Circle Image

عدنان انور مُغل (مِہؔر)

@Adnan.mogal

!There is more to reality and life that meets the eye

کیوں جسدِ خاکی میں مچلنے لگا ہوں؟
اُڑنے کا پھر ارادہ، کرنے لگا ہوں
پنڈولم وقت کا پلٹنے لگا ہوں
رازِ خُفتہ جہاں پے کھُلنے لگا ہوں
راہِ حق ہے تو پھر برہنہ پا سہی
جلتے انگاروں پر لو چلنے لگا ہوں

4
334
امکانِ خرقِ ادا، ممکن ہی نہیں
اندیشہِ ترکِ وفا ممکن ہی نہیں
لمحات سبھی وصل کے ہیں تِہ نشیں یاں
زائل ہوں کبھی نقشِ پا، ممکن ہی نہیں
ممکن ہی نہیں خلاصیِ مشقِ ستم
نسیانِ جورِ جفا، ممکن ہی نہیں

1
17
اب ظلمتِ راہِ عِشق مِٹانا سیکھ لیا
دلِ کشتہ کو مشعل اپنی بنانا سیکھ لیا
چشمِ نرگس کی بے رخی کا تم دیکھو اثر
ان دشت آنکھوں نے لہو بہانا سیکھ لیا
لمحے قربت کے نہ آئے میسر کچھ بھی ہمیں
دلِ مجبور نے سوز میں جینا سیکھ لیا

0
16
کیوں پیرہنِ مشرق میں ہیں، ملبوس یہ غِلمانِ مغرب؟
اِصْرافِ زرائعِ مشرق سے، بجا لاتے ہیں فرمانِ مغرب
پسماندہ افرادی قوت، سے کارِ حیاتِ قوم چلا
قابل غُراباءِ اوطانِ دیگر، سے خوں چکاں دھانِ مغرب
ہو کیمیا گر تو کشید کرے، اس لمحہِ سادہ سے نیرنگی
وقفہ تکبیر و اذاں جتنا، جیتے سب دورانِ مغرب

0
16
خوابوں سے ترے آنکھوں کو آباد کیا
راتوں نے مگر نیند کو آزاد کیا
اک وہم زرا گزرا تھا دوری کا مجھے
سب بھول گئے اتنا تجھے یاد کیا
زخمِ اوّل پر رکھا مرحم اسی نے
اک خارِ چشم چھوڑا، برباد کیا؟

0
14
گرتے کیوں ہیں بہت سنبھلنے کے بعد
بے فائدہ ہے گلہ بہلنے کے بعد
گلچیں کے قدموں سے ہے لِپٹی خوشبو
گلدستوں کو زیرِ پا مسلنے کے بعد
چشمے بھی پھوٹتے ہیں بیباں میں مگر
ہوتا ہے یہ ایڑیاں رگڑنے کے بعد

7
گو لمحہ دوری تو بہت طویل ہے
یہ ہجر ہی تو وصل کی دلیل ہے
شناسا پوچھتا ہی رہتا ہے مگر
بغیر بولے سمجھے وہ خلیل ہے

0
15
مُنسلِک ہم ہیں ایسے آپس میں
پانی اور عکس جیسے آپس میں
آسماں ایک پر جُدا رستے
چاند تارے ہیں ویسے آپس میں

0
8
آج دیتے ہیں شفا یابی کی دعا
کہتے تھے کل تک ہمیں وہ ظِّلِ خدا
نام بدلا، حلیہ بدلا، بدلے وہ خود
ہم نہیں بدلے ہو کر بھی اس سے جدا

0
8
یوں بے ترتیب دھڑکن نہ ہوتی
اور زباں پر بھی قدغن نہ ہوتی
گام دو گام ہی سنگ چلتے
گر نگہ ُانکی رہزن نہ ہوتی

0
10
اَبنائے ارض کی صورتِ زیشاں ہوں میں
کچھ خاص ہوں مطلوبِ یَزداں ہوں میں
جُرات نہیں جو تھاموں حوادث کی مُہار
مجبور تماش بینِ دوراں ہوں میں
آزادی پرست بن گیا دست پسند
شہرِ مردُم خیز ، اک زِنداں ہوں میں

0
26
کیوں سُلگتا یہ بدن بارش سے ہے؟
مسئلہ سب ہی جُڑا خواہش سے ہے
کیسے سانسوں کی روانی منسلک
رُخِ عُریاں کی ترے تابش سے ہے
کیوں سِتم گر بن گیا میرا صنم؟
عُقدہ یہ کھُلتا نہیں دانش سے ہے

0
18
طلبِ جاہ نہیں، رُتبوں کا بھی پاس نہیں
صحرا نورد کوآبِ بقا کی پیاس نہیں
کِیا ہے بھروسہ فصلِ بہار پے ہم نے مگر
سائے کی شجرِ غیر سے رکھی آس نہیں

0
18
پوچھتے نہیں کبھی، کیا ہمیں سنانا ہے
پاسداری ہے الگ، زیرِ لب فَسانہ ہے
لب ​بمُہر خوفِ آزاری سے کیے ہیں اب
سمھجو! آبلہ دہن صرف اک بہانہ ہے
فکرِ روزگار بیگانہ کیوں بنا دیا
عاشقی کا ہم سے عرصے کا دوستانہ ہے

0
14
یہ دھڑکن بھلا کیوں دل سے زائل ہو جاتی ہے
کہ دیوانگی اوساں کی قائل ہو جاتی ہے
اگر بجلی ہے اس میں تو زندہ ہے جسم بھی
ٹھہر جائے تو پھر موج ساحل ہو جاتی ہے
کہاں تاب لا سکتے تبسم کا اُن کے تم
وہ دیکھے طبیعت کیسے گھائل ہو جاتی ہے

0
11
آشُفتہ ہمیں کسی نے کیا تو ہو گا
الزام تمہیں سب نے دیا تو ہو گا
وہ بھول گئے ہوں گے مجھے بالاخر
افسوس مگر بھول پے کیا تو ہو گا
بے وجہ نہیں ہے یہ برسات رواں
کچھ تلخ سا گھونٹ پھر پیا تو ہو گا

6
43
زندانِ پیکرِ فنا کا صِلہ دے
اب نبضِ زماں کی ہم رکابی سدا دے
خود دیکھ لوں گا میں رب کو، آئندہ کبھی
خود سے مجھے ملنا ہے، اگر تو ملا دے
مقصودِ یزداں خود شناسی ہے تری
سِّر تقویمِ انساں سے پردا گرا دے

0
12
وہ دل میں رہتا ہے میرے، نظر سے دور نہیں ہے
نظر جو آتا نہیں دل کا یہ قصور نہیں ہے
نظر ہے یہ جھکی جاتی، ہیں دھڑکنیں بھی بے قابو
ہے پاس آنکھوں کو دل کو، مگر شعور نہیں ہے

0
15
سب زخم عیاں میرے، نِہاں کچھ بھی نہیں
اُلفت کے سوا تیری، یہاں کچھ بھی نہیں
ارزاں نہیں نیلِ نگہِ اُلفتِ یار
اُس کی بے نیازی کو، گِراں کچھ بھی نہیں
ہے عشق بعوض راحتِ خوابِ شب
ہے سود یہ مُضعاف، زِیاں کچھ بھی نہیں

0
23
کیوں خوش نہیں دل تحصیلِ منزل پر؟
حیراں ہے ابھی تک ختمِ مشکل پر
آنکھوں میں سجا اِمکانِ فردا کا نور
کیوں روتے ہو ناکامیِ رفتہ کل پر
انگشت بدنداں ہیں اہلِ مجلس
وہ رنگ جماتے ایسا محفل پر

0
15
کیوں نقل بِنا پہچانِ اَصل نہیں؟
وہ ہِجر سکھاتا ہے جو وَصل نہیں
ہے جانچ بھروسے کی ہی فیصلہ کُن
پیمانہِ انتخاب تَو شکل نہیں
پیماں کیے اُس نے فرطِ جوش میں تھے
وعدوں پے عمل پیرا ہو سہل نہیں

0
10
چھپایا کیا ازل میں ہے
نظر آتا اجل میں ہے
خیالِ نَو کرو شامل
ضروری ہر عمل میں ہے
تجسس زندگی بھر سے
رہا آئندہ کل میں ہے

0
15
موج چڑھتی ہے اتر جانے کیلئے
طوفاں آتے ہیں گزر جانے کیلئے
حوصلہ شکنی نہیں ہے مقصود یاں
لگتی ہے ٹھوکر سدھر جانے کیلئے
بیضوی رستے ہیں سیاروں کے سبھی
وہ اِدھر آتے، اُدھر جانے کیلئے

17
عشق میں یہ کیسا مقام ہے
آنکھوں میں اُنہی کا قیام ہے
کہتے سچ ہیں وہ دل چُرایا کب
دل ہے خالی جیسے نیام ہے
میرے عشق سے حُسن افزُوں ہے
سیدھی بات میں کیا کلام ہے

0
13
دب نہ سکی آہ میں گونج شہنائی کی
میری دہائی وجہ بن گئی رسوائی کی
اب کہ زمیں سخت ہے آسماں بھی دور ہے
ایسے میں اُمّید کم رہ گئی شُنوائی کی
قُفل سِوا کر دیا اُس نے قفَس پر مرے
بات میں نے جب کی صیّاد سے آزادی کی

0
7
آ نظر مقابل ملا کبھی
مجھ کو میری وقعت دِکھا کبھی
دیکھ سب شکستہ عمارتیں
کیا تجھے سبق کچھ مِلا کبھی
پارچے مکمل ہیں نقشہ کے
گر سبھی جگہ پر بِٹھا کبھی

14
تم سے نہ ہی ملتے تو اچھا تھا
ایسے نہ بکھرتے تو اچھا تھا
بے بس بہت ہیں پیشِ جدائی
کچھ فاصلے رکھتے تو اچھا تھا
نا پائے رفتن، نا جائے ماندن
ہم عشق نا کرتے تو اچھا تھا

0
12
کیوں نہ تیری حقیقت میں دکھاؤں
تیرے سامنے آئینہ ہو جاؤں
آگہ ہوں خُوِ صیاد سے لیکن
نالہِ تنگیِ زِنداں سناؤں
نام ریت پے لکھے تھے کبھی جو
کیا بکھیرے ہوا، خود ہی مٹاؤں

0
7
اب اور شدّت سے یاد آتی ہے
گو ایک مدّت سے یاد آتی ہے
پگھل کے بہتی ہے جاں چشم سے یونہی
بہت ہی حدّت سے یاد آتی ہے

0
9
دل ہے سب کچھ اُسے مان لوں
عقل کہتی ہے اور جان لوں
اُس میں گُم ہوں میں یا مجھ میں وہ
ٹھیک سے یہ تو پہچان لوں
--------٭٭٭-------

0
9
سوچو اُس کا بھی کیسا حال ہو گا
ہجر کے بارے کیا خیال ہو گا
کانٹوں پر ہوتی بے اثر ہے خزاں
پھولوں پے کیا سے کیا وبال ہو گا
اِتنا پُر سوز تھا فِراق اگر
کیف انگیز کیا وصال ہو گا

0
15
فلک سے جب گِرا تارا ہوا ہُوا
نِکل کے پھول سے خوشبو کا کیا ہُوا
رگوں میں بہتا لہو جیسے اس کے تھا
میں اس کی زات سے باہر سزا ہُوا

0
8
میرا اپنا ہے وہ، یُوں لگتا ہے
حیراں ہوں میں ایسا، کیوں لگتا ہے
دیتا ہے پھر زمانہ، کیوں تیری قسم
باقی ہے کوئی رشتہ، یُوں لگتا ہے
روہانسا انا شکن، جدائی پر ہے
حالِ یاراں ہمیں، زُبوں لگتا ہے

0
8
ظُلمت دبائے کہاں تک کوسِ نَمودِ سَحر کو
جذبہ اُٹھا لاتا ہے تہِ آب مدفن گُہر کو
کوتاہ بینی کی ہو سکتی وجہ آنکھوں کے جالے
الزام عائد عبث ہے شرمندہ ہوتی کُہر کو
انجم شناسی تری میرِ کارواں ہے مُسلّم
بے فائدہ مشقِ انجم بینی ہے یہ دو پہر کو

11
صَفا ہے جیسے آئینہ، یہ دل جو میرا ہے
ہے نقش ایک مُرتسِم، وہ عکس تیرا ہے
تو ڈھونڈتا ہے کیوں یہاں، پے نقشِ پائے غیر
ترے سِوا نہ کر سکا، کوئی بسیرا ہے
سرائے جیسا دِکھتا ہے، وسیع اور بلند
درونِ خانہ سادہ سا، یہ گھر بتھیرا ہے

0
15
کہنا ہو کچھ تو، کہ بھی نہ سکوں
بِن کہے پر میں، رہ بھی نہ سکوں
مژگاں پے آنسو، ہو جیسے ٹِکا
لَوٹ لوں اور، بہ بھی نہ سکوں

0
10
آتی دیارِ غیر میں کوئے یار کی خوشبو
فصلِ خزاں میں جیسے، فصلِ بہار کی خوشبو
بھول گئے ہیں وہ تو، لمحے سب قربت کے
آج بھی ہے میرے گرد، اُن رُخسار کی خوشبو
آتی جاتی بہار رہی، ترے بعد بھی لیکن
جب سے مہکی نہیں چمن میں بہار کی خوشبو

0
11
تیری قربت کا احساس دلاتی ہے
اس لیے ہی تو خلوت ہمیں بھاتی ہے
بیقراری میں آتا ہے جیسے قرار
رات میں نیند بھی تو چلی جاتی ہے
خُود کلامی میں وہ نام لیتی مرا
دفعتاً لالہ رُخسار ہو جاتی ہے

0
9
تاجِ اُلفت سجایا مُصطفٰیؐ کا
تابِعی وہ کہلایا مُصطفٰیؐ کا
موسمِ زندگی ہو کیسا مگر
اُسوہ ہے کام آیا مُصطفٰیؐ کا
روحؑ تکریم کرتے ہیں اُسکی
دین کیا اِستادہ مُصطفٰیؐ کا

8
قریب سے قریب تر
کھڑے ہیں پشت جوڑ کر
بعید تو بعید تر
جگہ پے مُنہ کو موڑ کر

0
9
ہوتا تھا پُر کشش کِتنا چمن ایسا
آج دِکھتا جواں چہرہ کفن ایسا
رعب اور دبدبہ سب کھو گیا اس سے
گو کہ دلکش بہت لگتا ہے زن ایسا
"فِکر" بھی ہے گِراں، کہنا "عمل" کا کیا
رہتا ہے تن پرستی میں مگن ایسا

0
14
فلسطیں صبر کتنا اور مگر کرے
کوئی تو اِسکے حال پر نظر کرے
دکھائی دیتا پیندہ جبر کا نہیں
مزید کتنی نسلیں در بدر کرے
زمیں نے پرورش ہزاروں سال کی
جو چاہے اب سو خرد مند بشر کرے

0
36
خوب آشیانہ سجایا ہے
آج یار کو گھر بُلایا ہے
دم بخود ہے رفتارِ زندگی
تنہا چل کے پیدل وہ آیا ہے
پڑھتے کیوں نمازِ کُسوف ہو
رُخ سے پردہ اس نے گرایا ہے

1
19
شِعارِ عشق کا عجب طریق ہو گیا
کہ ثالثی بھی شاملِ فریق ہو گیا
مُقابلے میں کھیلتا تھا ہار میں مری
وقوعِ فتح مندی پر رفیق ہو گیا
سفینہ میرا سطحِ آب آگیا مگر
بحیرہ گُربہ چشم اب عمیق ہو گیا

1
14
عرصے سے درد سہتے سہتے
درد کو خُوں میں بہتے بہتے
زخم خندہ جو دیکھا اُس نے
رہ گیا "اُف!" وہ کہتے کہتے

1
16
کبھی بے ساختہ اِدھر نظر کرے
کمانِ تیر اس کا ہے جدھر کرے
ہو موسمِ بہار کا گُماں مجھے
وہ ہنس کے رُخِ مہ جبیں جدھر کرے
نوازتا ہے بے حساب دُنیا کو
فِروزاں شب مری بھی وہ اگر کرے

2
24
اشکوں کے بہنے سے غم نہیں گُھلتے
دریا بہانے سے بھی نہیں دُھلتے
غم کے سویرے اُبھرتے ہیں ایسے
مِہر کے ڈھلنے سے بھی نہیں ڈھلتے

9
اُگلو گے زہر نہ پی سکو گے
زخموں کو تنہا نہ سی سکو گے
شادئِ مرگ کا خدشہ ہے پیش
دیکھے بنا بھی نہ جی سکو گے

9
ہم تائبِ اُلفت ہوئے بہت بار
پیماں شکن بسیار ہے حسیں یار
تدبیرِ ناصح، کیا تعویزِ شیخ
پیشِ نگاہِ نیم وا گو بیکار

22
کامرانی کی اگر تو کَلید چاہیے
طلبِ علمِ روز افزُوں شدید چاہیے
جا نہ پہنچے بامِ تہذیبِ عُریاں کو کبھی
فَن و حِرفہ اس قدر ہی جدید چاہیے
پست تر ہے کشمکش لِلبقا کا یہ ہدف
بہترین سے بہتر مزید چاہیے

0
11
رہتا ہے مرے سامنے تُو ایسے
آئینہ ترے سامنے ہو جیسے
پیچیدہ ہیں احوالِ دل بہت یہ
چاہوں بیاں کرنا کروں تو کیسے
خیرات نہیں لیتے عشق میں ہم
بتلا دو نہیں ہیں ہم ایسے ویسے

0
10
امید کے پل بھی یاد رکھنا
ہاں دید کے پل بھی یاد رکھنا
ہے زندگی دوری میں ادھوری
وہ عید کے پل بھی یاد رکھنا
ــــــ--------٭٭٭-------

0
5
کیا بگاڑا تیرا ہم نے، اپنا ہی نقصان کیا
پیار کیا نا گویا ہم نے، موت کا سامان کیا
دیکھا ماضی اپنے میں، کچھ حال پے بھی دھیان کیا
ایک جاں بچی ہے باقی، ورنہ سب قربان کیا
تیرے تہِ دام آیا، تو نے بھی انصاف کیا
تشنہ لب کو جاں بلب، اور جاں بلب بے جان کیا

0
10
دِید کو تیری سراپا آنکھ ہوئے ہیں
کیا چلے کندن تھے بننے، راکھ ہوئے ہیں
کرتے نُمائندگی ہم بے زُباں سب کی
نوکِ زُباں پر اُٹھائے ساکھ ہوئے ہیں
چھوڑتے کیوں ہم نہیں ہیں بے رُخی پر بھی؟
کوئی نہیں تم سا ہم سے لاکھ ہوئے ہیں

0
10
ٹوٹ کر چاہا میں نے ہے جس طرح
کاش چاہے مجھے بھی وہ اس طرح
اپنی فطرت کے سبھی ہیں طابع
دل کو سمجھاؤں بھلا میں کس طرح
-----------***----------

0
9
اُلفتِ اوّل کا منظر شاز تھا
بر زُباں انکار، رُخ غمّاز تھا
وہ چھُپا لیتا تھا سارے جذبوں کو
خوب کیا وہ چہرہ دھوکے باز تھا
کوئی بَر نامہ ہو، طے ہو وقت بھی
حادثًا مِلنا بھی کیا انداز تھا؟

0
9
یکساں ہوتے ہوئے بھی سب سے جُدا ہے
دوست وہ پاس مرے رہتا سدا ہے
اک ہے ہالہ جو مرے گرد بنا ہے
زات سے اُس کی پرے دِکھتی قضا ہے
مختلف مٹی سے یکسر ہے وہ ایسے
جیسے انساں نے نہیں اُس کو جنا ہے

0
11
تیرا مرا اتحاد بھی ہو نہ سکا
دل اتنا تو با مُراد بھی ہو نہ سکا
تاریخ داں بھی سبھی ہیں خاموش یہاں
تجھ سا کوئی تیرے بعد بھی ہو نہ سکا
اپنے تئیں کوشش کی سبھی تم نے مگر
یہ بات الگ میں شاد بھی ہو نہ سکا

0
8
مُنتہائے عشق کیونکر وجد کی حد تک ہے ہوتا
اِنتہائے وجد بھی تو فرد کی حد تک ہے ہوتا
سب شرائط ہیں نوِشتہ پُرزہِ قرطاس پر جب
واسطہ پھر ختم سارا خرد کی حد تک ہے ہوتا
مرضِ دانائی ہے لاحق عشق کو پڑھ کر کتابیں
وہ پریشاں فکر کی بس گرد کی حد تک ہے ہوتا

11
تھی حور مقابل دل کے مہماں کے
ثانی انکا لائے کوئی کہاں سے
شوخی کرتی ہوائیں ہیں گفتگو میں
زلفوں سے پردہ ہو تو دیکھیں کہاں سے
اظہارِ اُلفت ہے اشاروں میں مگر
اقرار کرے وہ بھی مجھ سے زُباں سے

0
11
خدا چاہیے نا صنم چاہیے
ہمیں تو فقط ہم قدم چاہیے
شکیبی ملے تشنگی کو مری
اسے ایک دستِ کرم چاہیے
سُلگنا نہیں ہجر میں عمر بھر
ہمیں ہم نشیں دم بدم چاہیے

1
19
موتی جب اندر کے ظاہر ہونے لگے
لوگوں کی نظروں میں ہم شاعر ہونے لگے
سوچا حُسن غزل میں کر دیں اُنکا بیاں
عاجز سب مہ و گل و ساغر ہونے لگے
حُسن چُرایا ہو گا اُسی پیکر سے کہیں
بے جاں مناظر کیوں بھلا ساحر ہونے لگے

0
18
ابتدا:
تیرا حُسن ابھی خُرد سال ہے
میرا عشق یہ کُہنہ سال ہے
تیرا حُسن بے پر و بال ہے
میرا عشق جیسے بلاؔل ہے
تیرا حُسن آساں سوال ہے

1
20
شب و روز کی ڈور میں ربط کرو پیدا
پھر طوفانِ شباب میں سمت کرو پیدا
جُہلاں و کینہ پرور سے تجھے کیا لینا
بڑھنا آگے ہے تو ضبط کرو پیدا
رنگیں محفلیں قصّے وہ لیلہ و مجنوں کے
علم و عمل کا مگر تم خبط کرو پیدا

0
17
جلوہ زرا اپنا تو دکھا دے
ورنہ مجھے خود سے مِلا دے
حِصّہِ انسانیت ہیں سب
کاسہِ سر میں اتنا بٹھا دے
رنگیں خُوں سے شمشیر ہوئی خوب
ہاتھوں میں ہمشیرہ کے حنا دے

0
13
آئینہِ نازک کو خبر کر رہا ہوں
بازو والے مکاں میں گھر کر رہا ہوں
نازاں ہے زندگی مقدر پے مرے
چاہت میں سانسیں جو بسر کر رہا ہوں
دل و جاں چیز ہیں کیا فکر و نظر
میں خود کو ہی تری نظر کر رہا ہوں

8
شکوک بڑھ گئے ہیں بے اثر کرے
ہو کوئی جو تری بابت زکر کرے
اے کاش بن سکوں ہر وہ نظارہ میں
وہ جس طرف جہاں پر بھی نظر کرے
کہاں سے حوصلہ لاؤں میں اس قدر
نگاہوں سے آگے جو سفر کرے

0
17
وہ میرے عشق سے مشہور ہو گئے
نتیجتا زرا مغرور ہو گئے
بڑی دبیز تھی چادر انا کی وہ
قریب جتنے تھے وہ دور ہو گئے
ہاں! ضبط جاتا رہا وضع داری پر
کہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو گئے

0
10
چاہتے ہیں ہم کتنے جُنوں سے
رکھتے ہیں وہ تشریف سُکوں سے
کر دیے پارہ سیاہی سمجھ کر
لکھے تھے خط ہم نے خُوں سے
پھر ہو گئے دل سوختہ تم گر
دو دو باتیں کریں گَردُوں سے

0
9
دو دو باتیں کریں ہم سب سے
باندھ رہے تھے ارادہ یہ کب سے
کل سرِ بزم نصیب یہ جاگا
ہو گئی پر زُباں گُنگ ادب سے
یہ آشوبِ چشم نہیں ہے
آنکھیں نم ہیں تو ہیں سبب سے

0
8
آئے تھے کرنے کیا اور کِیا کیا
ساتھ میں خواہشوں کو لے لِیا کیا
وعدوں پے فیصلے ہوتے نہیں ہیں
بُودا سہارا ہم نے لِیا کیا
دیکھ تمہیں خُوشبو اُڑی گُل سے
ہوش مرا بھی کہیں رہ گیا کیا؟

0
7
حرفِ پریشاں دیے جا رہا ہوں
آئینہ سیدھا کیے جا رہا ہوں
زِکر نہیں سنگ لایا تھا کیا
فکر ہے میں کیا لیے جا رہا ہوں
اپنی میں کہتا اُسے زندگی تھا
زندگی کے بن جیے جا رہا ہوں

0
27
خوبی کیا ایسی خاکی پوشاک میں ہے
یہ بحث ہنوز ہفت افلاک میں ہے
ہاں! قطرہِ باراں سے تمہی پوچھ لو خود
جائے آخر کیونکر پھر خاک میں ہے
ہے دل رُبا کیا خوب نِگاہِ فُسوں گر
بے مِثل کشش، دیدہِ نمناک میں ہے

0
10
غیروں کو ہم سے بیر نہیں
اتنے بھی اپنے غیر نہیں
کر چکے ہو دیدار اگر
کوچہِ جاناں ٹھیر نہیں
آج تو کہہ دو فی البدیع
دل میں رہا تو شعر نہیں

0
1
14
حال پے اپنے جب غور کیا
روئیں روئیں نے کیا شور کیا
تھے جوانی میں اعضا قوٰی
عشق نے دل ہی کمزور کیا
تھاما تھا اس نے سُرعت میں گر
ربط بھی ختم فی الفور کیا

0
9
بڑا احسن اور اکمل گیا ہوں
غمِ دوراں سے لو نکل گیا ہوں
اُمید کے خاکوں میں ڈھل گیا ہوں
سچ کہتے ہیں وہ میں بدل گیا ہوں
ہے رمق جانِ خستہ میں ابھی
ہاں ہوش ابھی ہے کھویا نہیں

0
9
شُہرہ میرا زُبانِ عام ہو گیا ہے
جس کا ڈر تھا وہی تو کام ہو گیا ہے
میری تھی سَر بلندی جس کہانی میں
اس فسانے سے وہ بدنام ہو گیا ہے
کچھ نے لی بھیک میں کچھ جینے کو سانسیں
کوئی بازار میں نیلام ہو گیا ہے

0
13
نِدا دو سَحر کو دَر اپنے وا کرے
کہ شب سے شمع کہاں تک وفا کرے
بُلاتا کیوں خِزاں کو ہے شباب خُود
مہک چمن میں رہے بس خُدا کرے
لہو غریب کا بھرتا تجوری میں
وہ راشی روپوں سے اب کیا زِنا کرے

0
8
وہ سب کو شاد کرتے ہیں
ہمیں ناشاد کرتے ہیں
مرا دل ویراں کر کے اب
کسے آباد کرتے ہیں؟
بچاتے جتنا دامن ہیں
ہم اتنا یاد کرتے ہیں

0
8
عشق سے بیزاری ہو گئی ہے
گل چیں سے گھر داری ہو گئی ہے
دل ہے اُلجھا سود و زِیاں میں
فکر بھی درباری ہو گئی ہے
چَکی پِس رہی ہے لفظوں کی
کیسی یہ سرداری ہو گئی ہے؟

0
9
ہیں خاموش وجہ سے، لب پہ نہیں ہے شکایت
سچ ہے کہ تلخ ہے، پر تلخی کی نہیں ہے اجازت
جوشِ بیاں ہو کہ زورِ قلم، جا لگے بامِ اوج
دل سے ایماں کی جاتی، رہی پر وہ حرارت
نے موقوف عدد پے، اُصولِ عروج و پستی
ہیں بسیار مسلماں، دِکھتی نہیں ہے نیابت

0
16
تھے مُبتدی کل آج ہیں استاد وہ دِکھتے
سب ٹھو کریں کھا کر ہی رہبر بھی ہیں بَنتے
سب سیکھنے والے ہیں زیادہ کوئی کم
محمود و ایّاز ایک ہی صف میں ہیں ملتے
بیضوی ہیں کر دیتے وہ دریا کے تھپیڑے
آغاز میں پتھر سبھی نو کیلے ہیں ہوتے

0
3
57
ارشد صاحبآپ سے میں جزوی طور پر متفق ہوں "عدنان صاحب میں نئے لوگوں کی تعریف کے بالکل خلاف نہیں مگر آپ انہیں انکی غلطیاں نہیں بتائیں گے اور کہیں گے بہت خوب تو یہ آپ ان کے ساتھ ذیادتی کریں گے ۔" مکمل بات یہ ہے کہ  ترقی کے لیے درستگی اور حوصلہ افزائی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر مبتدی کو ابتدا میں حوصلہ افزائی کی "زیادہ" ضرورت ہوتی ہے  بنسبت نکتہ چینی کے (5:1) سمجھ لیں تجربہ کر کے تصدیق کی جاسکتی ہے کہ ابتدا میں "محظ تکنیکی تنقید" کرنا  حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے اور بیچارہ مُبتدی تنقید کے بوجھ تلے ایسا دب جاتا ہے کہ آئندہ کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔۔۔جو کسی طور بھی منظور نہیں آج غلط لکھے گا  تو کل درست اور آئندہ خوبصورت بھی سب اسی رستے سے گزر کر آگے بڑھے ہیں چِہ کہتر چِہ مہترمیں نے اچھا شعر ڈھونڈ کر تحسین کر دی  جس کی گواہی آپ نے دے دی ہے "ہاں وہ ایک شعر ضرور اچھا ہے" آپ نے غلطیوں کی نشاندہی کر دی ہے میں نے اپنا کام کر دیا اور آپ نے اپنا۔۔۔! مقصود ہے سفر کا جاری رہنا اور کارواں

0
26
سلام زیشان صاحبplease add following words to dictionary"دکھاؤمنجھدارمُستثناشکنیںنیرنگئِآگہسُلگاتابین السطورکسَمپُسریکڑہائی، سینکڑے"خیر اندیشعدنان مغل

1
24
تنہا ہے صدا میری یہ کمزور نہیں ہے
یہ گونج ہے سچ کی، بے طرح شور نہیں ہے
ہے قدر گراں دُرِّ نایاب کی ہر چند
کوتاہ بیں ہیں اپنے کوئی اور نہیں ہے
پہلو میں حق شعلہ فِگن، فکر سے میری
پہرہ ہے زُباں پر، دل پے زور نہیں ہے

0
24
ویسے بے ساختہ کہنا غزل کہ سَحر کرنا
ہونا جو رُو برو انکے اگر تو مگر کرنا
غلطاں نہ ہو پھر راہِ واپسیں راہ گزر
مے کشی خُمِ دنیا سے رک کے اگر کرنا
جاۓ عکسِ یزداں ہے قلبِ خالص
گردابِ روزی کی اسے نہ نذر کرنا

0
10
رفقاء میں بحث، نہ غیروں سے ہم تکرار کریں
شکوے میں ہے دم تو، فلک سے اِستفسار کریں
جاں وابستہ اجناس سے، جسم ہے پیوستہ
چاہے اب لاکھ زباں سے سب انکار کریں
ہے اِدھر ترے دنیا فانی، اُدھر فردوسِ بریں
سو بجائے زِیاں کے، نفعے کا کاروبار کریں

0
23
تنہا راتوں کی بے کلی خوب جتائیں گے
شکنِ پلنگ کا سارا حساب دکھائیں گے
کیا اُفتاد پڑی مری جانِ نا تواں پر
کاندھے پر رکھ سَر، بخوشی وہ سنائیں گے
روئے سخن ہے جسکی طرف ہے وہ پُنبہ بگوش
کان لگائے ہے محفل، کس کو سنائیں گے؟

0
13
فرمائِش پر بھُلانا، مُشکل تو نہیں
یوں ظرف کو آزمانا، مُشکل تو نہیں
مُمکن ہے بدلا جانا، دشمن کا کبھی
اُلٹے پاؤں پلٹنا، مُشکل تو نہیں
گُل و بلبل خزاں گزیدہ ہیں تو کیا
چمن پھر سے سجانا، مُشکل تو نہیں

0
14
وہ بتکلف مُسکاں سجا رکھنا مشکل ہے
بارِ رواداری کو اُٹھا رکھنا مشکل ہے
صحرا میں مشکل ہے گر نخلِ زار بسانا
گلشن میں بھی سراب، بنا رکھنا مشکل ہے
ہے لبریز یہ جام نہ جائے چھلک غلطی سے
قِشرِ زمیں میں لاوا، دبا رکھنا مشکل ہے

0
9
کنارہ ہوتے ہوۓ منجھدار میں رہنا
بھلا ہے لگتا فریبِ دیار میں رہنا
ہے کیسے کھِل اُٹھتا زِکرِ یار پر چہرا
اِسے تو آتا نہیں اِختیار میں رہنا
ابھی تو چاک نہیں پردۂِ فلک بھی کیا
نہیں حِصارِ جِہاتِ چہار میں رہنا

0
14
شب بھر میں ہی لغزشیں ساری بھول گیا میں
کیسے آوارہ بانہوں میں جھول گیا میں
تھا رخصت دے چکا، مَشقِ ستم سے آخر
حسبِ توقع پھر خرقِ مَعمُول گیا میں
کچھ نہ رکھا تھا پاس فَروتنی کا مری اس نے
محفلِ ناز میں تو ہر چند فضول گیا میں

0
8
کرتے ہیں مصاحب تو اعتراض کرنے دے
میری فکر کو اب پاؤں دراز کرنے دے
ہے قدم قدم بڑھنا بے نشاں سے رستوں پر
خاکِ پا میں سانپوں کو ساز باز کرنے دے
خاکِ ماضی سے میں تعمیرِ فردا کرتا ہوں
قوم کے حوالے تازہ بیاض کرنے دے

0
29
سلام زیشان صاحبplease add following words to dictionaryدکھاؤمنجھدار

3
21
آپ تو جانِ جہاں ہونے لگے
ہم کہ گھر میں مہماں ہونے لگے
ذکر ان کا تو نہیں اتنا کرو
کہ حقیقت کا گُماں ہونے لگے
اے مرے شوق، عطا کر وہ نگاہ
روزِ محشر کا سماں ہونے لگے

0
16
ہم رکابوں میں ہم کلام ہو جاۓ
آرزو میری بھی تمام ہو جاۓ
اب زرا دم تو لینے دے، اے قضاء
اُن کے آنے کا انصرام ہو جاۓ
گھر کے رُتبے پے جا پہنچے مکاں
میرے دل میں اگر قیام ہو جاۓ

0
16
ہاں! رو برو بے حجاب دینا
وہ چاند دیں آفتاب دینا
ہمارے مقروض ہیں ابھی وہ
ہے آنسوؤں کا حساب دینا
کریں اگر وہ دروغ گوئی
تَو سامنے رکھ کتاب دینا

11
خود زبانی یہ سناتی ہے کہانی زندگی
سو ہمہ تن گوش سن ہے کیا سناتی زندگی
چھپتا پھرتا ہے تو اپنے سچ سے ساری زندگی
ایسا جینا کیسا جینا ہے یہ کیسی زندگی
سر اُٹھا کے دیکھ بھی پایا نہ رنگِ کائنات
روز گاری کی نظر ہی کر دی ساری زندگی

0
42
یہ تیری زات تیرے جسم سے ہی منہا کر دیں گے
بھری محفل میں سب کے درمیاں ہی تنہا کر دیں گے
تجھے لڑنا ہے ڈر سے خود، سمجھ لے اسکو جلدی سے
بھروسے دوسروں کے تیری ہمّت پسپا کر دیں گے

0
7
جب کہنے کو ہے کہا، کچھ بھی نہیں
تو سننے کو بھی رہا، کچھ بھی نہیں
ہے کچھ بھی نہیں ترے بعد یہاں
ہے مرنے کی اب سزا، کچھ بھی نہیں
مشروط ہے خُلد بھی سجدوں سے گر
کیا ہجر کی پھر جزا، کچھ بھی نہیں؟

0
13
دل فِدا ہے جس پے، تُو وہ تو نہیں ہے؟
ہیں قدم میرے کہیں اور دل کہیں ہے
پُر کشِش ہے کتنا، مقناطیسی ہے وہ
جتنے رُخ بدلوں میں، قِبلہ دل وہیں ہے
سب غَلط ہیں فتوے، بیجا سب ہیں الزام
نظروں سے ہو قتل، تو مُجرم نہیں ہے

0
6
جی سکے اُن کے سہارے کیوں نہیں؟
ایسے سچے پَل گزارے کیوں نہیں؟
رسیا دانش کے ہیں مکتب سب یہاں
واسطے دل کے اِدارے کیوں نہیں؟
وہ طبیعت سے مُماثل تھا بہت
مل سکے لیکن ستارے کیوں نہیں؟

0
11
جیسے گُل میں بُو ہے
مُجھ میں ویسے تو ہے
چشمِ نرگساں سے
کرتی گفتگو ہے
کیا وہ چَشمہ ہے یا
خُوشبو کا سَبو ہے

0
8
کیوں ہے تخلیق سے گریزاں بہت؟
نُسخہ نقالی ہے کہ آساں بہت
اِختلافِ نظر ہے فِکر کُشا
بن تغیر ہے سوچ یکساں بہت
کیوں جوازِ فخَر سمجھ رہے ہیں؟
عُمر بخشش میں لے کے غِلماں بہت

0
12
راکھ دانوں میں شرر سُلگاتا کیا ہے؟
مُردہ ہے آتش فِشاں جلاتا کیا ہے؟
کُندہ کر رکھا درختوں کو بھی ہے سب
نام سیّاحوں پے خطّے رکھتا کیا ہے؟
کیوں نہیں ہاتھوں میں لوحِ قدر تیری؟
روٹھی قسمت حیلوں سےمناتا کیا ہے؟

0
12
سوز و فکر ماضی و حال وہی
نبضِ دوراں وہی، مہ وسال وہی
جمع خاطر نہیں، تھے بحالِ خوشی
دیکھ ہوتے ہیں غم، سے نڈھال وہی
گہنایا لگتا ہے، حُسن جاناں ترا
عشق کے میرے ہیں، خدوخال وہی

0
9
یاد قُربت کی دلاتی ہے کیوں؟
پھر بھی خلوت ہمیں بھاتی ہے کیوں؟
منتظر رہتے ہیں دستک کے ہم
ایسے شب ساری جگاتی ہے کیوں؟
عزم ہے پھر نہ ملیں گے ان سے
خود کلامی یہ ہنساتی ہے کیوں؟

0
9
شمعِ دل اُنکی، محفل میں ہے
جیسے جاں نیم، بسمل میں ہے
غُل مچاتا ہے جیسے سکوت
اب تلک غصّہ بادل میں ہے
سُنتے ہیں سوچتا ہے ہمیں
سُنتے ہیں یار مُشکل میں ہے

0
11
اربابِ فن کو حیراں کردوں
تقدیرِ بد کو مہماں کر دوں
لکھ کے میں نیرنگئِ غمزۂِ یار
اَصنافِ ادب پے احساں کر دوں
نقشِ بتاں، چار سو ہے عیاں
کیا کیا یادوں کو منہا کر دوں

0
10
وہ بھی ہے وقت جیسا ، جو ملتا ہی نہیں ہے
ہے باب زندگی کا، جو کھلتا ہی نہیں ہے
ہیں نقشے زائچے کچھ، ہوں کھینچتا مٹاتا
سب واسطے ہے اس کے، جو دِکھتا ہی نہیں ہے
کرتا بیاں ہے واضح، جو زیرِ لب ہے پنہاں
ہے کتنا شوخ یہ دل، جو ڈرتا ہی نہیں ہے

0
15
عدم سے ہست میں لاتا
نہیں خود سامنے آتا
نظر آتا ہے قدرت میں
نہیں جلوہ کُناں آتا
ہے آتا قلبِ مومن میں
سمجھ میں کیوں نہیں آتا

0
12
ٹوٹا گھر بسا بھی سکتا ہے
رشتہ پھر، بَنا بھی سکتا ہے
چمنِ برگِ ریزہ کو گُل چیں
دوبارہ سَجا بھی سکتا ہے
دَشتِ شوق میں سیلِ ریگاں
نقشِ پا مِٹا بھی سکتا ہے

0
7
خود زبانی یہ سناتی، ہے کہانی زندگی
سو ہمہ تن گوش سن ہے، کیا سناتی زندگی
چھپتا پھرتا ہے تو اپنے، سچ سے ساری زندگی
ایسا جینا کیسا جینا، ہے یہ کیسی زندگی
سر اُٹھا کے دیکھ بھی پایا نہ رنگِ کائنات
روز گاری کی نظر ہی، کر دی ساری زندگی

0
11
سافٹ وئیر نے قمقمے کو خط کشیدہ کر دیا تھاقم قمے کو قبول کیاتھا۔ The same happened withہمشیرہ

0
2
28
موت:
اجل کا دھڑکا ہوتا ہے
لگا سب کو جو رہتا ہے
سفر میں ہوں، حضر میں ہوں
گلے میں اٹکا رہتا ہے
نیند:

2
36
کب گرا کہسار سے ہوں
ٹھوکریں پتھر سے کھائی
کھول دی آنکھیں اُنہوں نے
موند آنکھوں، کیا بھروسہ
یاد رہتا، ہے خسارہ
جو بھروسے، سے کمایا

0
10
ایماں:
دُعا بارش کی کرنے جب
کھُلے میں گاؤں آتا ہے
وہ بچہ "ایماں" والا اک
بغل میں چھتری لاتا ہے
یقیں:

0
19
اب نیا داؤ کوئی چلنا نہیں
پیترا دوسرا، بدلنا نہیں
چلنے دوں گی کوئی، بہانہ نہیں
کر کے شاپنگ میں رہوں گی جی ہاں!
اب کرونا سے پھر ڈرانا نہیں
دیکھ کر مُجھ کو سوتی، یوں ہی کہا

0
2
34

0
45
ختم ہوتی ہے کائنات جہاں
منطقی وِجداں دیکھتاہے وہاں
زَرّہ کیا اور کیا زمان و مکاں
کُلِّیاتِ ریاضی میں ہیں بیاں
حالتِ قوم تو نَگُفتہ بِہ ہے
ہر جگہ ہی مُسابِقت ہے یہاں

0
6
57
کھرے کردار سے پردہ، کُشا عُزلت میں ہوتا ہے
کبھی ثروت میں ہوتا ہے، کہیں غربت میں ہوتا ہے
ذرا سے فاصلے پے دَشت، نخلستان دِکھتا ہے
کھرے کھوٹے میں واضح فرق، بس قُربت میں ہوتا ہے
اگر سب متفق ہیں جھوٹ پر گویا کہ سچ ہے وہ
یہ ہے دَستور ظُلمت کا کہ وہ کثرت میں ہوتا ہے

4
56
جہاں انسان کی تفریق کا خناس ہوتا ہے
بدل اجناس کا بازار میں احساس ہوتا ہے
خلل پیمانے کا در لاتا مصنوعی گَرانی ہے
جھگڑتے آدمی ہیں پر سبب اِفلاس ہوتا ہے
وہ کرتے سودے بازی ہیں ، نجی اغراض کی خاطر
کہ اپنے حیواں ہونے کا، کہاں احساس ہوتا ہے!

0
40
سِکے کے دوسرے رُخ پر ہم ہیں
کس برابر میں لو بیٹھے ہم ہیں
تیرگی بھر ہے چکی دم اپنا
نئی اُمید کی صورت ہم ہیں
آسماں آج ہے نازاں دیکھو
ہٹ کے مجمع سے کوئی سَر ہم ہیں

82
احساں سے بری کر دو، کڑوا سچ نگلنے دو
رکھ لو تم خدا اپنا، میرا مجھ کو گھڑنے دو
پُوجا تھا روایت کو، کُہنہ تر حِکایت کو
عِلم تھا وہ بوسیدہ، خستہ اور نادیدہ
آبِ خِضر لاؤ اب، قوم کو پِلاؤ اب
گہری فکر ہے میری، اِس کا رنگ چڑھنے دو

0
3
48
نشہ عِنان اس قدر تھا بڑھتا ہی چلا گیا
خلیفِہ عصر خود خدا میں ڈھلتا ہی چلا گیا
سبق ہمیں ملا اگرچہ، عِجز انکساری کا
مگر خُمارِ شُہرہ تھا، کہ بڑھتا ہی چلا گیا
جیا میں اپنا حق سمجھ کے، زندگی کی ساعتیں
رقم حسا بچہ میں تھیں، وہ کھلتا ہی چلا گیا

9
126
ہے مُعمّا ابھی، وجّہِ خِلقت تری
وجّہ خِلعت تری، آدمیّت تری
رسمِ دنیا کبھی، کی نِبھا لی مگر
اِس نگر اُس نگر، اِس ڈَگر اُس ڈگر
کیوں ہے نظروں سے اوجھل حقیقت تری؟
ہے مُعمّا ابھی، وجّہِ خِلقت تری

0
3
70
جہاں انسان کی تفریق کا خناس ہوتا ہے
بدل اجناس کا بازار میں احساس ہوتا ہے
خلل پیمانے کا در لاتا مصنوعی گرانی ہے
جھگڑتے آدمی ہیں پر سبب افلاس ہوتا ہے

8
95
جہاں تک دوسرے شعر کا تعلق ہے توکسی بناء واحد پر زیادہ افراد جھگڑ سکتے ہیں۔یہاں توجہ جھگڑوں (جمع) پر نہیں بلکہ "وجہ" پر دلائی گئی ہے جو واحد ہےاور بذاتہی اس نکتہ میں تمام شعر کا حسن مرتکز ہے اگر بنظر غائر دیکھا جائےتو مزید یہ کہ نفس مضمون کی رعایت رکھتے ہوئے "آدمی" بطور جمع مستعمل ہوا ہے دوم یہ کہ جیسا آپ نے فرمایا"جھگڑتا آدمی ہے "تو سوال پیدا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔کس سے جھگڑتا ہے؟ جو مقصود محل نہیں۔ القصہ، گرامر سے اوپر اٹھ کر" بین السطور لطیف معانی" پر دھیان دینے سے "نکتہ محل" از خود "نکتہ حسن کلام" میں بدل سکتا ہے۔ہر چند قواعد گرامر اپنی جگہ مسلم لیکن یاد رہے سخن گوئی کا مقصود الفاظ و گرامر و عروض نہیں بلکہ ۔۔۔۔مطالب ہوتے ہیں۔ 

0
1
49