کیوں جسدِ خاکی میں مچلنے لگا ہوں؟
اُڑنے کا پھر ارادہ، کرنے لگا ہوں
پنڈولم وقت کا پلٹنے لگا ہوں
رازِ خُفتہ جہاں پے کھُلنے لگا ہوں
راہِ حق ہے تو پھر برہنہ پا سہی
جلتے انگاروں پر لو چلنے لگا ہوں
مہمیزِ فکر کی جو مانگی تھی دعا
حُسنِ فہمِ سخُن میں، ڈھلنے لگا ہوں
قصرِ مغرب سے سب ہیں مرعُوب یہاں
یہ اندازِ فِکر، بدلنے لگا ہوں
نبضِ عالم گِرفت میں ہے مری سب
خضرِ ثانی کے جیسے دکھنے لگا ہوں
شوقِ گل کاری کا اثر دیکھ زرا
اوراقِ گل سا میں مہکنے لگا ہوں
فکرِ فَردا کو جامِ جمشید تھما
اُمّیدِ فردا ہوں چمکنے لگا ہوں
بھرنے آئے اُڑان تم سب ہو اگر
مشقِ پرواز تو میں بھرنے لگا ہوں
صبحِ کازب میں باندھنا رختِ سفر
وقتِ اوّل پے میں نکلنے لگا ہوں
بادہ خانہ تو دِکھتا حسرت کدہ ہے
خرقِ فِطرت ہے گر بہکنے لگا ہوں
صدقِ دل سے اِعادہِ فیصلہ کیا
خوابِ غفلت سے مِؔہر ، جگنے لگا ہوں
------------***------------

4
334
بسمل شکریہ

0
ماشا اللہ!

0
محترم طالب الحق صاحب
آپکی رائے کے لیے ممنون ہوں
خوش رہیں سدا
عدنان انور مغل

0
احمد صاحب پسندیدگی کا شکریہ

0