غمِ دل سناتے بہت دیر کر دی |
سکوں آتے آتے بہت دیر کر دی |
غموں کی گھٹائیں مرے سر پہ لیکن |
کسے ہم بتاتے بہت دیر کر دی |
میں بیمار الفت کہاں جاؤں جاناں |
کہاں دل لگاتے، بہت دیر کر دی |
محبت کی منزل بھی کتنی کھٹن ہے |
رکاوٹ ہٹاتے بہت دیر کر دی |
بہاروں کی دہلیز پر ہی قدم تھے |
تم ہوتے سجاتے، بہت دیر کر دی |
لمحے آخری ہیں ابھی آ بھی جاؤ |
یہ نظریں چراتے بہت دیر کر دی |
اکیلے اُٹھانا پڑا ہوجھ قاتل |
بناتے بناتے بہت دیر کر دی |
نہ یوں ہوتے گہرے کبھی زخم ہجراں |
یہ مرہم لگاتے بہت دیر کر دی |
نہیں بھول پایا مگر قول جاناں |
وہ وعدے نبھاتے بہت دیر کر دی |
مرے قافیے میں یہ حسرت تو دیکھو |
گلے سے لگاتے بہت دیر کر دی |
سبھی جھوٹے قصے سبھی جھوٹے ناطے |
بھلاتے بھلاتے بہت دیر کر دی |
ابھی میرے آنے کے در بند سارے |
"حضور آتے آتے بہت دیر کر دی" |
ترا مرثیہ سن کے آ جاتے ارشدؔ |
سناتے سناتے بہت دیر کر دی |
معلومات