔ

@Mehmood

نبی کا لا کے دیں اطہر دلوں پر راج کرتے ہیں
وہ شمشیر و سناں لے کر دلوں پر راج کرتے ہیں
جھکا کر رب کے آگے سر دلوں پر راج کرتے ہیں
وہ تکبیر و ثنا لے کر دلوں پر راج کرتے ہیں
فرشتے تذکرہ کرتے ہیں جن کا آسمانوں میں
وہ دیوانے زمینوں پر دلوں پر راج کرتے ہیں

0
13
حکمِ خدا، قتال پہ ہم رشک کر گئے
فردوس کے وصال پہ ہم رشک کر گئے
قدرت نے جو نوازا ہے بدلے میں جان کے
اس شاہدِ کمال پہ ہم رشک کر گئے
اللہ نے جس کو بھیج کے وعدہ وفا لیا
اس سورۂ اَنْفال پہ ہم رشک کر گئے

0
30
جب تمنا عشقِ تاباں کی نہیں
عاشقی پھر مثلِ یاراں کی نہیں
حسرتِ دل ذوقِ قرباں کی نہیں
"دل ربائی زلفِ جاناں کی نہیں"
تیری خواہش گلِ افشاں کی نہیں
جب محبت ہی گلستاں کی نہیں

0
19
دوانہ کون کہتا ہے کہانی کون کہتا ہے
جو پلکوں سے رہے گرتا تو پانی کون کہتا ہے
بڑا یہ قیمتی کہنا زبانی کون کہتا ہے
کتابِ عشق میں دل بر و جانی کون کہتا ہے
وصالِ شب کو ویسے تو شبِ اعزاز کہتے ہیں
جدائی کی جو ہوں راتیں سہانی کون کہتا ہے

0
12
آمنہ کے دل ربا پر نعت لکھ
اُس نبی خیر الورٰی پر نعت لکھ
ختم مرسل مجتبیٰ پر نعت لکھ
شافیِ ء روزِ جزا پر نعت لکھ
چاہتا اس دل کی ہوں رعنائیاں
سن پیارے مصطفےٰ پر نعت لکھ

0
12
پہلے ہو جا پارسا پھر نعت لکھ
لفظوں کی مالا بنا پھر نعت لکھ
تھام خامہ اور خدا کا نام لے
ان کے غم میں ڈوب جا پھر نعت لکھ
دیکھ کیسے ملتی ہے آسودگی
چل نبی سے لو لگا پھر نعت لکھ

0
28
عرشیوں نے کہا مصطفےٰ آ گئے
فرشیوں کے لیے پیشوا آ گئے
شاد ہے زندگی مٹ گئے رنج و غم
جب سنا میرے خیر الوریٰ آ گئے
چاند کی چاندنی بوسہ زن ہو گئی
جو زمیں پر وہ صلِ علی آ گئے

0
9
اک صاحبِ کمال تھا ہم سے چلا گیا
الفت میں بے مثال تھا ہم سے چلا گیا
ہر بزم کا وہ حسن تھا ہر دل عزیز تھا
ارشد وہ اک ہلال تھا ہم سے چلا گیا
اوصاف میں بجا ہے کہ حق کا ظہور تھا
وہ شیخ با کمال تھا ہم سے چلا گیا

0
1
40
ظالم کا نشانہ ہیں بنائے ہوئے ہم لوگ
حق چھوڑیں کہاں اپنا ستائے ہوئے ہم لوگ
ہیں پانی کہیں شعلہ سجائے ہوئے ہم لوگ
آتے ہیں نظر ظلم مٹائے ہوئے ہم لوگ
آتا نہیں ہم کو وہ کسی ڈر سے بہانہ
بیباک محبت میں بسائے ہوئے ہم لوگ

0
15
رمضان دیکھو عاشقو مہمان آ گیا
رحمت لیے یہ صاحبو رمضان آ گیا
رمضان کا جو سننے میں اعلان آ گیا
ایسے لگا ہے وجد میں ایمان آ گیا
لینے کو آیا سحری میں عہدِ وفا مرے
افطار میں ہے کرنے کو احسان آ گیا

0
13
کبھی خود کو رلاتا ہوں کبھی میں مسکراتا ہوں
نبی کی یاد آتی ہے سلاماً جھوم جاتا ہوں
کبھی آلام ہوتے ہیں کبھی انعام ہوتا ہے
تڑپ کر یاد کے اندر انہیں خوابوں میں پاتا ہوں
امیدیں رقص کرتی ہیں وفائیں ناز کرتی ہیں
ترے نقشِ قدم پر خود کو جب بھی آزماتا ہوں

0
33
فعلن فعْل فعولن فعلن فعْل فعولن
من کی باتیں من ہی جانے من، کا من اسرار
کوئی بات نہ مخفی رہتی من کی آنکھیں چار
سکھ کی کلیاں دکھ کے کانٹے من میں کئی اَسْمار
کھوج سکو نہ من کے پردے من ایسا سنسار
من چاہے تو عرش بلائے کرنے قول قرار

0
38
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
تمنا مری ہے مری جستجو ہے
کہ دل میں مرے جو فقط اللہ ہو ہے
نہیں ہے جہاں میں کوئی سمت خالی
جو دیکھا کہیں بھی ترا رنگ و بو ہے
میں کھا کر قسم یہ تری کہہ رہا ہوں

0
44
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مری مشکل سہولت کی نذر جاتی تو اچھا تھا
رواں ہستی ہماری بھی سنور جاتی تو اچھا تھا
جو تجھ سے مل کے آ جاتی سکونِ دل بھی آ جاتا
وہی چھو کر ہوا مجھ کو گزر جاتی تو اچھا تھا
مری بے چین نظروں سے ترا مجھ سے جدا ہونا

0
2
91
ہم جب عشق کے مارے ہوتے
چاند کے گرد ستارے ہوتے
تن من آپ پہ وارے ہوتے
تخت و تاج ہمارے ہوتے
ہوتا پیارے نبی سے رشتہ
کیوں ہم غم کے مارے ہوتے

1
81
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
دعا بے رنگ ہوتی ہے مگر لاتی ہے رنگینی
مقدر کو بناتی ہے مٹائے دل کی بے چینی
اگر لانی ہے شادابی ہنر اک خاص ہے اسکا
بدن کی زر عبادت ہے دعا ہے اس کی زرینی
گنو وہ حسرتیں جو ڈوب جاتی ہیں بنا مانگے

45
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
جب سے درود پاک کا تحفہ ملا مجھے
سچ ہے کہ رحمتوں کا خزینہ ملا مجھے
ملتی رہیں ہیں شوق کو بیداریاں مری
جب سے عروجِ عشق کا مژدہ ملا مجھے
بتلاؤں کیا خمار ہے ان کے درود میں

44
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
منظرِ بزم دکھانے ہمیں لایا نہ گیا
تذکرہ میرا سرِ بزم سنایا نہ گیا
میری روداد سناتے تو قیامت ہوتی
خامۂ اشک روانی کو دکھایا نہ گیا
وہ محبت میں مری سود و زیاں لے آئے

0
46
چمک جگنو کی برقِ راہرو اقدام ہوتی ہے
قفس میں جیسے قدرِ آشیاں آرام ہوتی ہے
عجب انداز میں یہ زندگی ہر گام ہوتی ہے
بھلی معلوم ہوتی ہے کہیں آلام ہوتی ہے
نہیں ملتا کوئی تکیہ جگت ناکام ہوتی ہے
بجا ہے وہ غریبوں کی بھی دوبھر شام ہوتی ہے

0
49
مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن
بے آبرو کرے جو ایسی دل لگی سے باز آ
نہ جو کسی کے کام آئے ، زندگی سے باز آ
دیارِ دل کی راہ پر جو چل رہا ہے تو سمجھ
عیوب ترک کر سبھی بے چارگی سے باز آ
یہ صبح کی سفیدیاں وہ شام کی سیاہیاں

0
63
مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن
محبتوں کی وادیوں میں اپنا گلستاں الگ
گلوں کی ہے مہک الگ ہماری داستاں الگ
کبھی تو ہو ہی جائیگا ہمارا آسماں الگ
بنے گی اک مثال جو کریں گے ہم بیاں الگ
عدالتِ سخن کے جو سنو تو، ہم وکیل ہیں

0
25
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
محبت کی خوشبو بسائی گئی ہے
حویلی تمہاری سجائی گئی ہے
مبارک مبارک ہو شادی مبارک
جو اسلوب سنت منائی گئی ہے
کہیں پر کھلایا گیا ہے ولیمہ

0
36
مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن
محبتوں کی وادیوں میں اپنا گلستاں الگ
گلوں کی ہے مہک الگ ہماری داستاں الگ
کبھی تو ہو ہی جائیگا ہمارا آسماں الگ
بنے گی اک مثال جو کریں گے ہم بیاں الگ
عدالتِ سخن کے جو سنو تو، ہم وکیل ہیں

0
24
مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن
بے آبرو کرے جو ایسی دل لگی سے باز آ
نہ جو کسی کے کام آئے ، زندگی سے باز آ
دیارِ دل کی راہ پر جو چل رہا ہے تو سمجھ
عیوب ترک کر سبھی بے چارگی سے باز آ
یہ صبح کی سفیدیاں وہ شام کی سیاہیاں

0
40
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
مدینے کو جاتے تو کیا بات ہوتی
نگاہوں کو حاصل کرامات ہوتی
ہمیں گر مدینے میں لے جاتی قسمت
وہاں دن گزرتے وہاں رات ہوتی
مٹاتے وہاں روح کی تشنگی کو

48
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن
آپ آئے خوشی زندگی کو ملی
سچ کہوں تازگی ہر کلی کو ملی
تابشِ مصطفیٰ بندگی کو ملی
آپ کا جب مدینے میں درشن ہوا
ہر طرف نور ہی نور روشن ہوا

34
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
تشہیر ضروری ہے نہ تقریر ضروری
اِس دَور میں جینے کو ہے شمشِیر ضروری
گستاخِ نبی پھر سے سیہ کار ہوا ہے
ایسوں کو لگانی دینی ہے تحذیر ضروری
غفلت کی ردا اوڑھی ہے جو سر سے اتارو

32
مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن
وفا رائج کہانی ہو گئی ہے
محبت تو زبانی ہو گئی ہے
حیا جب آنی جانی ہو گئی ہے
شرافت پانی پانی ہو گئی ہے
مقید کر لیا سب کو ہوس نے

0
39
کتابوں میں جو افضل ہے اسے قرآن کہتے ہیں
کیا نازل قراں جس نے اسے رحمان کہتے ہیں
جو اہلِ ظرف ہوتے ہیں انہیں تلقین ہوتی ہے
امر جو شاہِ بطحا ہے اسے فرمان کہتے ہیں
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
70
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
محبت کہاں ہے کہاں ڈھونڈتے ہیں
خزاں میں گُلوں کا سماں ڈھونڈتے ہیں
سمجھ کر نہ سمجھے ابھی تک یہ ناداں
کہ شورش میں امن و اماں ڈھونڈتے ہیں
جو ننگِ وطن ہیں وہ کیا تم کو دینگے

0
28
محبت کے لُٹا موتی زباں کے شر سے باہر آ
مٹا کر نفرتیں دل سے نمودِ گھر سے باہر آ
یہ کینہ پروری تیری تجھے ہی مار ڈالے گی
اگر پہچان بننا ہے تو اس چکر سے باہر آ
تصور کی ذرا تصویر خود ہی کھینچ لے اپنی
احاطہ پہلے اپنا کر کے ان کے در سے باہر آ

45
دل جلایا مگر ___ رائگاں جل گیا
جل گیا سب غمِ بیکراں جل گیا
گھر مرا چن لیا روشنی کے لئے
روشنی تو ہوئی پر مکاں جل گیا
اس میں صیاد کا ہاتھ لگتا مجھے
میرا پھولوں بھرا گلستاں جل گیا

45
دوانہ کر کے چھوڑا ہے کسی نے
غرورِ عشق توڑا ہے کسی نے
سراپا ناز تھے ہم بھی تو لیکن
محبت میں نچوڑا ہے کسی نے
زمیں کے ہیں نہ تو ہم آسماں کے
کہاں پر لا کے چھوڑا ہے کسی نے

59
چلے ہم نوا رہ گئے ہم اکیلے
دل اکتا گیا رہ گئے ہم اکیلے
جدائی کے لمحے یہ کیسے کٹینگے
گئے دل ربا رہ گئے ہم اکیلے
کجا وہ محبت کہاں اب ملے گی
گئے باوفا رہ گئے ہم اکیلے

63
حکمِ یزداں سے ملا مدح پیمبر سے ملا
یہ محبت کا ہنر میرے مقدر سے ملا
شکر ہے اس پہ کہ ارشدؔ کو اسی در سے ملا
جو ملا مجھ کو ہنر عرضِ وہ مادر سے ملا
ہر گھڑی عشقِ محمد سے اجاگر میری
عشق کا لطف محمد کے قلندر سے ملا

65
تصور سے نہیں جاتے چھپاؤں میں فغاں کیسے
نمک چھڑکا ہے کس کس نے سناؤں رنجشاں کیسے
نہ وہ باتیں نہ وہ چاہت جدائی کی گھٹائیں ہیں
کہ ہم ہیں کس اذیت میں سنائیں داستاں کیسے
سنہرا خواب ہے دنیا کہیں خوشیاں کہیں پر غم
یہاں ہے دل لگی کیسی کریں ہم یہ بیاں کیسے

42
انکو غزل کی بحر سے ____ نقشِ جمال کر دیا
ایسا دیارِ عشق میں ____ تو نے کمال کر دیا
ہائے نگاہِ یار نے _______ دل کو نڈھال کر دیا
پھر بھی دلِ اداس نے _____ نذرِ وصال کر دیا
قبل ترے خیال سے _ عذر تھے کچھ گمان بھی
تیرے سوا خیالوں کو ___ دل نے کنگال کر دیا

0
62
اے میرے خدا ایسی مجھے تیغ عطا ہو
جس تیغ سے ہر لشکرِ کفار فنا ہو
بھولا ہوا وہ درسِ وفا پھر سے ادا ہو
دربار میں تیرے مری محبوب دعا ہو
جینے کے لیے کوئی ہنر ڈھونڈ رہا ہوں
حسرت ہے مری سر یہ مرا ان پہ فدا ہو

30
محبت کی بہاروں میں،میں ایسا دل لگا بیٹھا
پرائے درد سب اپنے ہی دامن میں چھپا بیٹھا
مری آنکھوں کے اشکوں نے کیا سیراب پیمانہ
جو چھلکا جام الفت کا دل اپنا میں لٹا بیٹھا
غرورِ حسن کو تیری وفاؤں نے مٹا ڈالا
جو تیرے غم مٹانے کو اٹھا دستء دعا بیٹھا

30
کوئی بھی مہرباں مرا تیرے سوا نہیں
قدرِ قلیل بن ترے ملتی وفا نہیں
فریاد کیوں کروں میں رقیبوں سے برملا
تو ہے جو میرے ساتھ تو خدشہ ذرا نہیں
کیسے وہ جان پائے گا الفت کی منزلیں
اس سر بلندِ عشق میں جو مبتلا نہیں

68
یہ سب بیکار ہیں یارو لب و رخسار کی باتیں
یہ کیسا عشق ہے کرتے ہو جو گلنار کی باتیں
سرور و عشق کی باتیں اصل کردار کی باتیں
چلو آؤ کریں مل کر حقیقی پیار کی باتیں
وہاں دھوکہ محبت میں یہاں غلبہ محبت میں
اُدھر ہے حسن کی پوجا اِدھر غفار کی باتیں

48
تری ہنسی مری آہوں میں جل بھی سکتی ہے
ابھی یہ بخت کی صورت بدل بھی سکتی ہے
نشانہ کیوں مری غربت کو تم بناتے ہو
مری زوال سے ہستی نکل بھی سکتی ہے
سلگ رہی ہیں جو آنکھیں تمہاری یادوں میں
کہیں تلاطمِ مستی مچل بھی سکتی ہے

26
عرضِ مصنفیں ہے بشارت کو دیکھنا
اشعار کی اے دوست مہارت کو دیکھنا
کہتا ہوں عاجزی ء جسارت کو دیکھنا
فیضانِ با ادب کی حرارت کو دیکھنا
اب ٹھہرتی کہاں پہ ہے جا کر نظر مری
الفاظ کے بیاں کی طہارت کو دیکھنا

78
ڈوب جانے کا بھلا وہ کیا نظارہ تھا کوئی
عشق کے جو بحر میں ڈوبا کنارا تھا کوئی
شکر ہے وہ مل گئے جن کا مجھے وشواس تھا
ورنہ بہہ جاتے کہیں یاں پر ہمارا تھا کوئی
جب سے ہاتھ آئی محبت ہم نے اپنا کر لیا
پہلے کیا یہ کم نہیں دل پارہ پارہ تھا کوئی

46
حضرتِ جامیؔ کے رستے ہم یہاں چلنے لگے
کوچہ کوچہ کو بکو ان کی صدا سننے لگے
عشق کے آبِ وفا سے جب وضو کرنے لگے
حضرتِ بیتاب دل کی بھی فضا بننے لگے
دیکھ لی فیضِ ادب کی جب بہارِ نو چلی
خسرویِ پارسائی سے یہ دل مچنے لگے

0
113
بنا تیرے گزرے تو کیسا ہی دم ہے
مجھے زندگی میں یہی ایک غم ہے
یہ عامی نہ سمجھو ادائے حرم ہے
بجا یہ محبت بہت محترم ہے
محبت میں سب ہیں پرانے معلم
مرا تو محبت میں پہلا قدم ہے

0
50
با حیا زرولی ، با وفا زرولی
ہر ولی کا تو ہے دل ربا زرولی
تیرے غم میں ہوئے مبتلا زرولی
ہائے ہم سے ہوا ہے جدا زرولی
تجھ پہ قربان بادِ صبا زرولی
تیری اصحاب والی ادا زرولی

0
51
اردو غزل اور تصور عشقاردو غزل یا اردو شاعری عشق کے ارد گرد گھومتی ہے۔غزل کا بنیادی موضوع عشق رہا ہے۔عشق کو زندگی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور عشق کی ناآسودگی کی وجہ سے غم وجود میں آتا ہے۔اور اسی کے ذریعے زندگی کی شناخت ممکن ہے۔شاہی درباروں میں مختلف محفلوں کا آراستہ ہونا ایک عام بات تھی کیوں کہ اس کے ذریعے خوشی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔اردو شاعری میں بھی عشق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ابتدائی شاعری میں عشق مجازی پر زور زیادہ تھا لیکن جیسے جیسے اردو شاعری کا سفر آگے بڑھتا ہے عشق حقیقی کا تصور بھی نظر آنے لگتا ہے۔اردو شاعری کے شروعاتی دور میں عشق مجازی کو زیادہ پیش کیا گیا یہی وجہ ہے کہ خاتم، آبرو اور مضمون وغیرہ کے یہاں عشق کا تصور رنگ رنگینیوں اور نشاط تک محدود نظر آتے ہیں۔لیکن میر حسن مثنوی ‘خواب و خیال’ میں عشق کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ عشق محض خوشی یا مسرت نہیں بلکہ اظہار کا ذریعہ ہے۔میر تقی میر کے یہاں بھی عشق و عاشقی کا یہی تصور پیش کیا گیا ہے۔اس میں صرف لذت و انبساط نہیں بلکہ قربانی و ایثار کا جذبہ بھی موجود ہے۔عشق کا تصور مختلف شعرا کے یہاں مختلف ملتا ہے۔میر حسن نے پوری مثنوی ‘خواب و

286
رشتہ نرالا دیکھا دیپک کا تیرگی سے
چاہے شگفتگی سے یا دل گرفتگی سے
آسودہ ہے نہ کوئی اس عہدِ زندگی سے
خوشیوں کی تشنگی سے غم کی کشادگی سے
اس جسمِ خاک میں ہے رہبر بھی راہزن بھی
ڈوبا کوئی بدی میں نیکی کی بندگی سے

0
41
عطا ہوئی ہیں رونقیں کرم ہوا کریم کا
کرم ہؤا کریم کا انعام اس عظیم کا
صدیم ہو مبارکیں کہ چاند آیا گھر ترے
نزول ہو گیا ہے جو معاویہ صدیمؔ کا
معاویہ کے نام سے جو آمدِ بہار ہے
چمک اٹھا یہ گلستاں ہے صاحبِ صدیمؔ کا

0
61
کیا ہی کرتا دلکی چاہت تھی مری
اپنا دل ہی جب عدالت تھی مری
لے گیا کوئی اڑا کر ہر خوشی
ایسی قسمت میں جو راحت تھی مری
راہ الفت میں وہ مجھسے کھو گئے
ورنہ ان سے کیا شکایت تھی مری

0
43