| شرمندۂ تکمیل، تمنا یہ اگر ہو |
| دے ایسی شبِ وصل کہ جس کی نہ سحر ہو |
| دیکھو تو ذرا یہ کیا مکافاتِ عمل ہے |
| خواہش کرے دل اور گنہ گار نظر ہو |
| اب مرکزِ نظارہ لب و گیسو ہیں کچھ اور |
| کیا ترے خد و خال سے تسکینِ نظر ہو |
| منزل کی تلاش ہونے کی کیا ہوں گی دلیلیں |
| راہی ترے دامن پہ ذرا گردِ سفر ہو |
| پھر ہاتفِ غیبی کی صدا ہوگی بہر گوش |
| خاموش لبوں کا بیاں جب دیدۂ تر ہو |
معلومات