| تو میرے قدموں میں چاہے سب آسمان رکھ دے |
| یقیں سے ممکن نہیں کہ اس کا گمان رکھ دے |
| کسی کے عکسِ جمیل کو لب کا بوسہ دینا |
| لبوں پہ جیسے صداقتوں کا نشان رکھ دے |
| سلگتے دل میں ہے آگ ایسی کہ ڈر ہے مجھ کو |
| کہ لفظ سے پہلے آنسو ہر داستان رکھ دے |
| نہ مار ڈالے تصنع یہ رکھ رکھاؤ اسے |
| ذرا تکلفِ بے جا سے تو بچاؤ اسے |
| وہ دل لگی کی صداؤں سے نابلد ہے بہت |
| پیامِ عشق ہیں غزلیں مری سناؤ اسے |
| کسی بھی بزم میں رونق نہ ہوگی اس درجہ |
| سجی ہے انجمنِ دل یہاں تو لاؤ اسے |
| اپنی غزلوں میں ایسے ڈھال اسے |
| حسن کی سمجھیں سب مثال اسے |
| سب حوادث ہیں دل شکن افسوس |
| تو بھی کرتا ہے پائمال اسے |
| اپنے بازوؤں کا سہارا دے |
| ثانی بدحال ہے سنبھال اسے |
| میں مر چکا ہوں مگر اپنے فن میں زندہ ہوں |
| خموش ہو کے بھی شعر و سخن میں زندہ ہوں |
| مزاحمت نے پرخچے اڑا دیے میرے |
| مگر میں قصۂ دار و رسن میں زندہ ہوں |
| میں اہلِ دل کی صدائے سحر میں بستا ہوں |
| میں حسن والوں کی نوکِ نین میں زندہ ہوں |
| میں ترے خواب کا حصہ نہ رہوں |
| جیسا تو چاہے میں ویسا نہ رہوں |
| تری دلچسپی کا محور نہ بنوں |
| ترا معیار نہ پیمانہ رہوں |
| خود کو بدلوں کیوں کسی کی خاطر |
| میں ہوں دیوانہ تو دیوانہ رہوں |
| زلف و لب و نگاہ کی پرچھائیاں رہیں |
| دھڑکن میں اس لیے ہی تو رعنائیاں رہیں |
| تنہائی کی شکایتِ بے جا ہو کس لیے |
| شامل تمہاری یاد میں تنہائیاں رہیں |
| بے چہرگی کا رشتہ تھا اپنوں کے درمیان |
| غیروں سے اس قدر بھی شناسائیاں رہیں |
| روپ کی دھوپ سے دل سینکنا ہے |
| آنکھ بھر بھر کے اسے دیکھنا ہے |
| ایک تصویر ہے رکھنی اس میں |
| اس کی ہر چیز کو اب پھینکنا ہے |
| ایک دلدار کا دل دھڑکے گا |
| اس قدر زور سے اب چھینکنا ہے |
| کوچۂ حرم کر دے |
| اتنا محترم کر دے |
| میرے نام سے منسوب |
| سب کو محترم کر دے |
| جی میں آئے جو کچھ بھی |
| کچھ تو اے صنم کر دے |
| دل جو کھونے لگتا ہے |
| عشق سونے لگتا ہے |
| تیرا جب خیال آئے |
| خواب بونے لگتا ہے |
| آنکھ بھیگ جاتی ہے |
| دل بھی رونے لگتا ہے |
| بات اچھی تھی کہ بری لیکن |
| کس سلیقے سے گفتگو کی ہے |
| ہم نے سوچا محال شے کیا ہے |
| اور پھر تیری آرزو کی ہے |
| ہم اسی شغل میں رہے مشغول |
| یافتہ شے کی جستجو کی ہے |
| نظر ہی بدلی تھی، دل وہی تھا |
| گو اس کے حصے میں درد ہی تھا |
| ہمیں تھے حرماں نصیب، ورنہ |
| وہ اجنبی خاص آدمی تھا |
| کسی سے قربت بڑھی تھی اتنی |
| میں اپنی نظروں میں دور بھی تھا |
| پھر صبحِ آرزو مری آہوں سے پاک ہے |
| لیکن زمانہ کتنے گناہوں سے پاک ہے |
| ہم نے تمہارے نام تو کر ہی دی زندگی |
| لیکن ہمارا عشق گواہوں سے پاک ہے |
| آنکھیں چرا رہے ہیں حسیں کائنات سے |
| کیا دل بھی دلفریب نگاہوں سے پاک ہے؟ |
| ہر کسی سے ڈرنا کیا |
| ہر قدم ٹھہرنا کیا |
| کی ہے کس قدر امید |
| اس طرح مکرنا کیا |
| زندگی بھی ہے باقی |
| موت میں ہے مرنا کیا |
| مجھے عزت سے جب عزت ملی ہے |
| میں رسوائی کو رسوا دیکھتا ہوں |
| وہ ہر پہلو سے ہے مستور لیکن |
| میں اس کو بے محابا دیکھتا ہوں |
| ہر اک خاموشی میرے کان میں ہے |
| میں ہر دھڑکن میں چہرہ دیکھتا ہوں |
| آنکھوں کا تعارف ہے ابھی دل سے بہت کم |
| یہ کم تو بہت کم ہے، مگر کم سے زیادہ |
| خوشیوں کا تماشا جو خوشیوں سے بڑھ کر |
| ہے غم تو بہت، پھر بھی نہیں غم سے زیادہ |
| ہستی کا تصور نہ کرے کاغذی تصویر |
| جب زخم لیے جاتے ہیں مرہم سے زیادہ |
| ہے خموشی میں سفر آواز کا |
| تیرا شاعر ہے الگ انداز کا |
| آپ کی خاموشی کا صدمہ ہے بس |
| ہم کہ احساں لیتے ہیں الفاظ کا |
| آپ نے وہ رنگ دیکھا ہی نہیں |
| بے نیازی میں ادائے ناز کا |
| سایۂ گیسوئے گلفام نہیں ہے ہم پر |
| اس لیے اب کوئی الزام نہیں ہے ہم پر |
| پیش بندی ہو بھلا کیسے جنوں کی ممکن |
| آج تو آمدِ الہام نہیں ہے ہم پر |
| ہم ترے کوچے میں محروم ہوئے جاتے ہیں |
| روشنی کوئی سرِ شام نہیں ہے ہم پر |
| دکھائے زندگی جب خود کو بن سنور کے مجھے |
| بدلنے ہوں گے سبھی زاویے نظر کے مجھے |
| پیام آئیں گے کس طرح دشت و در کے مجھے |
| تمام لمحے اگر روک لیں ٹھہر کے مجھے |
| میں من ہی من میں سنورنے لگا ہوں کس درجہ |
| کسی نے دیکھ لیا آج آنکھ بھر کے مجھے |
| گوائی دی ہے امیر و فقیہ شہر نے تو |
| خراب شخص بھی اچھا دکھائی دینے لگا |
| سکوتِ شام سے بیزار تھا اچانک وہ |
| غزل کے لہجے میں آیا سنائی دینے لگا |
| دکھاتا تھا جو نہیں کل تلک مجھے چہرہ |
| وہ اپنی روح تلک بھی رسائی دینے لگا |
| کھلاتی ہے وہ گل گردِ سفر آہستہ آہستہ |
| بدلتی جا رہی ہے رہ گزر آہستہ آہستہ |
| بصیرت کی ہر اک دیدہ وری ہے پیچ و تابی میں |
| جدا ہو ہی گئی دل سے نظر آہستہ آہستہ |
| بڑے بے خوف تھا ہرچند پہلے کارواں دل کا |
| اِدھر کی تیز قدمی ہے، اُدھر آہستہ آہستہ |
| اگر صف بہ صف کفر ہوتا ہے آج |
| مسلماں بھی بُنیانِ مرصوص ہیں |
| ہے ذلت کا باعث ہی ترکِ جہاد |
| مساعی لڑائی کی منصوص ہیں |
| زمیں کی خلافت کے حقدار ہم |
| خداوند کے ہم ہی مخصوص ہیں |
| جب تلک آپ کا دھیان رہے |
| دل کو قدرے تو اطمنان رہے |
| زندگی بھر جو بدگمان رہا |
| ہائے ہم اس سے خوش گمان رہے |
| آنکھیں تجھ کو ہی دیکھنا چاہیں |
| دل کو درپیش تیرا مان رہے |
| شمع میں اپنا لہو ڈالیں گے |
| اس طرح جلنے کی خو ڈالیں گے |
| کورے کاغذ پہ بنا کر چہرہ |
| رنگ چھڑکیں گے نہ بو ڈالیں گے |
| دل شرابور نہ ہو پیاس بڑھے |
| لب پہ بھر بھر کے سبو ڈالیں گے |
| حادثہ ہوتا ہے شب کے ہاتھوں |
| ایک پیغام سحر دیتی ہے |
| اے محبت میں یوں بدنام نہ تھا |
| تو ہی رسوا مجھے کر دیتی ہے |
| اے خدا تیرے نہ ہونے کی دلیل |
| ترے ہونے کی خبر دیتی ہے |
| کتنے منظر پہ نظر جائے گی |
| ایک صورت پہ ٹھہر جائے گی |
| تشنہ لب روح تڑپتی جائے |
| تشنگی لب کی اتر جائے گی |
| زندگی ساتھ کہاں تک تیرا |
| ایک دن موت سے ڈر جائے گی |
| روشن ہیں مری آنکھوں میں بے نام ستارے |
| دلچسپ جو لگتے ہیں یہ بے کیف نظارے |
| ہے حکمراں دل پر تو کوئی حسن کی ملکہ |
| ہم مملکتِ عشق کے ہیں راج دلارے |
| چھایا ہی رہے گا مرے دل پر یہ اندھیرا |
| چمکیں گے اسی طرح شبِ غم میں ستارے |
| تم کہ تہمت سے بچنا چاہتے ہو |
| روز کرتے ہو متہم مجھ کو |
| خامشی سے خدا کو ملنا ہے |
| تو صدائیں نہ دے صنم مجھ کو |
| شیخ کعبے میں ڈھونڈتا ہے خدا |
| اور لگتا ہے دل حرم مج کو |
| تدبیر کا ملاپ جو تقدیر سے کیا |
| قدرت تو چاہتی ہے کہ یوں ہو تو یوں نہ ہو |
| ہم اہلِ دل کا آج وہ اونچا مقام ہے |
| ٹھوکر میں رکھ رہے ہیں زمانہ ہی کیوں نہ ہو |
| ہم تو وفا کی جنگ اگر ہار بھی گئے |
| پرچم کسی بھی طرح مگر سرنگوں نہ ہو |